مولانا مسعود اظہر کی وجہ سے پاکستان دوبارہ مشکل میں


بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے فوج پر ہونے والے پلوامہ خود کش حملے کی فرد جرم عدالت میں داخل کیے جانے کے بعد اب اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ انڈیا پاکستان سے کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی حوالگی کا مطالبہ کرے گی جسے پلوامہ حملے کی چارج شیٹ میں مرکزی ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
بھارتی ایجنسی کی جانب سے دائر کردہ فرد جرم میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے علاوہ ان کے بھائی اور نائب مولوی عبدالرؤف اصغر اور کزن عمار علوی بھی شامل ہیں۔ فردِ جرم کے مطابق یہ تمام ملزم پاکستان میں موجود ہیں جب کہ مسعود اظہر کے سابق محافظ محمد اسماعیل پر شبہ ہے کہ وہ بھارت میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ فرد جرم میں چھ کشمیریوں کے نام بھی شامل ہیں، جن پر حملہ کرنے والوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا الزام ہے۔ مجموعی طور پر 19 ملزموں کے خلاف ساڑھے 13 ہزار صفحات پر مشتمل چارچ شیٹ داخل کی گئی ہے، جس کے مطابق 19 ملزموں میں سےایک خود کش بمبار کے علاوہ چھ مارے جا چکے ہیں جب کہ چھ گرفتار اور چھ مفرور ہیں۔مارے جانے والوں میں مولانا مسعود اظہر اور عبدالرؤف کا بھتیجا محمد عمر فاروق بھی شامل ہے جو کہ مبینہ طور پر خود کش کار چلا رہا تھا۔
فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ بھارت پاکستان سے جشن محمد کے سربراہ اور ان کے ساتھیوں کی حوالگی کا مطالبہ کرے گا۔ ایسا کرنے سے پاک بھارت کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا چونکہ حکومت پاکستان کا بھارت کے ساتھ دہشتگردی کے ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔
یاد رہے کہ 14 فروری، 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ کے قریب جموں سری نگر شاہراہ پر ایک کار بم کے ذریعے بھارتی فورسز کی بھری ہوئی بس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 40 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ حملے کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا، لیکن پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
حملے کے بعد پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے نئی دہلی کی جانب سے قابلِ کارروائی معلومات شیئر کرنے کی شرط پر تحقیقات میں معاونت کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن بھارت نے ایسی کوئی معلومات شیئر نہیں کیں۔ دوسری طرف بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ نے ایک سینیئر سرکاری افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پلوامہ حملے میں استعمال ہونے والا بارود عام نہیں تھا بلکہ جنگوں میں استعمال ہونے والا مخصوص مواد تھا جو صرف فوجی اسلحہ ڈپوز میں موجود ہوتا ہے۔
بھارتی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق کار میں بھرا جانے والا بارود امونیم نائٹریٹ، نائٹرو گلیسرین اور آر ڈی ایکس پر مشتمل تھا جبکہ فرانسک رپورٹ کے مطابق حملے میں تقریباً 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا۔ لہذا ایسا ممکن نہیں کہ اس طرح کا بارود اتنی بھارہ مقدار میں پاکستان سے مقبوضہ کشمیر پہنچایا جاسکے جہاں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج موجود ہے۔ یعنی اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ یہ بارود بھارتی فوج کے زیر استعمال بارود خانے سے ہی نکالا گیا تھا۔ اب یہ حرکت دہشتگردوں نے کی تھی یا بھارتی سکیورٹی فورسز کے لوگوں نے، یہ طے ہونا ابھی باقی ہے۔
بھارتی ادارے کی فرد جرم کے مطابق مولانا مسعود اظہر نے میبنہ طور پر اپنے بھتیجے عمر فاروق کو 2018 میں براہ راست ذمہ داری دی تھی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر سازش کو عملی شکل دینے کی نگرانی کرے۔ فرد جرم میں ضلع پلوامہ کے علاقے کاکا پورہ سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ انشا جان اور اس کے والد طارق احمد شاہ کا نام بھی ہے۔ باپ بیٹی کو اس سال مارچ  میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جیش محمد نے عادل احمد ڈار کی جو ویڈیو جاری کی تھی وہ مبینہ طور پر انہی کے گھر میں بنائی گئی تھی۔
مسعود اظہر کے خلاف فرد جرم میں حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ بھارتی فرد جرم کے مطابق پلوامہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ’ناقابل تردید‘ شواہد موجود ہیں جو  کال ریکارڈنگ، واٹس ایپ چیٹنگ اور جیش محمد کے پاکستانی کمانڈر عمر فاروق کے موبائل فون سے ملنے والے ثبوتوں پر مشتمل ہیں۔ تاہم پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ حرکت المجاہدین سے تعلق رکھنے والے مولانا مسعود اظہر کو 2000 میں ایک بھارتی طیارہ ہائی جیک کیے جانے کے بعد مسافروں کی رہائی کے بدلے سری نگر جیل سے آزاد کروایا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے پاکستان پہنچتے ہی جییش محمد کے نام سے ایک جہادی تنظیم کی بنیاد رکھ دی تھی جس کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی تسلط سے نجات دلانا تھا۔ لیکن برسوں پہلے جیش محمد کے چند باغی جہادیوں کی جانب سے پرویز مشرف پر راولپنڈی میں کیے گئے اوپر تلے دو خودکش حملوں کے بعد حکومت پاکستان نے اس تنظیم پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تب سے مولانا مسعود اظہر بہاولپور کے ماڈل ٹاؤن علاقے میں جیش محمد کے ہیڈ کوارٹر تک محدود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button