توہین عدالت پرعمران کے بچ جانے کا امکان کیوں ہے؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان کے خلاف کوئی سخت فیصلہ نہیں دے گی بلکہ اب بھی انکو بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لے گی۔ لیکن اگر اسلام آباد ہائی کورٹ سے کوئی راستہ نہ نکل پایا تو سپریم کورٹ عمران کو ریلیف فراہم کر دے گی۔ سیٹھی کا کہنا ہے کہ عمران عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر بہت زیادہ پریشر ڈال کر اپنے مقصد میں کامیاب رہے ہیں۔ لہٰذا اب ہماری اسٹیبلشمنٹ کو سوچنا پڑ رہا ہے کہ فوج اور عدلیہ میں سپورٹ رکھنے والے عمران کے ساتھ کیسے نمٹا جائے۔ نیا دور ٹی وی کے پروگرام ‘خبر سے آگے’ میں اظہار خیال کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اب عمران خان اور نواز شریف کو کھیلنے کے لیے ایک جیسا میدان دے گی۔ اس منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اس پلان کے تحت نواز شریف اور اسحاق ڈار دونوں واپس آئیں گے لیکن نواز شریف واپس آ کر جیل نہیں جائیں گے۔ نئے الیکشن جنوری 2023 میں ہوں گے۔ شہباز شریف حکومت کی چھٹی ہو جائے گی اور نگران حکومت نیا آرمی چیف لگائے گی۔ تاہم نئے الیکشن کا اعلان ہونے سے قبل پنجاب میں پرویز الٰہی حکومت ہٹا کر دوبارہ سے (ن) لیگ کو دے دی جائے گی۔ عمران خان کے سر پر اسٹیبلشمنٹ کی تمام تلواریں لٹکی رہیں گی مگر استعمال نہیں ہوں گی۔ اسکے علاوہ نگران حکومت عمران، نواز شریف، آصف زرداری اور اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت سے بنے گی۔

تاہم دوسری جانب اسلام آباد کے با خبر حلقے نجم سیٹھی کے اس تھیسیس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنوری میں انتخابات ہونا ہوتے تو موجودہ حکومت جولائی میں ختم ہو چکی ہوتی اور اس وقت ملک میں نگران حکومت موجود ہوتی۔ انکا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں سیلاب کی جو صورت حال ہے اس کے باعث ویسے بھی اگلے الیکشن اپنے مقررہ وقت سے پہلے کسی صورت منعقد نہیں ہو پائیں گے۔سیٹھی کے تھیسیس سے اختلاف کرنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ویسے بھی عمران خان کی جانب سے نئے الیکشن کے لیے چلائی گئی تحریک بری طرح ناکام ہو کر ختم ہو چکی ہے اور اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ بھی سیلاب ہی ہے۔ اب جب کہ عمران خان گوجرانوالہ میں اپنا آخری جلسہ کر کے فارغ ہو چکے ہیں اور ان کے سر پر توہین عدالت، فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ جیسے کیسوں کی تلواریں لٹک رہی ہیں تو شہباز حکومت کو نیا الیکشن کروانے کی کیا ضرورت ہے اور وہ بھی جنوری میں؟

دوسری جانب نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ عمران خان پس پردہ امریکہ کی گود میں بیٹھنے کے لئے تیار ہیں اور امریکی انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ بیک ڈور رابطوں میں مصروف ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کا امریکہ مخالف بیانیہ ختم ہو گیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ فواد چودھری پچھلے ہفتے اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے اپنی حکومت گرانے پر امریکہ کو گالیاں دینے تو نہیں گئے تھے۔ فواد نے امریکیوں کو بتایا ہوگا کہ ملکی اور عالمی سیاست دو الگ الگ چیزیں ہیں، سیاست میں ہر طرح کا پراپیگنڈا کرنا پڑتا لیکن در حقیقت ہم آپکے ساتھ کھڑے ہیں۔ فواد نے کہا ہو گا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو سمجھائیں کہ ہم نہ تو اسکے مخالف ہیں اور نہ ہی امریکہ مخالف ہیں۔ سیٹھی کے بقول امریکیوں سے ملاقات میں فواد نے یہ چورن بیچا ہو گا کہ حکومت سے نکلتے وقت ہمیں ایک بیانیے کی ضرورت تھی چنانچہ ہم نے امریکی مخالف بیانیہ بنا لیا، ورنہ ہم امریکہ کے مخالف نہیں ہیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پاکستانی سیاسی جماعت امریکہ مخالف نہیں ہے بشمول جے یو آئی کے۔ جب وقت آئے گا تو جے یو آئی بھی لائن میں کھڑی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اس وقت مشکل صورت حال میں ہے۔ اس نے اپنے لائے ہوئے عمران خان کو مجبوری کے تحت وزارت عظمی ٰسے نکالا مگر اس کے بعد بھی خان صاحب کی پاپولر سپورٹ ختم نہیں ہو رہی، انکا کہنا تھا کہ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو نااہل کروا کر ان کی سیاست ختم نہیں کر پائی تو عمران کو کیسے ختم کرے گی۔ عمران خان اگر دو تہائی اکثریت کے ساتھ واپس آ جاتے ہیں تو یہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی پریشانی کا باعث ہوگا اور (ن) لیگ کے لئے بھی۔ لہذا اسٹیبلشمنٹ کے لئے آرام دہ صورت حال یہی ہے کہ آئندہ کی حکومت اتحادی حکومت ہو۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت توہین عدالت کیس میں اگر کل کو عمران خان معافی مانگ لیتے ہیں تو زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ سزا سے بچنے کا اس سے بہتر راستہ اور کوئی نہیں ہے۔

Back to top button