لاڈلے عمران کو اپنے ہی گھر میں آگ لگانے سے کون روکے گا؟

معروف لکھاری اورتجزیہ کارعمار مسعود نے کہا ہے کہ عمران خان اقتدارکی ہوس میں اتنے لالچی ہو چکے ہیں کہ انہیں کسی کا دید لحاظ نہیں رہا اوروہ ہر چیز کو روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اگر انوکھے لاڈلے کی نافرمانیاں اسی طرح جاری رہیں تو وہ دن دور نہیں جب نیا پاکستان بنانے کا دعویدار کپتان پرانے پاکستان کو بھی آگ لگا دے گا۔
روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ لاڈلا بچہ عموماً وہ ہوتا ہے جو چاہے کوئی بھی نقصان کردے، کتنی بھی الٹی فرمائش کیوں نہ کرے، اسکے ماں اور باپ بیچارے مارے الفت کے سب ماننے کو تیار ہوتے ہیں، لاڈلے بچے کے والدین اسکو ڈانٹنے سے پرہیز کرتے ہیں، اس کو سزا دینے سے اجتناب کرتے ہیں، اور اسکی غلطیوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔ ایسے ماں باپ باقی بچوں کی تادیب تو کرتے ہیں مگر لاڈلے کو اسکی تمام تر خامیوں کے باوجود گود میں بٹھاتے ہیں، نخرے اٹھاتے ہیں اور اسکی غلطیاں اپنے سر لے لیتے ہیں۔ عمار مسعود کے مطابق دیکھنے میں تو عموماًیہی آیا ہے کہ لاڈلے بچے بدتمیز ہوتے ہیں، کسی کی بات نہیں سنتے، نہ بڑوں کا ادب کرتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کا لحاظ کرتے ہیں، وہ من مانی کرتے ہیں، اور گالم گلوچ اور مارکٹائی سے بھی اجتناب نہیں کرتے۔ لاڈلے جھوٹ بھی بولتے ہیں اور الزام بھی لگاتے ہیں۔ اسی طرح عمران خان بھی اس ملک اور اس ریاست کے لاڈلے ہیں۔ جو الفت بھرا سلوک ان کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے، اس کی مثال تاریخ پاکستان میں نہیں ملتی، ان کی کسی حرکت پر کوئی پابندی نہیں۔ وہ جو چاہیں کریں آخر میں ان کے مائی باپ ان سے ُدلارہی کر رہے ہوتے ہیں۔
عمار مسعود کے بقول، جو سلوک دیگر سیاستدانوں کے ساتھ ہمارے ریاستی اداروں نے روا رکھا ہے اس کا عشر عشیر بھی ابھی تک عمران کے ساتھ نہیں ہوا۔ ہم نے اس ملک کی تاریخ میں کیا کچھ ہوتے نہیں دیکھا۔ اس ملک میں سیاستدانوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا۔ وہ بیچارے پھانسی پر چڑھا دیئے گئے، قتل ہوئے، بم دھماکوں میں مار دیئے گئے، سیاستدان وطن بدر ہوئے، ان پر غداری کے الزام اور کفر کے فتوے لگے۔ انہیں اندھیری جیلوں میں مویشیوں کی طرح ڈال دیا گیا۔ دوسری جانب عمران خان ہیں جنہیں گویا ہر طرح کی معافی اور اجازت ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ اگر ان پر لگے الزامات کا موازنہ دوسرے سیاستدانوں سے کیا جائے توزمین آسمان کا فرق ہے۔ یوسف رضا گیلانی نام نہاد توہین عدالت پراپنی وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر کسی کے کلیجے کو ہاتھ نہ پڑا، کسی منصف کی آنکھ پرنم نہ ہوئی، کسی قاضی کا دل نہ پسیجا۔ اب تماشا یہ ہے کہ درِ انصاف خان صاحب سے متمنی ہے کہ معافی مانگ لیجئے لیکن ان کی صحت پر کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا۔ ماضی میں بھی یہی ہوا تھا۔ 2013 میں بھی توہینِ عدالت عمران پر کارگر نہیں ہوئی تھی اور انہیں معافی دے دی گئی تھی۔ اس کے برعکس نون لیگ کے تین سینئر رہنماؤں کو توہین عدالت پر معافی مانگنے کے باوجود نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ اس برس 25 مئی کو سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اسلام آباد پہنچ کر جگہ جگہ آگ لگا کر عمران خان نے توہین عدالت کی لیکن یہ کیس بھی سرد خانے کی نذر کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ ایسا کرتے وقت ایوان ِانصاف سے یہ آواز آئی تھی کہ ہو سکتا ہے عدالت کا حکم عمران کی سماعتوں سے ٹکرایا ہی نہ ہو! یعنی عمران خان ہر ادارے کیلئے لاڈلے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ ریاستی اداروں کے دباؤ پر ہمارا میڈیا کئی برس عمران خان کی توصیف پر مامور رہا۔ کسی نے زبان کھولی تو نوکری سے گیا۔ کسی نے زیادہ حق گوئی کی کوشش کی تو گولیوں، اغوا، قیداور تشدد کا مستحق قرار پایا۔ ہر زمانے میں، ہر حکومت کے قصیدہ خواں ہوتے ہیں مگر ایک میڈیا گروپ کو چھوڑ کر پورے کا پورا میڈیا ہی ایک لاڈلے کی خدمت میں جت گیا، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جب خان صاحب وزارت عظمیٰ کی مسند پر براجمان تھے تب بھی بس جنبشِ ابرو سے فرمائش کرتے تھے اور سب کام ہو جاتے تھے۔ کون سا بل منظور کروانا ہے؟ کتنے بندوں کی اجلاس میں حاضری درکار ہے؟ کس کو الیکشن جتوانا ہے، کس کے ووٹ غائب کرنے ہیں، کس کو نیب کے ہاتھوں گرفتار کروانا ہے، خان صاحب کو بس فرمائش کرنی پڑتی تھی اور پھر ہر رستہ کھلتا چلا جاتا تھا۔
عمار مسعود کے بقول اب کہنے کو تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا مگر لاڈلے کی روایت قائم ہے۔ اب بھی اندرونِ خانہ ان کے چاہنے والے بہت ہیں۔ ان کی ہر فرمائش پوری کرنے والوں کی اب بھی کمی نہیں ہے۔ لیکن اب ان کی فرمائشیں ایسی ہو رہی ہیں جن پر عمل کروانا مائی باپ کے بس کا روگ نہیں رہا ۔ اب کون امریکہ سے حقیقی آزادی انہیں دلوائے، آئی ایم ایف کو کون سمجھائے کہ خان صاحب کے دور اقتدار کے بارے میں سچ بولنے سے پرہیز کرے۔ کون عدالتوں سے فارن فنڈنگ والے کیس کوختم کرائے۔
عمار کہتے ہیں کہ دیکھا یہی گیا ہے کہ جو ماں باپ اپنے بچوں کو لاڈلا بناتے ہیں وہ عموماً نقصان میں رہتے ہیں۔ ایسے بچے ایک حد کے بعد ماں باپ پر ہی الزام لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان کی بنی بنائی عزت کی لاج نہیں رکھتے۔ ایسے میں ماں باپ کے پاس یہ کہنے کا بھی چارہ نہیں رہتا کہ’’ بچہ ہے بڑا ہو کر سنبھل جائے گا‘‘ کیونکہ بچے کے سنبھلنے تک گھر کی ہر کل بگڑ چکی ہوتی ہے۔ اب عمران ہیجان میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہیں کسی کا پاس نہیں۔ وہ ہر چیز کو روندتے ہوئے ہوسِ اقتدار میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اب نہ ان کو اپنے محسنوں کا پاس ہے، نہ مائی باپ کا خیال ہے، نہ وہ آئین جیسی چیزوں کی پروا کرتے ہیں، نہ قانون ان کا راستہ روکتا ہے، نہ عوام کا درد ان کے دل میں جاگتا ہے، نہ سیلاب کی تباہ کاریاں ان کو انتشار سے باز رکھ سکتی ہیں ، نہ معیشت کی بدحالی ان کو نفاق پھیلانے سے روک سکتی ہے۔ اب اگر لاڈلے کی نافرمانیاں اسی طرح جاری رہیں تو وہ دن دور نہیں جب باپ سرزنش کرے گا اور ماں اس کے وجود پر ہی آنسو بہائے گی کیونکہ اب خدشہ یہ ہو چلا ہے کہ اگر اس نے ہمارے گھر کو ہی آگ لگا دی تو سب پچھتاوے کی راکھ کرید رہے ہوں گے۔
