میری اہلیہ نہ ہوتیں تو میرا بچاؤ نہیں ہو سکتا تھا

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہےکہ ان کی اہلیہ ان کی دوست ہیں اور وہ نہ ہوتیں تو ان کا بچاؤ نہیں ہو سکتا تھا۔
جرمن جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ صرف ایک احمق اپنی بیوی کے ساتھ ہر معاملے پر بات نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ہر معاملے پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور حکومت میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان پر بھی اہلیہ سے بات کرتے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ ان کی دوست اور ساتھی ہیں اور وہ نہ ہوتیں تو میرا بچاؤ نہیں ہو سکتا تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خطے میں بھارت کو اہمیت دینے کا امریکی طرز عمل خامیوں پر مبنی ہے، مقبوضہ کشمیر پر امریکہ سے دونوں ملکوں کے ساتھ یکساں پالیسی کی توقع ہے، بھارت چین، بنگلا دیش، سری لنکا، پاکستان کےلئے خطرہ ہے، بھارت نازی فلسفے پر چلنے والی فاشسٹ ریاست ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اسمارٹ لاک ڈاون کے ساتھ کورونا کا مقابلہ کیا، پاکستان کی حکومت کورونا وائرس کا مکمل ادراک رکھتی ہے۔ اسی لئے ہم نے کچھ علاقوں پر سخت پالیسی اپنائی، ہم نے زرعی سیکٹر کو دوبارہ کھولا، کنسٹرکشن سیکٹر کو کھولا تاکہ روزانہ کی بنیاد پر کمائی کرنے والے متاثر نہ ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہفتہ وار بنیادوں پر ایک لاکھ اسی ہزار سے دو لاکھ افراد کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں اور ہمارے متعلقہ ادارے اس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکی انتخابات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ جو بائیڈن رائے عامہ میں مقبول نظر آہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ روایتی سیاستدان نہیں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، میں نے کئی بار مختلف سوچ اپنائی، نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کام سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہم امریکہ سے بھارت کے تناظر میں مساوی رویہ دیکھنا چاہتے ہیں، مقبوضہ کشمیر پر امریکہ سے دونوں ملکوں کے ساتھ یکساں پالیسی کی توقع ہے، خطے میں کشیدگی کسی وقت بھی بھڑک سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کو دھمکیاں لگاتا ہے، امریکہ چین کی وجہ سے بھارت کو اہمیت دیتا ہے، خطے میں بھارت کو اہمیت دینے کا امریکی طرز عمل خامیوں پر مبنی ہے، بھارت چین، بنگلا دیش، سری لنکا، پاکستان کےلئے خطرہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نائن الیون حملے سے کوئی تعلق نہیں۔ القاعدہ افغانستان میں تھی۔ نائن الیون کے بعد ہمیں اپنی فوج کو اس جنگ میں شامل نہیں کرنا چاہئے تھا۔ افغانستان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ملک میں امن چاہتا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے 70 ہزار سے زائد جانیں گنوائیں، ہماری سرحدی علاقے اس جنگ کی وجہ سے تباہ ہوگئے، ان علاقوں کے آدھے سے زائد لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا جس دن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ہم نے مذاکرات کو ترجیح دی۔ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کے سابق وزیراعظم حکمت یار نے حالیہ الیکشن میں حصہ لیا اور وہ اپنے ملک کے آئین کو مانتے ہیں۔ میں نے افغانستان کی قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے بھی بات کی اور بتایا کہ جنگ زدہ ملک میں ہم کسی سائیڈ کی طرف نہیں ہیں۔ ہماری صرف دلچسپی اس امر میں ہے کہ افغانستان کی جو بھی نئی حکومت آئے اس پر بھارت کا اثر و رسوخ نہ ہو تاکہ ہمسایہ ملک کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے مغربی ممالک سے زیادہ ہے، میں آزادی کے لفظ کا استعمال بہت محتاط انداز میں کرتا ہوں، میں نے اپنی زندگی کی دو دہائیاں برطانیہ میں گزاری، وہاں پر بہتان سے متعلق بہت زیادہ مضبوط قوانین ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے، بطور وزیراعظم مجھ پر بہت سارے بہتان لگے، انصاف کےلئے عدالت بھی گیا۔ مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت جب اقتدار میں آئی تو سب سے پہلے میری حکومت یمن میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کےلئے آگے بڑھی۔ اس کےلئے ایران سے بات بھی کی جب کہ سعودی عرب سے محمد بن سلمان سے بھی رابطہ کیا۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے اسرائیل سے تعلق کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے کیوں کہ یہ ممالک اپنی عوام کا سوچتے ہیں، پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔ اس معاملے پر ہمارا مؤقف بڑا واضح ہے۔ ہمارا مؤقف قائداعظم نے 1948 میں واضح کر دیا تھا کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔ ان کی انصاف کے مطابق آبادکاری نہیں ہوتی جو فلسطینوں کا دو قومی نظریہ تھا کہ ان کو ان کی پوری ریاست ملے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین نے 7 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر بہت بڑا کام کیا۔ یہی وہ منصوبہ ہے جو میں اپنانا چاہتا ہوں اور اپنے ملک سے غربت کا خاتمہ کرنا چاہتا ہوں، وہاں قانون بہت سخت ہیں، گزشتہ 7 سالوں کے دوران انہوں نے 450 وزیروں کو کرپشن کی وجہ سے جیل میں بھیجا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک غریب اس لئے ہے کہ کیوں کہ یہاں وسائل کی کمی ہے، ملکی لیڈر شپ کرپٹ رہی ہے، پانامہ پیپرز میں سب کچھ عیاں ہوا جس میں بتایا گیا کہ پاکستان سے کروڑوں ڈالرز پراپرٹی حاصل کرنے کےلئے لندن بھیجے گئے۔ اپوزیشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں ان کی بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا، یہ لوگ مجھے بدعنوانی کے مقدمات سے بری کرنے کےلئے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں انہیں کوئی ریلیف نہیں دوں گا۔ عمران خان نے کہا کہ جب اقتدار میں آیا تو امپورٹ 60 ارب ڈالر تھی جب کہ ایکسپورٹ محض 20 ارب ڈالر تھی، ملکی روپیہ کمزور ہوا جس کے باعث مہنگائی بڑھی اور چیزیں مہنگی سے مہنگی ہوتی گئیں، ہم نے اپنا ریونیو بڑھانے کےلئے کچھ چیزیں مہنگی بھی کیں تاہم اب اپنی ٹیکس نیٹ بڑھا رہے ہیں، اس کےلئے ہم نے سخت اصلاحات بھی کی ہیں، اصلاحات سے متعلق اپوزیشن والے پریشان ہیں اگر ہم کامیاب ہوگئے تو یہ کرپشن کیسز میں جیل چلے جائیں گے۔
