ایران نے اسرائیل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا ڈرون تیار کر لیا

ایران نے مقامی سطح پراسرائیل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا جدید اورلانگ رینج ڈرون تیار کر لیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی بری فوج کے سربراہ بریگیڈئر جنرل کیومرث حیدری نے کہا ایران نے لمبے دورانیے تک پرواز کرنے والا خودکش جہاز تیار کیا ہے جس کی مدد سے تل ابیب اور حیفا تک کامیابی سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے، نئے ڈرون کا نام آرش 2 رکھا گیا ہے جو آرش 1 کا نیا ورژن ہے۔تاہم نئے ڈرون سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے مقامی طورپر تیار کردہ ڈرون کے ذریعے تل ابیب اور ہائفہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج نے جولائی میں مسلح ڈرون لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بحری جہازوں اور آبدوزوں کی پہلی قسم کی رونمائی کی تھی۔ تب امریکی صدر جو بائیڈن مشرق اوسط کے دورے پر تھے۔
یاد رہے کہ مئی میں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے مغرب میں زغروس پہاڑی سلسلے کے دامن میں ڈرونز کے لیے ایک فضائی اڈے کی فوٹیج نشر کی تھی۔ ایران کے روایتی دشمن امریکا اور اسرائیل اس سے قبل اس پر یہ الزام عاید کر چکے ہیں کہ وہ خلیج میں امریکی افواج اور اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں پر حملے کے لیے ڈرون اور میزائل استعمال کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر عالمی پابندیوں اور تنقید کا سامنا ہے۔ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ کی تجدید سے متعلق معاملات بھی التوا کا شکار ہیں۔
