مذہبی جماعتوں کی مخالفت حکومت کے لیے پریشان کن ہے

ملک کی تمام بڑی اہلسنت جماعتوں کی جانب سے تحریک لبیک کی حمایت کے اعلان اور مظاہرین کی فائرنگ سے ہلاکتوں کے بعد پہیہ جام ہڑتال سے وفاقی حکومت کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوگئی ہیں اور امن و امان کی صورت حال مزید ابتر ہو گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان کی جانب سے تحریک لبیک کے مطالبات کی حمایت اور پیہہ جام ہڑتال کے اعلان کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے فرانسیسی سفیر کی بیدخلی کی مطالبے نے عمران حکومت کے لئے سنجیدہ مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے اور پھر اتوار کو یتیم خانہ چوک لاہور میں فورسز کے کریک ڈاؤن میں خون خرابے اور ہلاکتوں کے بعد اہلسنت کی جماعتوں کی جانب سے کپتان حکومت کے خلاف اعلان جنگ کوئی چھوٹا واقعہ نہیں یے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد حسین رضوی اور حکومت کے مابین لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مذاکرات جاری ہیں تاہم اس میں کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہو سکا اور اگر سعد رضوی حکومت کے دباو میں کوئی سمجھوتہ کر بھی لیتے ہیں تو ان کی جماعت اور اہلسنت کی دیگر تنظیمیں اس کو رد کر کے احتجاج کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد سے ملک کے طول و عرض میں میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اہلسنت کی تنظیموں کی کال پر 19 اپریل کو پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال بھی کی جارہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے حساس معاملے پر اہل سنت والجماعت کی تنظیموں بنوں کی جانب سے تحریک لبیک کی حمایت کے بعد گھبرائی ہوئی کپتان حکومت اس ایشو سے کس طرح نمٹتی ہے؟
یاد رہے کہ مفتی منیب الرحمٰن نے اتوار کی رات پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہڑتال کی کال دی تھی جس پر ملک کے کئی شہروں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔مفتی منیب الرحمن کا کہنا تھا کہ’’موجودہ حکومت نے تحریک لبیک اور ناموسِ رسالت کے جاں نثاروں پر جوظلم ڈھایا ہے، ہم اس کی شدید ترین مذمت کرتے ہیں، انکا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے رنجیت سنگھ اور برطانوی سامراج کے دور کی یاد تازہ کردی ہے اور یہ ریاست خونریزی لوگوں کے ذہنوں سے کبھی محو نہیں ہو گی۔ مفتی منیب نے کہا کہ جب بھی تحفظِ ناموسِ رسالت کی تاریخ لکھی جائے گی تو موجودہ دور کو سیاہ ترین قرار دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی 15 اپریل کی پریس کانفرنس میں حکومت اور اداروں کو یہ مشورہ دیا تھاکہ تحریک لبیک کی قیادت کو ایک جگہ جمع کیا جائے تاکہ وہ آپس میں مشاورت کر سکیں اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے سازگار ماحول پیداکر سکیں لیکن طاقت کے نشے میں چور اہلِ اقتدار نے اس پر کان نہ دھرا اور ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کردی۔ انکا۔کہنا تھا کہ مین اسٹریم میڈیا پر اسووت سخت ترین پابندیاں اور سنسر شپ عائد یے اور صحیح معلومات دستیاب نہیں، تاہم سوشل میڈیا سے جو معلومات لوگوں تک پہنچ رہی ہیں، وہ انتہائی ہولناک ،کربناک اور اذیت ناک ہیں، ہم سب کےدل دکھی ہیں اور آنکھیں اشکبار ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ فسئرنگ سے زخمی ہونے والوں کو اسپتال پہنچانے کے لیے بھی ایمبولینسوں کو آنے جانے نہیں دیا جارہا۔ اسی طرح سانحہ یتیم خانہ چوک کے شہداء کی میتوں کو بھی محفوظ کرنے کے لیے کوئی انتظامات نہیں کرنے دیے جارہے، یہ ظلم کی انتہا ہے ،ہم ذاتِ رسالت مآب ﷺ سے محبت کرنے والے لاہور کے ڈاکٹروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ضروری طبی سامان ، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دوائوں کے ساتھ زخمیوں کے پاس جائیں اور اُحد کی یاد تازہ کریں، انہوں نے کہا کہ غزوۂ بدر بھی رمضان میں وقوع پذیر ہوا تھا۔
مفتی پاکستان نے کہا کہ ہمارے پاس امریکا، کینیڈا، برطانیہ ، یورپین یونین ، شرقِ اوسط اور دیگر ممالک سے پاکستانی تارکینِ وطن کے فون آرہے ہیں اور وہ بے حد مضطرب ہیں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں منگل تا جمعرات پاکستانی قونصلیٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، لوگ حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں اور اس دور کو عذابِ الٰہی سے تعبیر کر رہے ہیں، خواتین ہمین فون کر رہی ہیں اور دھاڑیں مار کر رورہی ہیں اور مطالبہ کر رہی ہیں کہ میدان میں نکلیں، ہم اپنے بچوں سمیت میدان میں آنے کے لیے تیار ہیں، اس کے باوجود ہم نے تاحال صبرواستقامت کا مظاہرہ کیا کہ شاید حکومت ہوش کے ناخن لے اور درندگی کو چھوڑ کر سنجیدگی سے مسئلے کو حل کرے، لیکن ایسی کوئی علامت نظر نہ آئی۔ انکا کہنا تھا کہ پولس تھانوں اور جیلوں میں اسیرانِ ناموسِ مصطفیٰ پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور اذیت سے دوچار کیا جارہا ہے، لہازا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پولس تھانوں اور جیل میں اسیرانِ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کو ذاتی مچلکوں پر فوری طور پر رہا کیا جائے اور تمام ایف آئی آرواپس لی جائیں، اس کے بغیر مسئلے کے پرامن حل کی توقع رکھنا خوش فہمی ہوگا، اگر اتنے مظالم ڈھاکر بھی اہلِ اقتدار کے نفسِ امّارہ کو تسکین نہیں ملی تو مزید اپنا شوق پورا کرلیں، وقت فیصلہ کرے گا اور تاریخ فیصلہ کرے گی اور اللہ تعالیٰ کی عدالت میں آخری فیصلہ ہوگا۔
مفتی منیب نے سوال کیا کہ کیا اسلام کے نام پر پاکستان اس لیے بنایا گیا تھا کہ اس میں تحفظِ ناموسِ رسالت کی بات کرنا جرم قرار پائے اور ایسا کرنے والوں پر دہشت گردی کے فتوے لگا کر کیسز بنائے جائیں۔ مفتی منیب نے کہا کہ ہم شیخ رشید احمد کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ فرعونی لب ولہجے میں دھمکیاں دینا چھوڑیں، ایک دن انکا یہ اقتدار چلا جائے گا لیکن مسلمانوں کے دلوں سے ان کی پیدا کی ہوئی نفرت کے داغ کبھی نہیں مٹیں گے۔اس۔موقع پر انہوں نے سوال کیا کہ 2017ء میں ٹی ایل پی کے لوگوں کا یہی طرزِ عمل آپکی داد اور تحسین کا مستحق ٹھہرا تھا کیونکہ تب اقتدار پر کوئی اور فائز تھا اور آج جبکہ عمران خان خود کرسیِ اقتدار پر بیٹھے ہیں تو وہی عمل انکی نظر میں دہشت گردی قرار پایا، اس سے بڑی منافقت اور دوغلا پن اور کیا ہوسکتا ہے، مفتی صاحب نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے آپکے ماضی کے وڈیو کلپس سوشل میڈیا پر موجود ہیں جو آپ کے دوغلے پن کی عکاس ہیں۔
سیخ رشید بارے انکا کہنا تھا کہ جب تک اس جیسا متنازع اور منافق شخص وزارتِ داخلہ پر فائز ہے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا۔انہون نے کہا کہ ہم سندھ کی حد تک آصف زرداری اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ کے پولس تھانوں میں اسیرانِ ناموسِ مصطفیٰ پر مظالم بند کیے جائیں، اُنکو فوری طور پر ذاتی مچلکوں پر رہا کیاجائے اور تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں تاکہ مسئلے کے پرامن حل کے لیے کوئی قابلِ عمل ماحول پیداہو۔ مفتی منیب نے کہا کہ آج ریاستِ مدینہ کا نعرہ شہدائے ناموسِ رسالت کے خون سے رنگین ہے، جبکہ نام نہاد وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے دین اور مسلک کو کرسیِ اقتدار پر قربان کردیا ہے۔
مفتی منیب کا کہنا تھا کہ وفاق وزراء نے تحریک لبیک کی قیادت کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اور وزیر اعظم نے ٹیلی ویژن پر آکر جس کی توثیق کی تھی، اس پر عمل کرنا اتنا دشوار نہیں تھا، اس میں تو لکھا تھا کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، حتمی فیصلہ تو پارلیمنٹ نے کرنا تھا لیکن اہلِ اقتدار نے بے قصور لوگوں کا ناحق خون کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک بار پھر حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ تحریک لبیک پر عائد پابندی کو ختم کرتے ہوئے ہوئے 12 اپریل کی صورتِحال کو بحال کریں، تبھی بامعنی مذاکرات کی کوئی صورت پیداہوسکتی ہے، ورنہ دکھی دلوں میں لاوا پکتا رہے گا اور ایک دن یہ پھٹ پڑے گا۔ مفتی منیب نے کہا کہ ہم ملک کی تمام دینی اور سیاسی جماعتوں اور تمام دینی تنظیمات سے اپیل کرتے ہیں کہ ناموسِ رسالت ﷺ کے پاسبانوں پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کے خلاف آواز بلند کریں ، کیونکہ ناموسِ رسالت کا تحفظ ہمارے دین اور ایمان کی اساس ہے۔
دوسری جانب جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے لاہور واقعے کی مذمت کرتے ہیں اور ہڑتال کے معاملے میں مفتی منیب کیساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں تحفظ ناموس رسالت کیلئے احتجاج کرنیوالوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر ریاستی دہشت گردی کا ثبوت دیا گیا، تحریک لبیک والے اپنی لاشیں لیکر اسلام آباد جاتے ہیں تو ہم ان کیساتھ جائیں گے۔ادھر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے لاہور کی موجودہ صورت حال پر تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔سراج الحق نے کہا کہ حکومت کی نیت شروع سے ٹھیک نہیں تھی، تمام سیاسی اور مذہبی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اہلسنت کی جماعتوں کے قائدین کا تحریک لبیک کی حمیات میں کھل کر سامنے آنا کپتان حکومت کے لئے نیا چیلنج ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ہر معاملے کو خراب کرنے کی ماہر تحریک انصاف کی حکومت اس حساس ایشو کو کس طرح سنبھالتی ہے کیونکہ اسکے پاس وقت کم ہے اور مقابلہ بہت سخت۔
