اکبر بگٹی کے قتل نے بلوچ قوم پرست تحریک کو اور تیز کیا


اگست 2006 میں مشرف جنتا کے ہاتھوں ایک فوجی آپریشن میں شہید ہوجانے والے بلوچ قوم پرست لیڈر نواب اکبر خان بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ان کے والد کو قتل کر کے اسٹیبلشمنٹ نے ایک ایسی غلطی کی جس کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
یاد رہے کہ 26 اگست 2006 کو بلوچ قوم اور بلوچستان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے بزرگ سیاست دان نواب اکبر خان بگٹی کو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں تراتانی کے پہاڑوں میں شہید کر دیا گیا تھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکبر بگٹی نے گرفتار ہو کر ذلت کی زندگی گزارنے کی بجائے لڑتے ہوئے موت کو گلے لگانے کا شعوری فیصلہ کیا اور سرنڈر کرنے کی بجائے اپنی غار کو تب دھماکے سے اڑا دیا جب سکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔
نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے اپنے والد کی شہادت کے چودہ برس بعد ایک تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کی مشرف کی زیر قیادت اس وقت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا کہ نواب اکبر بگٹی کو جسمانی طور پر اپنے راستے سے ہٹانے سے صوبے میں محکومی کے خلاف جاری بلوچ قوم کی تحریک ختم ہو جائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ان سے بہت بڑی مس کیلکولیشن ہوئی۔ میرے والد کی شہادت کے بعد بلوچ تحریک توقعات سے بھی زیادہ آگے چلی گئی اور آج 14 سال بعد اور بھی شدت سے چل رہی ہے اور رکنے کا نام نہیں لے رہی۔
جب جمیل بگتی سے نواب اکبر بگٹی کی موت کی تحقیقات کے حوالے سے پوچھا گیا کہ وہ اب کہاں تک پہنچی ہیں تو انہوں نے بتایا کی اس حوالے سے کبھی کوئی تفتیش نہیں ہوئی۔ میں نے تو سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کو بھی قتل کے مقدمے میں نامزد کیا تھا۔ وہ جب عدالت میں پیشی کے لیے آتے تو ان کو چیمبر میں پٹیزاور کافی پلائی جاتی تھی اور میں جو مدعی تھا باہر بیٹھا رہتا تھا۔ کسی نے کبھی پانی بھی نہیں پلایا۔ پہلے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کیس فارغ کر دیا۔ پھر ہم بلوچستان ہائی کورٹ چلے گئےاور اپیل دائر کردی، جہاں مجھے طلب کیا گیا نہ میرا بیان ریکارڈ ہوا۔ یہ بات میں نے اس وقت بھی پریس کے سامنے کہی تھی کہ دنیا دیکھ لے ہماری عدلیہ کتنی آزاد ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کبھی نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کو سزا مل پائے گی، تو جمیل بگٹی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کبھی ایسا ہو پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن حماد، جو سوئی میں ڈاکٹر شازیہ کے ریپ کیس میں ملوث تھا، اس کے حق میں پرویز مشرف نے انکوائری سے پہلے ہی وردی میں آکر ٹی وی پر اعلان کر دیا کہ ‘کیپٹن حماد از ٹو ہنڈرڈ پرسنٹ انوسینٹ۔’اور جب نواب اکبر بگٹی نے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی تو ان کو غدار وطن قرار دے کر ختم کردیا گیا۔
جب جمیل بگٹی سے سیاست میں نہ آنے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہاں تو سیاست ہے ہی نہیں۔ سیاست تو کسی مہذب معاشرے میں ہوتی ہے، ہمارا معاشرہ مہذب نہیں۔ یہاں اب سیاست کہاں رہ گئی۔ پرانے زمانے کی سیاست میں لیڈر حق اور سچ کی بات کرتے تھے لیکن آج جو ایسا کرے وہ غدار ٹھہرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بلوچستان کے حوالے سے دیکھیں تو میں نے بچپن سے دیکھا ہے کہ جو تین سردار تھے وہ غدار تھے۔ سارے صوبے کی نااںصافی، تعلیم کمی، ناخواندگی کا ذمہ دار بھی انہی سرداروں کو ٹھرایا جاتا تھا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ باقی جو سردار 1947 سے اسٹیلشمنٹ کی گود میں بیٹھے ہیں ان کے علاقے میں نہ کوئی ہسپتال ہے، نہ سکول، نہ کالج۔ پھر میرے والد نے پارلیمانی سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا جس کا انجام بھی ہم سب نے دیکھا کہ پارلیمانی سیاست میں آپ کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اگر سچ کہوں تو مجھے پاکستان کی سیاست سے ہی نفرت ہے۔
جب جمیل بگتی سے پوچھا گیا کہ نواب اکبر بگٹی کا کون سا مشن ہے جسے آپ سمجھتے ہیں کہ مکمل ہونا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ میرے والد کا مشن ایک آدمی کا نہیں بلکہ ایک قوم کا مشن ہے۔ اور بلوچ قوم اس مشن پر چل پڑی ہے، اس کے بعد جو پلیئرز ہیں وہ خود ہی تعین کریں گے کہ کیسے چلنا ہے۔ وہ زمینی حقائق دیکھتے ہیں، کبھی تیز اور کبھی آہستہ چلتے ہیں، کبھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور کبھی آگے آ جاتے ہیں۔ صورت حال تبدیل ہوتی رہتی ہے، سب ایک جیسا نہیں رہتا۔ میرے والد کا مشن تو چل رہا ہے۔ البتہ یہ کہاں جاتا ہے اور اس کی کامیابی کے اثرات کب سامنے آئیں گے اس پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ نواب اکبر بگٹی کی خلاف فوجی آپریشن سے پہلے مشاہد حسین، چوہدری شجاعت حسین اور اکبر بگٹی کے مابین مذاکرات کے باوجود معاہدہ کیوں نہ ہوا تو جمیل بگٹی نے کہا کہ مشرف اس معاہدے کے حق میں نہیں تھا۔ اس نے ہمارے درمیان معاہدہ نہیں ہونے دیا، جب مشاہد حسین اور چوہدری شجاعت نے میرے والد کے قتل اور مشرف کے رخصت ہو جانے کے بعد یہی بات تسلیم کی تو میں نے ان کو بذریعہ پریس جواب دیا تھا کہ اگر آپ میں ذرا سی بھی اخلاقی جرات ہوتی تو آپ تب کرتے جب وقت تھا۔ میں نے کہا کہ اب جب مشرف کی وردی اتر چکی ہے تو آپ کی غیرت جاگی ہے اور اب آپ سچ بتا رہے ہیں کہ وہ معاہدے کے خلاف تھا۔
جب جمیل بگٹی سے پوچھا گیا کہ صرف ایک بلوچ قوم پرست لیڈر نواب اکبر بگٹی کو ہی نشانہ کیوں بنایا گیا تو انہوں نے کہا ان کا مقصد ہی میرے والد کو نشانہ بنانا تھا۔ ان لوگوں نے پہلے بھی انہیں مادنے کی کوشش کی لیکن زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے ہمیں اور ہمارے والد کو مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب پوچھا گیا کہ کیا اتنے سالوں بعد ڈیرہ بگٹی کی صورت حال معمول پر آسکی ہے تو جمیل بگٹی نے انکشاف کیا کہ مجھے وہاں کی صورت حال کا کوئی علم نہیں کیوں کہ میں وہاں 14 سال سے نہیں گیا۔ میں نومبر 2005 میں میں علاج کے لیے کراچی گیا تھا اس کے بعد مجھے ڈیرہ بگٹی جانےکی اجازت نہیں ملی۔ جب پوچھا گیا کہ کیا بگٹی کے قتل کے واقعے نے بگٹی قوم کا شیرازہ بکھیردیا ہے تو جمیل بگٹی نے کہا کہ نقصان صرف بگٹی قوم کا نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کا ہوا۔ سارے بلوچ آج تک اس کا نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ہزاروں افراد اغوا ہوئے، یہ سب کچھ اسی واقعے کے بعد شروع ہوا۔ ہزاروں افراد لاپتہ اور ہزاروں مارے گئے، ڈیرہ بگٹی اوریہاں مستونگ کے قریب کئی جگہوں پر اجتماعی قبریں دریافت کی گئیں۔ یہ تو بلوچ قوم کا نقصان ہے، صرف بگٹی قوم کا تو نہیں، بگٹی بھی تو بلوچ ہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button