اسلام آباد میں بے قصور طالب علم کے قتل کا کون ذمہ دار ہے؟

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق بے قصور طالب علم کے قتل کا کون ذمہ دار ہے؟۔
مریم نواز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ راتوں کو محنت مزدوری کرکے اپنے گھر والوں کے لیے رزقِ حلال کما کر لانے والے اس بے قصور طالب علم کے قتل کا کون ذمہ دار ہے؟، انسانی جان کی حرمت جس طرح پچھلے ڈھائی سال میں پامال ہوئی ہے، اسکی مثال نہیں ملتی۔ اس سے زیادہ بے حس حکومت پاکستان نے آج تک نہیں دیکھی۔
راتوں کو محنت مزدوری کرکے اپنے گھر والوں کے لیے رزقِ حلال کما کر لانے والے اس بے قصور طالب علم کے قتل کا کون زمہ دار ہے؟ انسانی جان کی حرمت جس طرح پچھلے ڈھائی سال میں پامال ہوئی ہے، اسکی مثال نہیں ملتی۔اس سے زیادہ بے حس حکومت پاکستان نے آج تک نہیں دیکھی pic.twitter.com/pMS8K890ij
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) January 2, 2021
یاد رہے کہ آج صبح انسداد دہشتگردی سکواڈ نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک اور نوجوان طالب علم کو قتل کر دیا۔ انٹرمیڈیٹ کا طالب اسامہ ندیم گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آن لائن ٹیکسی چلاتا تھا۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گاڑی کو پیچھے سے نہیں بلکہ سامنے اور داہیں بائیں سے گولیاں برسائی گئیں، گاڑی پر 17 گولیوں کے نشان پائے جن میں تین ڈرائیور اسامہ ستی کو لگیں۔ ای ٹی سی اہلکاروں نے موقف اختیا ر کیا تھا کہ نوجوان کو گاڑی نہ روکنے پر پیچھے سے فائر کیے گئے تاہم ان کا موقف غلط ثابت ہوا۔
واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کو روک کر سامنے اور دائیں بائیں سے متعدد فائر کیے گئے، جھوٹ کا پول کھلنے کے بعد مدثر مختار، شکیل احمد، سعید احمد، محمد مصطفے اور افتخار احمد نامی پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔مقتول نوجوان اسامہ ندیم اسلام آباد کے علاقے جی 13 میں اپنے والد کے ہمراہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا اور انٹرمیڈیٹ کا طالب ہونے کیساتھ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آن لائن ٹیکسی چلاتا تھا۔ آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لئے ڈی آئی جی کی سربراہی میں انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے جبکہ وزیر دا خلہ شیخ رشید نے فوری قتل کے مقدمے کے اندراج کا حکم دے دیا ہے۔
مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ اسامہ ندیم رات، دو بجے اپنے دوست کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا تو راستے میں پولیس اہلکاروں کیساتھ تلخ کلامی ہوئی، بیٹے نے فون پر انہیں واقعے سے آگاہ بھی کیا، اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے ان کے بیٹے کا پیچھا کیا اور گاڑی روک کر گولیوں سے چھلنی کر دیا۔
