عمران نے فوج اورعدلیہ کو مائنسں ون پرکیسے مجبورکیا؟

معروف تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ عمران خان اگر اپنی ٹرم پوری کرتے تو پبلک میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے۔ لیکن اب جبکہ وقت سے پہلے نکالے جانے کی وجہ سے وہ مقبول ہو کر پی ڈی ایم کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں تو انہیں ریڈ لائن کراس کرنے سےگریز کرنا چاہئے کیونکہ ان کے بعد کوئی اور لیڈر انکی پارٹی کو سنبھالنے والا نہیں، ویسے بھی انہیں خود بھی کسی اورپی ٹی آئی لیڈر پر اعتماد نہیں اور جن پر انہیں اعتماد ہے وہ کسی قابل نہیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ فوج اور عدلیہ کو ’’مائنس ون‘‘ فارمولے کی جانب عمران خان نے خود دھکیلا۔ ممنوعہ فنڈنگ کیس ہو، توشہ خانہ کیس ہو یا فوجداری توہین عدالت کا مقدمہ، یہ سب ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے معافی مل سکتی تھی اور ہائیکورٹ نے انہیں دو مواقع بھی دئیے، لیکن یہ خان صاحب کی انا کے خلاف ہے کہ وہ عدلیہ کے احترام میں سرخم کرتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب وہ نااہلی کے شدید ترین خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ نئے انتخابات اب زیادہ دور نہیں، لیکن اگلے برس کے دوسرے وسط سے پہلے نہیں ہوسکتے۔ عمران خان اب ذرا ٹھنڈی سانس لیں اور دوسروں کو بھی سکھ کا سانس لینے دیں۔ چند مہینوں کے انتظار سےانہیں کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ ان کی پارٹی کسی بڑے کریک ڈائون کی متحمل نہیں ہو سکتی، نہ ہی ان کے بعد کوئی ان کا جانشین ہوسکتا ہے۔ ویسے بھی جس پارلیمنٹ کے خان صاحب آئندہ لیڈر بننا چاہتے ہیں، اس کا احترام تو بحال کریں۔ پی ٹی آئی والوں کے استعفے پہلے ہی نامنظور ہوچکے ہیں۔ دو قدم آگے بڑھنے کیلئے ایک قدم پیچھے لینا ضروری ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ پاکستان کو کسی سیاسی سونامی کی جانب دھکیلنے کی بجائے ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے سیاسی استحکام آئے اور معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیلاب کی جاری تباہیوں کو جس طرح وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی ماحولیاتی بحران کے طور پر پیش کر کے عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے وہ یقیناً قابلِ داد ہے۔ ایک طرف تو شہباز حکومت ڈیفالٹ سے بچنے کیلئے سخت ترین فیصلے کررہی تھی اور ان کے نتیجہ میں ہوئی مہنگائی پر جوتے کھارہی تھی اور وزیراعظم سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی مہم میں شبانہ روز مصروف تھے۔ تو دوسری طرف عمران خان سیاسی طوفان کو بھڑکانے میں سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ مڈل کلاس کے پاپولر لیڈر کے دل و دماغ میں کروڑوں تباہ حال لوگوں کی فکر تھی نہ ان کی دادرسی کیلئے ان کے پاس کوئی وقت تھا۔ ان کے تئیں ملک بھاڑ میں جاتا ہے تو جائے، ان کی اقتدار میں واپسی کا اہتمام وہی لوگ کریں جنہوں نے اُنہیں ناجائز طور پر مسلط کیا تھا۔ بدقسمتی سے پی ڈی ایم کی کوتاہ اندیشی کے باعث اُنہیں ایک جعلی سازش کے بہانے سیاسی مقتول بننے کا موقع کیا ہاتھ آیا وہ اک نئے سیاسی دیومالائی اوتار کے طور پر سامنے آئے اور ہر طرح کی مسیحائی کے دعویدار ہیں۔ ایسے سیاسی طوفان بدتمیزی میں کوئی پاکستان کے ماحولیاتی المیے کو کیوں سنجیدہ لیتا جس کے نرگسیت پسند پاپولسٹ لیڈر کا رویہ اس قدر غیر ذمہ دارانہ تھا۔ حکومت نے بھی حالات کی سنگینی کا احساس کرتے دیر کردی کہ یہ معاشی دیوالیہ پن سے بچنے کی تگ و دو میں لگی تھی۔ اگر وفاقی حکومت کے علاوہ کوئی صوبائی حکومت حرکت میں آئی بھی تو چیف منسٹر مراد علی شاہ کی حکومت جس کی تکا بوٹی کرنے کیلئے اردو پریس ہمہ تن تیار ہوتا ہے۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ بعداز سیلاب کی تباہ کاریاں ابھی سے عیاں ہورہی ہیں۔ لاکھوں ایکڑ زمین پر فصلیں تباہ، لاکھوں گھر مسمار، کروڑوں لوگ بیروزگار اور تباہ حال، مال مویشی، پیداواری آلات، ذرائع رسل و رسائل، بستیاں اور آبادیاں سیلاب برد ہوئیں ،ساڑھے تین کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے۔گندم، چاول، سبزیاں، گوشت ودیگر خوردنی ضروریات درآمد کرنا پڑیں گی، وبائی بیماریوں کا الگ سے سامنا ہوگا اور ادویات کی فراہمی کرنا ہوگی۔ نیز تمام تر بنیادی ڈھانچے اور انسانی پیداواری سرگرمیوں کی بحالی کیلئے زور لگانا ہوگا۔ ایسے میں درآمدات بڑھیں گی اور تجارتی خسارہ بھی بڑھے گا۔ اسوقت بھارت سے اشیائے خورد و نوش سبزیاں، گندم، کپاس، ادویات اور دیگر اشیا فوراً واہگہ کے راستے سستے داموں درآمد کرنے کا فیصلہ کیا جائے، اس سے کشمیریوں کو کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ پاکستان کے حالات متقاضی ہیں کہ ہم اپنے قومی سلامتی کے جنگجوانہ نظریے کو خیرباد کہیں اور معاشی و انسانی و ماحولیاتی سلامتی کی راہِ عمل کو اپنائیں۔
