مذاکرات کرنے تو پھر TLP پر پابندی کیوں لگائی؟

پاکستانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت وقت کسی مذہبی جماعت پر شدت پسندی کو فروغ دینے کے الزامات کے تحت پابندی عائد کرنے کے بعد دباؤ میں آ کر اسکی قیادت سے مذاکرات پر مجبور ہوگئی ہو۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگنے کے بعد شروع ہونے والے ملک گیر احتجاج اور ہنگاموں کو روکنے کے لیے اس کی زیر حراست قیادت کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کے اعلی عہدے داران نہ صرف کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید تحریک لبیک کے سربراہ سعد حسین رضوی کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں بلکہ ان کے چھوٹے بھائی کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سعد رضوی کو یہ پیشکش کی گئی تھی کہ اگر وہ پاکستان سے فرانسیسی سفیر کو بے دخل کرنے کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں تو ان کو رہائی مل جائے گی۔ تاہم انہوں نے یہ آفر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ تی ایل پی ذرائع کا کہنا ہے کہ انکی قیادت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں یہ شرائط پیش کی ہیں کہ تحریک لبیک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے عین مطابق فرانس کے سفیر کو بیدخل کیا جائے اور حراست میں لیے گئے تمام مرکزی قائدین اور تحریک لبیک کے کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔
تاہم ابھی ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے تحریک لبیک پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ ٹی ایل پی پر پابندی لگانا وسیع تر قومی مفاد میں ضروری ہو گیا تھا اور اب اسکی قیادت کے ساتھ نہ تو کوئی مذاکرات کیے جائیں گے اور نہ ہی کوئی رعایت برتی جائے گی۔ تاہم پابندی کے بعد سے پھیلتے ہوئے ملک گیر ہنگاموں اور لاہور میں میں تصادم کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بعد حکومت نے اپنے پرانے موقف سے یوٹرن لیتے ہوئے تحریک لبیک کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا فیصلہ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے مل کر لیا تھا کیونکہ اس کے کارکنان شدت پسندی سے دہشت گردی کا سفر شروع کر چکے تھے اور اب مقدس ہستیوں کے نام پر متشدد کارروائیوں پر اتر آئے تھے۔ سینئر صحافی اعزاز سید کے مطابق تحریک لبیک کے بانی خادم رضوی اور ان کے جانشین سعد رضوی کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت تو موجود نہیں تاہم ان پر توہین رسالت کے نام پر ایسی فضا پیدا کرنے کا لزام ضرور ہے جس سے کچھ افراد کو محض الزام عائد کر کے قتل کیے جانے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو جنوری 2011 میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد 29 فروری 2016 کو سلمان تاثیر کے قتل کی سزا پانے والے ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد سے اس جماعت کا پنجاب میں عروج دیکھنے میں آیا۔ اسی وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ پر ٹی ایل پی کو تب کی شریف حکومت کے خلاف استعمال کرنے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ پھر تحریک لبیک الیکشن کمیشن میں رجسٹر بھی کر لی گئی۔ اس معاملے پر سبھی خاموش بھی نہیں تھے۔ جہاں سیاسی سطح پر کچھ دبے الفاظ میں ردعمل دیا گیا وہیں اس وقت نیکٹا کے سربراہ احسان غنی نے چھ دسمبر 2017 کو اپنے مراسلے میں حکومت پاکستان کو ٹی ایل پی کی سرگرمیوں سے خبردار کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس پر کڑی نظر رکھی جائے۔ مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان کی سفارشات کو نظرانداز کر دیا گیا۔
تحریک انصاف حکومت کے دوران گذشتہ برس فرانس میں ہونے والے واقعات کے تناظرمیں یہ تنظیم دو بار اسلام آباد آ چکی ہے۔ نومبر 2020 میں تو حکومت کو اس کے ساتھ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لیے اپنے اس وقت کے وزیرِ داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجازشاہ کے دستخطوں سے معاہدہ بھی کرنا پڑا۔ حکومت کو ’بے بس‘ کر کے ان سے اپنی باتیں منوانے کے باعث یہ تنظیم ملک بھر میں مقبولیت پکڑتی رہی۔ 11 اپریل 2020 کو جب دو حکومتی وزرا شیخ رشید اور نورالحق قادری تحریک لبیک سے مذاکرات کے لیے پہنچے تو پنجاب میں انٹیلیجنس کے مقامی حکام نے جماعت کی قیادت سے ملاقات کے لیے رابطے شروع کیے۔ صحافی اعزاز سید کے مطابق حیران کن طور پر انٹیلی جینس حکام کو تنظیم کے رہنماؤں سے رابطے اور ملاقات کے دو گھنٹے تک کا انتظار بھی کرنا پڑا۔ مذاکرات کے دوران ٹی ایل پی کے عہدیداروں کو وفاقی وزرا کی طرف سے پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی قرارداد کا متن دکھایا گیا مگر تنظیم کی طرف سے اسے مسترد کر دیا گیا اور حکومت پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ فرانس اور یورپی ممالک کا نام لے کر ان کے خلاف قرارداد ایوان میں پیش کرے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ اوپر بیان کیے گئے تمام واقعات کے تناظر میں اس تنظیم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ 12 اپریل 2021 کو کیا گیا اور اسی وقت آئی جی پنجاب انعام غنی کو ہدایت کی گئی کہ وہ سعد رضوی کو گرفتار کرلیں۔ اس ہدایت پرفوری عملدرآمد ہوا تو سب سے زیادہ ردعمل لاہور میں آیا تاہم ملک کے دیگر شہروں میں بھی قابل ذکر مظاہرے کیے گئے۔
تاہم پنجاب پولیس اس سارے معاملے میں ٹی ایل پی کی قیادت کو گرفتار کرنے کے حوالے سے باقی سب پر سبقت لے چکی تھی لیکن پالیسی سازوں کی طرف سے بنائی گئی پالیسی میں پولیس کی ان پٹ نہ ہونےکے باعث سعدرضوی کے ساتھ ہی پورے ملک بالخصوص پنجاب میں اس جماعت کے ضلعی عہدیداروں کو قابو نہ کیا گیا اور اس غلطی سے پنجاب اور کراچی میں کاروبارزندگی بڑی حد تک معطل رہا۔ ایک اعلیٰ سرکاری شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 13 اپریل کو وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اسلام آباد میں ملاقات کی اور ساری صورتحال کے تناظر میں وزیرداخلہ شیخ رشید کو بتایا گیا کہ اس تنظیم پر پابندی کا اعلان کردیا جائے جو اگلے روز ہوا اور 15 اپریل کو پابندی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ پابندی عائد کرتے ہوئے اس تنظیم پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ ایک منفرد واقعہ اس لیے بھی ہے کہ اس تنظیم کی طرف سے باضابطہ طورپر کبھی فرقہ واریت کی بنا پر قتل و غارت گری، دھماکوں یا خودکش حملوں وغیرہ کی بات نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے سابق انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد طاہر عالم کا کہنا ہے کہ ’تحریک لبیک کوئی فرقہ وارانہ دہشت گرد جماعت نہیں جو دوسرے فرقوں کا قتل جائز سمجھتی ہو یا بین الاقوامی ایجنڈے کی حامل ہو بلکہ یہ ایسی جماعت ہے جو عشق رسول میں تشدد کا عنصر شامل کر بیٹھی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس جماعت کے لوگ رینجرز یا فوج پر حملے نہیں کرتے تاہم پولیس پر حملے کرتے ہیں جو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن چھ کے تحت دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔‘
حکومتی ذرائع کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پر پہلے سے نظر نہیں رکھی جا رہی تھی۔ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے ہر ضلعے کی سطح پر اس جماعت کے کل 108 ایسے رہنماؤں و کارکنوں کی فہرست تیار کر رکھی تھی جنھیں انسداد دہشتگردی ایکٹ کے شیڈول فور میں مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے جن کی طرف سے کسی بھی علاقے میں تشدد، دہشت گردی یا امن عامہ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔ تاہم محکمہ انسداد دہشت گردی کی یہ کاوشیں 11 جنوری 2021 کو ایک بار پھر اس وقت نظر انداز کر دی گئیں جب وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد و وزیرِ مذہبی امور نورالحق قادری کی طرف سے اس تحریک کے ساتھ معاہدہ کر کے ان افراد کے نام شیڈول فور سے نکالنے پر اتفاق کر لیا گیا تھا۔ محکمہ انسداد دہشت گردی پنجاب کے حکام بتاتے ہیں کہ اس جماعت کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد دوبارہ نہ صرف ان 108 افراد کو شیڈول فور میں شامل کیا جا رہا ہے بلکہ اس جماعت کی طرف سے 12 اپریل کو سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ردعمل میں سرگرم مزید ناموں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ادھر دہشت گردی کے حوالے سے پہلے سے کالعدم قراردی گئی تحریک طالبان نے حکومت پاکستان کی طرف سے تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کے فوری بعد 14 اپریل 2021 کو نہ صرف اس کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد پرتشدد ردعمل میں جماعت کے ہلاک شدگان کے خون کے ’قطرے قطرے کا حساب‘ لینے کا بھی اعلان کیا۔
اعزاز سید کے مطابق ٹی ٹی پی کی یہ حمایت اس لیے بھی غیرمعمولی ہے کہ پہلی بار دیوبندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والی جماعت بریلوی مکتبۂ فکر کی جماعت تحریک لبیک کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ اس بارے میں انسداد دہشت گردی کے ماہر اور نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی کے بانی سربراہ طارق پرویز کہتے ہیں کہ، ’سنی عسکریت پسندی ماضی میں دیوبندی اور وہابی جماعتوں پر مبنی تھی اور بریلوی اس معاملے سے مکمل طورپر الگ تھے۔ اگر کوئی بریلوی اس طرف راغب بھی ہوتا تو وہ اس کا انفرادی عمل ہوتا تھا۔‘ ان کے مطابق ’ٹی ٹی پی کی طرف سے بریلوی کالعدم تحریک لبیک کی حمایت سنی فرقوں میں عسکریت پسندی کی تقسیم کو کم کر کے مشترکہ ٹارگٹ بنانے کی ایک کوشش ہے۔ یہ ایک خطرناک عمل ہے اسے سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا اور اس پر فوجی سے زیادہ سول اداروں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔‘
اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ٹی ایل پی پابندی و کریک ڈاؤن کے بعد باضابطہ طورپر دہشت گردی و تشدد کا راستہ اختیار کرے گی یا عدالتوں سے رجوع کرتے ہوئے احتجاج کرتی رہے گی۔ تحریک لبیک پر پابندی اور اس کی قیادت کی گرفتاری سول و عسکری قیادت کا مشترکہ فیصلہ ہے اور ملک کی دیگر دو سب سے بڑی قومی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نےاس فیصلے کی خاموش رہ کر حمایت کی ہے۔ خیال رہے کہ یہ دونوں جماعتیں یعنی پیپلز پارٹی اپنے گورنر سلمان تاثیر کے قتل جبکہ ن لیگ اپنے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے اور 2018 کے الیکشن میں دائیں بازو کا ووٹ ٹوٹنے کے باعث اس جماعت سے نقصان اٹھا چکی ہیں۔ اس تناظر میں اس ٹی ایل پی کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے حمایت کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی سیاسی طور پر اس جماعت میں باضابطہ اور طویل مدتی ردعمل کی بظاہر کوئی سکت ہے۔ تاہم ملک کے سب سے بڑے بریلوی مکتبۂ فکر میں اس کی مقبولیت قائم ہے۔
مبصرین اس بات پر تو متفق ہیں کہ تحریک لبیک پر پابندی، اس کی قیادت کی گرفتاری اور پھر حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد اس جماعت میں طویل مدتی ردعمل کی کوئی سکت تو نہیں رہے گی تاہم اس دوران کسی نئی سنی بریلوی العقیدہ دہشت گرد تنظیم کے وجود میں آنے یا یا اسی کالعدم جماعت کے پیروکاروں کے ہاتھوں اہم شخصیات اور غیرملکیوں پر انفرادی طور پر حملوں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہر ہے یہ سب ایک نئے چیلینج کی صورت رونما ہوگا اور جس سے نمٹںے کے لیے بہرحال پارلیمینٹ کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔
