ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے 4 روزہ پلانری اجلاس کی تکمیل پر اعلان کیا ہے کہ پاکستان رواں سال جون تک گرے لسٹ میں ہی برقرار رہے گا۔ ایف اےٹی ایف نے پاکستان کوبقیہ نکات پر عمل کرنےکے لیے4 ماہ کی مہلت دی ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے 22، 24 اور 25 فروری کو پیرس میں ہونے والے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور پاکستان کو مزید چار مہینوں کی مہلت دی گئی ہے۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق: ’پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 24 اہداف پر عملدرآمد کرلیا ہے اور اب اسے تین اہداف پر کام کرنا ہوگا۔‘
ایف اے ٹی ایف کے مطابق: ’جن تین اہداف پر پاکستان کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ان میں نامزد شدت پسندوں یا جو ان کے لیے یا ان کی جگہ کام کر رہے ہیں، ان پر مالی پابندیاں لاگو کرنا، دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات اور مقدمات اور ان افراد یا اداروں کو ٹارگٹ کرنا شامل ہیں، جو ان کی جگہ کام کر رہے ہیں۔‘مزید کہا گیا: ’ان تین اہداف کے مکمل ہونے کے بعد ایف اے ٹی ایف ان کی جانج پڑتال کرے گا اور ان کی پائیداری کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘ایف اے ٹی ایف کے مطابق: ’پاکستان کو ایکشن پلان کے تمام اہداف کو مکمل کرنے کے لیے جون 2021 تک کا وقت دیا جاتا ہے۔‘
واضح رہے کہ 2018 میں گرے لسٹ پر ڈالے جانے کے بعد ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے لیے 27 اہداف کا تعین کیا گیا تھا۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے گذشتہ برس 23 اکتوبر کو پیرس میں ہونے والے آخری اجلاس میں بھی پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا
اکتوبر2020 کوہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی جانب سے 27 میں سے 21 نکات پر عمل درآمد پر مثبت پیش رفت کو سراہتے ہوئے بقیہ چھ نکات پر بھی عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے چھ نکات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت کی بڑی سطح پر چھان بین اور اس کی تفتیش یقینی بنانا، اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیے گئے افراد کی تفتیش اور ان کے خلاف مقدمے چلانا اور ایسے افراد کے خلاف بھی مقدمے چلانا شامل تھا جو اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد افراد کے ماتحت اِسی طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہوں۔
اس کے علاوہ پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ ’دہشت گردی کی معاونت کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں جیسے بینکوں وغیرہ کو انتظامی اور دیوانی سزائیں ملیں اور اس سلسلے میں صوبائی اور وفاقی ادارے تعاون کریں۔‘
اکتوبر میں ہونے والے اجلاس کے بعد پاکستان نے ایف اے ٹی ایف پر کی گئی قانون سازی پر عمل درآمد کو تیز کرتے ہوئے موثر اقدامات اٹھائے ہیں جن میں اقوام متحدہ کی دہشت گردی کی فہرست میں شامل افراد کے خلاف مقدمے قائم کرنا اور انہیں سزائیں دینا شامل ہیں۔
گذشتہ سال نومبر میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو دہشت گردی کی مالی معانت کے الزام میں 10 سال سے زائد قید کی سزا سناتے ہوئے ان کے تمام اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔
رواں برس جنوری میں لاہور ہی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے اہم رہنما ذکی الرحمن لکھوی کو بیرون ملک سے فنڈ حاصل کرنے اور دہشت گردی میں مالی معاونت کرنے کے الزام میں 15 سال سے زائد قید کی سزا سنائی تھی۔
اسی طرح کالعدم تنظیم کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ایف ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق ’پاکستان نے 27 نکات کے ایکشن پلان میں سے 21 نکات پر مکمل طور پر عمل درآمد کر لیا ہے جسے ایف اے ٹی ایف کے ممبران کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ’ہم سمجھتے ہیں کہ بقیہ چھ نکات پر بھی کافی حد تک کام ہوچکا ہے اور کچھ حصوں پر پیش رفت جاری ہے۔ امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا جائے گا۔
سابق چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف کے مطابق ’پاکستان کی جانب سے ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس پر ہم اپنا موقف درست انداز میں پیش کر سکتے ہیں لیکن اس بار پاکستان کی جانب سے ایسے سفارتکاری نظر نہیں آئی جو ہونی چاہیے تھی۔‘ہارون شریف کے مطابق اس معاملے پر پاکستان نے قانون سازی بھی کی ہے اور کئی ایسے اقدامات بھی اٹھائے ہیں جو کہ کافی مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن ’اب یہ معاملہ صرف قانون سازی کی حد تک نہیں رہا بلکہ اس پر سفارتی محاذ پر بھی لابنگ کرنے کی ضرورت تھی جو کہ اس بار نظر نہیں آ رہی۔‘
دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود کے خیال میں بھی پاکستان کو پیرس میں جاری جائزہ اجلاس سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ’پاکستان نے کئی ایسے اقدمات کیے ہیں جو کہ ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے مطابق تھے لیکن ابھی بھی کچھ ایسے اقدمات کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف فوری طور پر پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالے گا۔‘
لیفٹنٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے مزید کہا کہ ’ایف اے ٹی ایف کے خیال میں پاکستان کو کالعدم تنظیموں پر مزید سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے، گو پاکستان نے ایسے اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی مزید کارروائی کا بھی مطالبہ سامنے آ سکتا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان میں ایسے ادارے موجود ہیں جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات اٹھا رہے ہیں لیکن نئے قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے ابھی وقت درکار ہے۔‘سابق چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ایف اے ٹی ایف کی جائزہ ٹیم پاکستان نہیں آ سکی، اس لیے عالمی ادارے کے پاس پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا جواز موجود ہے۔
ہارون شریف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے، اس کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جائزہ ٹیم نے پاکستان آنا تھا جو کورونا وائرس کے باعث نہیں آسکی۔ اس لیے پاکستان کو جائزہ نہ ہونے کی وجہ سے گرے لسٹ میں مزید کچھ وقت کے لیے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘
تاہم افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں آپریشن ردالفساد کے چار سال پورے ہونے کے موقع پر بریفنگ کے دوران فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا ’ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ان کی آبزرویشنز پر بہت کام کیا گیا، ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بہت پرامید ہیں۔‘
خیال رہے کہ اکتوبر 2020 میں ہونے والے گزشتہ پلانری اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کیلئے مالی معاونت کی روک تھام کے 27 نکاتی ایکشن پلان کے بقیہ 6 اہداف کے لیے فروری 2021 تک گرے لسٹ میں رہے گا۔
آخری مرتبہ کے جائزے میں بھی پاکستان کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں اور کالعدم افراد کو سزا دینے، منشیات اور جواہرات کی اسمگلنگ کو روکنے کے خلاف کارروائیوں کی کارکردگی میں خامیاں تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button