ایران کا یورینیم کی افزودگی 20 فیصد بڑھانے کا عندیہ

ایران نے یورینیم کی افزودگی 20 فیصد بڑھانے کا عندیہ دے دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری نگراں کے ادارے کو یورینیم کی افزودگی سے متعلق اپنا ارادہ ظاہر کردیا۔ویانا میں مقیم ایک سفارت کار نے بتایا کہ ‘یہ ایک اور دھچکا ہے’۔جوہری توانائی کے نگراں ادارے (آئی اے ای اے) نے یورینیم کی افزودگی سے متعلق ایران کے ارادے کی تصدیق کی۔آئی اے ای اے نے کہا کہ ایران نے ایجنسی کو آگاہ کیا ہے کہ حال ہی میں ملک کی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور شدہ قانونی عمل کی تعمیل کے لیے ایران کی جوہری توانائی تنظیم فورڈو فیول افزودگی کے پلانٹ میں 20 فیصد تک کم-درجے کی یورینیم افزودہ تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس سے قبل 31 دسمبر کو آئی اے ای اے کو ملنے والے ایرانی مراسلے میں افزدوگی سے متعلق باتیں کی گئی تھیں۔
آئی اے ای اے کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ایران کے خط یہ نہیں بتایا کہ یہ افزودگی کی سرگرمی کب ہوگی’۔امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور آئی اے ای اے کا خیال ہے کہ ایران کے پاس ایک خفیہ اور مربوط جوہری ہتھیاروں کا پروگرام تھا جو 2003 میں روک دیا گیا تھا۔نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے مقصد سے مشترکہ جامع منصوبے میں شامل ہوجائیں گے۔جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ کی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے ساتھ مثبت پیش رفت کے لیے ‘آخری کھڑی’موجود ہے جسے ‘ضائع نہیں ہونا چاہیے’۔ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی سے متعلق بیان ایسے وقت پر سامنے آیا جب نومبر 2020 میں ایران کے نامور جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو دارالحکومت تہران کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ایران نے کہا تھا کہ جوہری سائنسدان کے قتل میں اسرائیلی اسلحہ استعمال ہوا تھا۔
