اگر والدین زندہ نہ ہوں تو بچے کا شناختی کارڈ کیسے بنے گا؟

کراچی کی رہائشی شازیہ اپنی بھانجی کا ب فارم بنوانے کےلیے اِن دنوں نادرا اور عدالتوں کے چکر لگا رہی ہیں۔ شازیہ جیکب لائن کے علاقے میں رہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بھانجی ابھی تین ماہ کی تھی تو اس کے والد اور کچھ عرصے بعد سنہ 2011 میں اس کی والدہ بھی فوت ہو گئیں۔
شازیہ کی بھانجی مقامی اسکول میں زیر تعلیم ہیں اور رواں برس انہوں نے نویں جماعت کا امتحان دینا ہے۔ درحقیقت تعلیمی بورڈ کے اس امتحان اور قانون سے ناشناسائی کے باعث شازیہ کو عدالتوں اور نادرا دفاتر کے چکر لگانے پڑے ہیں۔ شازیہ کے ساتھ موجود ان کی بھانجی نے بتایا کہ ان کے اسکول نے کہا تھا کہ امتحانی فارم کے ساتھ طالبعلم کا ب فارم اور والد کے شناختی کارڈ کی کاپی بھی لگے گی اور امتحانی فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ 15 جنوری ہے۔ اسکول کی جانب سے یہ بتائے جانے کے بعد شازیہ اپنی بھانجی کے ہمراہ کراچی کے علاقے صدر میں واقع نادرا کے دفتر گئیں جہاں بقول شازیہ حکام نے کہا کہ بچی کے والدین کو لے کر آئیں۔ شازیہ بتاتی ہیں کہ میں نے اپنی بھانجی کے والدین کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹس بھی دکھائے مگر وہ نہیں مانے۔ شازیہ پولیو مہم کے دوران یومیہ اجرت پر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس کے بعد نادرا کے کئی چکر لگائے مگر دفتر میں موجود عملہ ہر بار یہی کہتا کہ والدین کو لے کر آئیں اور اگر وہ نہیں ہیں تو بچی کا ‘سرپرست’ عدالت سے حکم نامہ لے آئے جس کی بنیاد پر ب فارم جاری کیا جائے گا۔ تاہم نادرا کی پالیسی میں موجود قانونی تقاضہ پورا کرنے کے بجائے شازیہ نے عدالت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سندھ ہائی کورٹ میں شازیہ کی جانب سے آئینی درخواست دائر کی گئی جس میں نادرا اور محکمہ تعلیم کو بھی فریق بنایا گیا۔ اس درخواست میں کہا گیا کہ محکمہ تعلیم کی یہ پالیسی ہے کہ انرولمنٹ کےلیے قومی شناختی کارڈ لازمی ہے اور اگر کوئی طالب علم 18 سال سے کم ہے تو اس کےلیے ب فارم لازمی ہے، جس کے حصول کےلیے درخواست گزار نے نادرا آفس سے رابطہ کیا تھا۔ عدالت سے گزارش کی گئی کہ نادرا کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ ب فارم جاری کرے تا کہ بچی اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ نادرا کے وکیل نے حاضر ہو کر کہا کہ اگر مسمات شازیہ بچی کے ساتھ نادرا کے دفتر میں آئیں تو ‘مطلوبہ قانونی تقاضے’ مکمل کرنے کے بعد انہیں ب فارم جاری کر دیا جائے گا۔ اور درحقیقت قانونی تقاضہ یہ تھا کہ شازیہ مقامی عدالت سے رجوع کرتیں اور بچی کے ‘سرپرست’ ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرتیں۔ 31 دسمبر کو یہ حکم نامہ جاری کیا گیا اور 10 روز میں یہ کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ چونکہ شازیہ نے عدالت کے حکمنامے کے باوجود سرپرست ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا ‘قانونی تقاضہ’ پورا نہیں کیا اس لیے انہیں اوپر بیان کردہ عدالتی حکم کے باوجود ب فارم جاری نہیں کیا گیا، اور اسی بنیاد پر شازیہ نے سندھ ہائی کورٹ میں نادرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی جس پر گزشتہ روز سماعت ہوئی۔ نادرا کے وکیل نے واضح کیا کہ نادرا پالیسی کے تحت ب فارم کےلیے والدین کا آنا ضروری ہے اور اگر والدین حیات نہیں تو پھر عدالتی طور پر مقرر کیا گیا سرپرست یہ درخواست دے سکتا ہے۔ اس توہین عدالت کے مقدمے کو نمٹاتے ہوئے عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ سرپرست کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کےلیے ماتحت عدالت سے رجوع کریں۔ نادرا کی پالیسی کے مطابق ب فارم کے حصول کےلیے بچوں کے والدین یعنی ماں یا باپ میں سے کسی ایک کو بچے کے ہمراہ آنا پڑتا ہے اور بائیو میٹرک تصدیق کے بعد بچے کو ب فارم کا اجرا کر دیا جاتا ہے۔ قانون کے مطابق اگر کسی بچے کے والدین نہیں ہیں تو بچے کی کفالت کرنے والے رشتہ دار یا کسی اور شخص کو عدالت سے ‘سرپرست’ ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑتا ہے جس کی بنیاد پر ب فارم یا شناختی کارڈ کا اجرا کر دیا جاتا ہے۔ نادرا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کے اجرا، توسیع اور ترمیم کےلیے والدین یا شجرہ نسب میں شامل فرد کا آنا ضروری ہے اور اگر کسی وجہ سے والدین موجود نہیں ہیں تو دونوں میں سے کسی ایک کے شناختی کارڈ کے اصل کے ساتھ نادرا کے دفتر میں جائیں، انہیں سیکنڈری تصدیق کسی 17 گریڈ کے افسر سے کرانا ہوگی۔ موجودہ عدالتی نظام کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن بھی ہے اور نہیں بھی۔ ماضی میں اس نوعیت کے کیسز کرنے والی ایڈووکیٹ صدف جمیل نے بتایا کہ مقامی عدالت سے سرپرست کا سرٹیفکیٹ لینے میں کم سے کم دو ماہ اور یہاں تک کہ ایک سال بھی لگ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہوئے جج بچے کی فلاح اور نگہداشت کو مدنظر رکھتے ہیں اور سرپرست ہونے کے دعویدار سے ضمانتی بانڈ بھی طلب کر سکتے ہیں، جب کہ سرپرست پر دیگر پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں جیسا کہ وہ عدالت کی اجازت کے بغیر بچے کو ملک سے باہر نہیں لے جا سکتے وغیرہ۔ انہوں نے بتایا کہ ‘عموماً ایسے کیسز دو ماہ میں نمٹ جاتے ہیں اگر کوئی قانونی پیچیدگی نہ ہو، وکلا چھٹیوں پر نہ ہوں اور عدالت میں جس تاریخ کو کیس لگا ہے اس روز اس کی سماعت بھی ہو۔’
‘بعض اوقات وکلا ہڑتال پر ہوتے ہیں یا جج اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ تاریخیں ملتی رہتی ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض اوقات یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں سائل کو ایک سال کا عرصہ لگا۔’ نادرا ترجمان نے بتایا کہ وہ بچے جن کے نہ تو والدین ہیں اور نہ ہی رشتہ دار جو اس کے سرپرست بن سکیں تو اس صورت میں یتیم یا لاوارث بچوں کو یتیم خانوں کی وساطت سے ب فارم کا اجرا کیا جاتا ہے۔ ایسے کیسز میں یتیم خانہ ہی سرپرست ہوتا ہے اور یہ اقدام سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اٹھائے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ ایدھی فاونڈیشن سمیت ملک کے کئی اداروں نے یتیم بچوں کی رجسٹریشن کےلیے ایک طویل قانونی جدوجہد کی تھی جس کے بعد یتیم بچوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ اور قانون میں ترامیم کی گئیں تھیں۔
