اگر یہی کرنا تھا تو نوٹی فکیشن میں 20 دن کیوں لگائے؟

نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں بیس دن لگانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کا بطور ڈی جی آئی ایس آئی تقرر نامہ جاری کر دیا ہے۔ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے دستخط سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید 19 نومبر 2021 تک اس عہدے پر برقرار رہیں گے اور 20 نومبر سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم ان کی جگہ لیں گے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ تین ہفتے لگانے کے بعد اگر وزیراعظم نے ندیم انجم کی تقرری کا نوٹیفیکیشن ہی جاری کرنا تھا تو پھر اتنا وقت کیوں ضائع کیا گیا اور پورے ملک میں بلاوجہ کی کنفیوژن کیوں پیدا کی گئی؟ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مابین ایک ملاقات ہوئی جس میں فیض حمید بھی شامل تھے۔ نوٹیفکیشن اس ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے ایک پریس ریلیز بھی جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی کے امیدواران کا انٹرویو کرنے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ یعنی مسئلہ صرف اتنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان فوجی قیادت کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا اختیار ان کا ہے، کسی اور کا نہیں۔ تاہم یہ بھی ثابت ہو گیا کہ وزیر اعظم کو بھی اسی جرنیل کا نوٹیفکیشن جاری کرنا پڑا جس کے حق میں فوجی قیادت نے فیصلہ کیا تھا اور جس کی تعیناتی کا اعلان تین ہفتے پہلے آئی ایس پی آر نے کیا تھا۔
26 اکتوبر کے روز ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفیکشن جاری ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئی اور ہر جانب یہی بات زیر بحث آ گئی کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو ہی ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کرنا تھا تو پھر مسئلہ کیا تھا۔ کچھ سیاست دان اس مسئلے پر وزیر اعظم سے وضاحت طلب کر رہے ہیں اور کچھ ناقدین اسے پی ٹی آئی حکومت کی پسپائی سے تعبیر کررہے ہیں۔ کئی ناقدین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر وزیراعظم نے فوجی قیادت کو اپنی اتھارٹی ہی دکھانا تھی تو پھر اپنی مرضی کا ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کرکے بھی دکھاتے۔
مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ "آخر بتایا جائے کہ وزیراعظم کی جانب سے جنرل فیض سے ایسا کونسا کام لیا جا رہا ہے، جو ان کو 19 نومبر تک برقرار رکھنا ضروری ہے۔‘‘ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کسی بھی سوال کا جواب دینا پسند نہیں کرتے اور نہ ہی وہ کسی بھی مسئلے کی وضاحت کرتے ہیں۔ "سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی کرنا تھا تو پھر اس حساس مسئلہ کے حوالے سے پاکستان کی جگ ہنسائی کیوں کرائی گئی؟، انکامکہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کے پاس کسی بھی بات کا جواب نہیں۔‘‘
نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ آخر ان کو عہدے کا چارج 19 نومبر 2021 کے بعد کیوں دیا جائے گا جبکہ جنرل فیض حمید بھی بطور ڈی جی آئی ایس آئی جلد از جلد اپنا عہدہ چھوڑنا چاہتے ہیں. سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف توجیہات بیان کی جارہی ہیں اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دراصل 19 نومبر کو ملک میں چاند گرہن ہوگا جس کی وجہ سے وزیراعظم کو یہ روحانی مشورہ دیا گیا کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی 20 نومبر سے پہلے نہ کی جائے۔
دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور یہ فیصلہ وزیراعظم نے کرنا ہے کہ نیا ڈی جی اپنے عہدے کا چارج کب سنبھالے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈی جی فیض حمید افغانستان اور طالبان کے محاذ پر اس وقت اہم ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں اور کچھ ایسے معاملات ان کے ذمہ ہیں جن کو پورا کئے بغیر ان کا عہدہ چھوڑنا ممکن نہیں ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی فوج کا ایک اہم ترین ادارہ ہے اور اداروں میں لوگ اہم نہیں ہوتے بلکہ ادارہ اہم ہوتا ہے لہذا کسی کے آنے یا جانے سے پالیسیوں کے تسلسل پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جو کام آج فیض حمید کر رہے ہیں وہ کل نئے ڈی جی آئی ایس آئی بھی کر سکتا ہے لہذا دو ہفتے آگے پیچھے ہونے سے نہ تو آئی ایس آئی کو کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی پاکستان کو۔ انکا کہنا یے کہ وزیراعظم نے اپنی جھوٹی انا کی تسکین کے لیے ایک حساس مسئلہ پر ڈرامہ رچا کر پاکستان کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی کی ۔
تاہم کراچی سے تعلق رکھنے والے دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر حارث نواز کا کہنا ہے کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف فوج میں تقرریوں کے حوالے سے بہتر طور پر جانتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ جس کا تقرر کیا گیا تھا، وزیراعظم نے بھی اسی نام کی منظوری دے دی۔ اس سے مارکیت میں یہ تاثر بھی جائے گا کہ پاکستانی سول ملٹری قیادت میں ہم آہنگی ہے اور ان افواہوں کا خاتمہ ہو گا کہ سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی خلیج موجود ہے۔
