ایاز صادق کے خلاف لاہور میں بینرز اور فلیکس لگ گئے

بھارتی شہر ابھی نندن کے حوالے سے قومی اسمبلی میں متنازع بیان دینے لاہور کے مختلف علاقوں میں ن لیگی رہنما ایاز صادق کے خلاف بینرز آویزاں کردیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل قومی اسمبلی میں اس وقت انتہائی سنگین صورت حال دیکھنے میں آئی جب مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی طرف سے اس سال فروری میں پاکستان کی طرف سے گرائے گئے بھارتی طیاروں اور اس کے نتیجے میں حراست میں لیے گئے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے بارے میں ایک متنازع بیان سامنے آیا، جس کے بعد سے نا صرف سیاسی بلکہ عسکری حلقوں میں بھی اس پر انتہائی تشویش پائی جارہی ہے، اب دیکھا گیا ہے کہ آج لاہور کی مشہور مال روڈ کے علاوہ شادمان، چیئرننگ کراس اور دیگر مختلف علاقوں میں بینرز آویزاں کیے گئے، جن پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف نعرے درج کیے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومت کے مزید علاقوں گڑھی شاہو، شملہ پہاڑی، کلب چوک اور دھرم پورہ میں صرف بینرز ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کے رہنما کے خلاف پینا فلیکس بھی لگائے گئے ہیں۔
دوسری طرف ائیر مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف نے کہا ہے کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا بیان سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جس پر انہیں معافی نہیں ملنی چاہیئے، کیوں کہ یہ بیان زبان کا پھسل جانا نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے، اس پر کوئی استشنی نہیں ہونا چاہیئے، انہوں نے کہا کہ آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر جان بوجھ کر ملکی مفاد کو نقصان پہنچائیں، یہ غلطی نہیں بلکہ جرم ہے جس کو ایسے بخشا نہیں جانا چاہیئے، کیوں کہ مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق نے ایک من گھڑت کہانی بنا کر کہہ دیا کہ ہم نے بھارت کے حملے کے ڈر کی وجہ سے ابھی نندن کو واپس بھیجا، حالاں کہ اس میٹنگ میں ایسی کوئی بات ہی نہیں ہوئی، پاکستان کی ایک ایسی فتح جس پر پوری دنیا کی طرف سے تعریفیں کی گئیں، جس کو بھارت خود بھی اس مان چکا تھا، جس کے حوالے سے بھارت کے اپنے وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ اگر ان کے ملک کے پاس رافیل ہوتے تو نتیجہ کچھ اور ہوتا جس کا واضح مطلب یہ ہے انہوں نے شکست تسلیم کرلی تھی۔
