قیام پاکستان کے بعد سے مہنگائی کا نیا ریکارڈ قائم
وزیراعظم عمران خان کی حکومت 70 سالہ پاکستانی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ثابت ہوئی ہے جسکے تین سالہ دور میں اکتوبر 2018ء سے اکتوبر 2021ء کے دوران مہنگائی نے قیام پاکستان سے اب تک مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں دو گنا سے بھی ذیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پچھلے تین برسوں میں پاکستان میں جتنی مہنگائی ہوئی ہے اتنی پچھلے 70 برس میں بھی نہیں دیکھی گئی گھی۔ تیل نرخ میں سب سے زیادہ یعنی 133؍ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ، چینی 84فیصد ، آٹا 52 فیصد، پٹرول 49 فیصد، گائے اور بکری اور مرغی کا گوشت 60 فیصد مہنگاہوا ہے۔ یہ بھی پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ غریب کے زیر استعمال دالیں 76 فیصد مہنگی ہوگئی ہیں، ایل پی جی 51 فیصد، اور دودھ کی قیمت 32؍ فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ ادھر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان اشیا کی قیمتیں کہیں زیادہ بڑھی ہیں اور ادارہ شماریات کی سرکاری رپورٹ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق قیمتوں کے حساس اعشاریئے ایس پی آئی کے مطابق اکتوبر 2018ء سے اکتوبر 2021ء تک بجلی کے نرخ 57؍ فیصد اضافے سے 4 روپے 6 پیسے فی یونٹ سے بڑھ کر کم از کم 6 روپے 38 پیسے فی یونٹ کی سطح پر آگئے۔اکتوبر کی پہلی سہ ماہی تک ایل پی جی کے 11.67 کلو گرام سلنڈر کی قیمت 51 فیصد اضافے کے بعد 1536 روپے سے بڑھ کر 2322 روپے کی سطح پر پہنچ گئی اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں تین سال کے دوران 49 فیصد تک اضافہ ہوا اور فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 93 روپے 80 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 138 روپے 73 پیسے ہوگئی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ خوردنی گھی وتیل کی قیمتوں میں ہوا، گھی کی فی کلو قیمت 133؍ فیصد اضافے سے 356 روپے تک پہنچ گئی، خوردنی تیل کا 5 لیٹر کا کین 87؍ اعشاریہ 60 فیصد اضافے کے بعد 1783؍ روپے کا ہوگیا۔
چینی کی قیمت میں 3سال کے دوران 83 فیصد اضافہ ہوا اور 54 روپے کلو فروخت ہونے والی چینی کی قیمت 100 روپے سے تجاوز کرگئی۔دال کی قیمت میں 60 سے 76 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ماش کی دال کی قیمت میں 243 روپے فی کلو کا ہوشربا اضافہ ہوا ہے، مونگ دال کی قیمت 162 روپے، مسور کی دال 180 روپے فی کلو جب کہ چنے کی دال 23 فیصد اضافے سے 145 روپے فی کلو پر آگئی۔آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 3 سال میں 52 فیصد اضافے سے 1196 روپے پر آگئی، آٹے کی فی کلو قیمت میں 20 روپے کلو تک کا اضافہ ہوا۔ یعنی اب غریب آدمی گھر پر سوکھی روٹی کھانے کے بھی قابل نہیں رہا۔
سرکاری حساب کے مطابق تین سال میں مرغی کی قیمت میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔ مرغی کی قیمت اکتوبر 2018 سے اکتوبر 2021 تک 252 روپے کلو کی سطح پر رہی، تاہم بازاروں میں مرغی کا گوشت 400 روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق تین سال میں گائے کے گوشت کی قیمت 48 فیصد اضافے سے گوشت 560 روپے کلو کی سطح پر آگیا تاہم بازاروں میں گائے کا گوشت 650 روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔
لیکن مہنگائی کے محاذ پر عمران خان حکومت کی کارکردگی ایسی ہے کہ ڈالر کی قیمت کو بھی ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پر لگے ہیں۔ اس وقت ڈالر کی قیمت پہلی مرتبہ 174 روپے سے تجاوز کرچکی ہے اور یہی وہ سونامی ہے جس کا عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا تاہم وہ نہیں جانتے تھے کہ کپتان کی لائی ہوئی سونامی ان کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گی۔
اگر بات بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں تک محدود رہی تو شاید عوام کا گزارا ہو جاتا مگر بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور ذرائع آمدن محدود ہونے سے زندگی کا پہیہ چلنا مزید شوار ہوگیا ہے۔ ایسے میں عمران خان معاشی اعشاریوں میں بہتری کی نوید سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ مشکل دور گزر گیا۔ اچھے دن آنے والے ہیں، عوام کو صبر کرنا چاہئے اور وہ گھبرائیں مت۔ وزیراعظم کا یہ موقف اور دعوے اتنی بار عوام کے سامنے آچکے ہیں کہ اب ان کے الفاظ اپنی اہمیت کھوتے محسوس ہوتے ہیں ۔یہ رویہ اور احساس انتہائی تشویش کا باعث ہے جب لیڈر شپ، قیادت اور حکمرانوں کے وعدوں، دعوئوں اور الفاظ پر عوام اعتبار کرنا چھوڑ دیں۔
یہ رویہ حکمران کیلئے باعث تشویش تو ہونا ہی ہے مگر ملک اور معاشرے کیلئے بھی انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے عوام اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے ناجائز ذرائع کی طرف غور کرنا شروع کردیتے ہیں ملک میں بدامنی جنم لیتی ہے۔ لوگوں کا جان و مال غیر محفوظ ہونا شروع وہ جاتا ہے۔ حکومت اور ریاست کی رٹ کمزور بڑنے لگے تو انارکی جنم لینے لگتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار میں آئے تین سال گزر چکے ہیں۔ تین سال کے دوران ہر خرابی کی ذمہ دار سابق حکومتیں ہی بتائی گئیں۔
ناقدین کہتے ہیں کہ مان لیا کہ ملک میں مہنگائی کی لہر کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں۔ ہمیں یہ بھی قبول ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری بھی سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور ملک دشمن فیصلوں کی وجہ سے ہی ہے۔ ہمیں یہ بھی تسلیم ہے کہ معاشی زبوں حالی سے خارجی پالیسی تک اور بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کے بوجھ کا جرم بھی سابق حکومتوں کی وجہ سے ہی ہے۔ مگر ہمیں یہ تو بتایا جائے کہ گزشتہ تین سال کے دوران ڈی ٹریک ہوئی معیشت، بگڑے ہوئے معاشرے طاقتور مافیاز کے خلاف حکومت نے کون کون سے ٹھوس اصلاحاتی اقدامات کئے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر ہمیں گزشتہ سال گندم کی سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑا جبکہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ سب کچھ بد انتظامی اور حکومت کے اندر موجود بعض افراد نے ذاتی مفادات کے تحت کیا تھا۔ حکومت کو سابق حکمرانوں نے اس مافیا کیخلاف کارروائی سے روک رکھا ہے۔ اسی طرح چینی سکینڈل کی فائل بھی ابھی تحقیقات کے چکر کاٹ رہی ہے، اس دوران اسے کبھی کبھی عدالت کی زیارت بھی کرادی جاتی ہے۔
ایک ایسا زرعی ملک جس میں گنا وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہو، شوگر ملیں موجود ہو وہ ملک اپنے عوامی ضروریات پوری کرنے کیلئے چینی درآمد کرتے تو یہ ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ غلطی کہاں پر ہے۔ بھاڑے کے وزیر خزانہ فرماتے ہیں کہ عالمی منڈی میں چینی کی قیمت 430 ڈالر فی ٹن ہے جبکہ 2018ء میں یہ قیمت 240ء ڈالر فی ٹن تھی اس لئے مقامی منڈی میں چینی کی قیمتیں بڑھ گئی۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر ان کی دلیل ہے کہ ہم خطے کے ممالک بھارت، سری لنکا، نیپال، ارو ویتنام سے سستا پٹرول بیچ رہے ہیں، وزیر خزانہ یہ بتائیں کہ ہم چینی امپورٹ کرتے ہیں، اگر چینی کی برآمدات بند کر کے سمگلنگ پر قابو کیوں نہیں پاتے۔
بھارت اور پاکستان کی کرنسی میں فرق بہت بڑھ چکا ہے اس وقت بھارت کا روپیہ پاکستانی 2 روپے 30 پیسے سے بھی تجاوز کر رہا ہے۔ بھارت میں فی کس آمدن 2200 ڈالر ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 5.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ پٹرول کی اوسط قیمت 105 روپے فی لیٹر ہے اسکے مقابلے میں پاکستان میں فی کس آمدن 1190 ڈالر اور مہنگائی کی شرح 8.4 فیصد ہے اس طرح بنگلہ دیش اور سری لنکا کے اعداد و شمار کا موزانہ بھی ہمیں پریشان کر دیتا ہے۔ ایسے میں ماہر معیشت وزیر خزانہ کے ایسے موازنے اور تاویلیں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ان حالات میں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے جس کا خمیازہ موجودہ حکومت کو بھگتنا ہو گا۔
