میں نے استعفیٰ دیا نہیں بلکہ مجھ سے استعفیٰ لیا گیا

وزیراعظم عمران خان کے سابقہ ترجمان اور انکے معاون خصوصی ندیم افضل چن نے اب یہ انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دیا نہیں بلکہ انہیں استعفی دینے پر مجبور کیا گیا.
اس بات کا انکشاف ندیم افضل چن نے ان وفاقی وزرا کے سامنے کیا ہے جنہوں نے انہیں استعفے واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں چن کا استعفی موصول ہونے جانے کے باوجود ابھی تک اسے قبول نہیں کیا گیا اور نہ ہی کابینہ ڈویژن نے ابھی تک چن کو انکے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کیا ہے۔ دوسری طرف جب چند وفاقی وزرا نے یہ سمجھ کر ندیم افضل چن کو منانے کی کوشش کی کہ انہوں نے وزیر اعظم سے ناراض ہوکر استعفی دیا ہے تو ان پر یہ منکشف ہوا کہ ان سے تو استعفی مانگا گیا تھا اور وہ بھی وزیراعظم کے ایما پر۔ چن کا کہنا یے کہ انہوں نے اس لیے فوری استعفیٰ دے دیا کہ کہیں وزیراعظم ان خود برخاست نہ کر دیں۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے ایک حالیہ اجلاس میں اپنے ان وزرا اور مشیروں پر سخت تنقید کی تھی جو کہ ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں اور ان کے ایجنڈے سے انحراف کرتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم کا اشارہ ندیم افضل چن کی طرف تھا جنھوں نے کوئٹہ دھرنا کے حوالے سے وزیر اعظم کے موقف سے مختلف موقف اپنایا تھا اور شیعہ ہزارہ برادری سے معافی مانگی تھی۔
کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر ہونے والے حملے اور اس واقعے پر احتجاج اور مظاہرین کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کوئٹہ کے مطالبے کے بارے میں ندیم افضل چن اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کے درمیان سوشل میڈیا پر خاصی گرما گرمی بھی ہوئی تھی اور دونوں نے ایکدوسرے کی رائے سے سخت اختلاف کیا تھا۔ شہباز گل نے ندیم افضل چن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتی وزراء کا مصلحتوں کی خاطر پوزیشن نہ لینا آسان ترین کام ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ تمام تر تنقید کے باوجود وہ مشکل ترین حکومتی موقف اپنایا جائے جو کہ وزیراعظم کا ہوتا ہے۔
مستعفی ہونے والے ندیم افضل چن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اصل میں ان سے استعفی مانگا گیا تھا جس کی بنا پر اُنھوں نے استعفی دے دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ویسے بھی اگر پارٹی کی لائن کے خلاف چلا جائے تو استعفی دینا بنتا ہے۔ یاد رہے کہ ندیم افضل چن حکمراں جماعت کے ان چند افراد میں شامل ہیں جو کہ حکومتی پالیسوں پر تنقید بھی کر لیتے ہیں۔ تاہم ایک سوال کے جواب میں ندیم افضل چن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مستعفی ہونے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کا حصہ رہیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر اُن کا استعفی قبول نہ بھی کیا گیا تو بھی شاید ان کے لیے اب اپنی ذمہ داریوں کو جاری رکھنا ممکن نہ ہو کیونکہ بار بار اپنی سبکی کروانا ایک مشکل کام ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف میں شمولیت سے پہلے ندیم افضل چن پیپلز پارٹی کا حصہ تھے جہاں انکی عزت بھی ہوتی تھی اور وہ پی پی پی دور میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کے با اختیار چیئرمین بھی رہے ہیں۔ بعد می 2018 کے الیکشن سے پہلے ندیم افضل چن کو تحریک انصاف میں شامل کروانے کے لیے عمران خان خود ان کے گھر گئے تھے۔ لیکن آج چن کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو کہ پی ٹی آئی میں دیگر جماعتوں سے آکر شامل ہونے والے لوگوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔ اپنی جماعتوں سے بے وفائی کر کے عمران خان کے ساتھ شامل ہونے والے بیشتر سیاستدانوں کو یہی گلا ہے کہ انہیں تحریک انصاف حکومت میں عہدے تو مل گے لیکن ان کی عمر بھر کی عزت جاتی رہی۔ سیاسی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ وزیراعظم کابینہ کے اجلاس میں اپنے ہی وزراء اور مشیران کو دھمکیاں دے رہا ہوں اور برخاست کرنے کی تڑیاں لگا رہا ہو۔ لہذا ایسے حالات میں اپنی عزت بچا لینا ہی بہت بڑا معرکہ ہے۔
لیکن دوسری طرف وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہو گی کہ وزیر اعظم ندیم افضل چن کا استعفی منظور نہ کیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے لیکن ایک دوسرے کی رائے کا احترام بھی ضروری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ندیم افضل چن ایک سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے شخص ہیں اور ایسے افراد کی پارٹی کو سخت ضرورت ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر اختلاف رائے ذاتیات میں تبدیل ہو جائے تو اس کا پارٹی کو نقصان ہوتا ہے۔ اس حوالے سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پہلے دور میں وفاقی وزیر رہنے والے غلام دستگیر خان کا کہنا ہے کہ جمہوری دور میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اگر وفاقی وزرا کے درمیان کسی معاملے پر اختلاف ہوتا تھا تو اس کا اظہار سامنے کیا جاتا تھا اور کبھی بھی ان کے درمیان وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تلخ جملوں کا تبادلہ نہیں ہوا۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء نواز شریف سے گلہ بھی کرتے تھے کہ وہ اُنھیں ملاقات کے لیے وقت نہیں دیتے تاہم وزیر اعظم ان کا گلہ دور بھی کر دیتے تھے۔ غلام دستگیر خان کا کہنا تھا کہ فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق کے دور میں صورت حال مختلف ہوتی تھی اور کابینہ کے اجلاس کے دوران کسی کو بھی ان سے اختلاف کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ اُنھوں نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں ضیا الحق تاخیر سے پہنچے تو کسی نے ان سے تاخیر کی وجہ نہیں پوچھی تاہم ضیا الحق نے کابینہ کے اجلاس شروع ہونے سے پہلے خود ہی بتایا کہ اُنھوں نے اپنی کابینہ کے تین وزیروں کو فارغ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ اسی طرح کے حالات آج کی حکومت میں بھی نظر آتے ہیں۔
