خود کشی کرنے کی بجائے کپتان نے قرض بھی لیا اور ٹکٹ بھی دیا

وزیراعظم منتخب ہونے سے پہلے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی پالیسی پر کڑی تنقید کرنے والے وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف سے قرضے پر قرضہ لے کر پاکستان میں مہنگائی کا طوفان برپا کرنے والے امپورٹڈ حفیظ شیخ کو سینٹ کا امیدوار بنا کر اپنی ساکھ کا بحران مزید گہرا کردیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے حفیظ شیخ کو یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں سینیٹر منتخب کروانے کی سر توڑ کوششوں کو دیکھتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ کپتان نے اپنی رہی سہی اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی ہر تقریر میں عوام کو تو سیاسی اخلاقیات کا گھسا پٹا بھاشن دیتے ہیں لیکن انکے اپنے نزدیک انہی اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں۔ عمران خان خود جن نام نہاد اخلاقیات کا جھنڈا لے کر نکلے تھے وہ آج سب ایک ایک کر کے مر چکی لگتی ہیں اور ان کے جنازے جا بجا نظر آتے ہیں۔
2018 کے الیکشن سے پہلے آئی ایم ایف سے بطور وزیراعظم قرضہ لینے پر خود کشی کو ترجیح دینے کا اعلان کرنے والے عمران خان کی حکومت پچھلے ڈھائی برسوں میں آئی ایم ایف سے پاکستانی تاریخ کا ریکارڈ توڑ قرض حاصل کر چکی ہے اور اب حالات یہ ہیں کہ پرانے قرضہ چکانے کے لیے نئے قرضے لیے جارہے ہیں۔ کپتان نے سب سے پہلے سیاسی اخلاقیات کا جنازہ تب نکالا جب انہوں نے ماضی میں پاکستان کے سب سے بڑے چور اور ڈاکو قرار دینے والے گجرات کے چوہدریوں کے ساتھ مل کر پنجاب اور مرکز میں حکومت قائم کی۔ تاب سے لیکر حفیظ شیخ کو سینیٹ امیدوار بنانے تک کپتان نے بار بار ثابت کیا ہے کہ جن اخلاقی قدروں کا وہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے تقاضا کرتے تھے، اقتدار میں آ کر انہون نے خود بڑے دھڑلے کے ساتھ ان کا جنازہ نکالا ہے۔
سنیئر صحافی اور کالم نگار روف کلاسرا اپنے تازہ تجزیئے میں لکھتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل خان صاحب کو سب سے بڑا فائدہ ہائی مورال گرائونڈز لینے کا ہوا۔ وہ ہر بات پر ہائی مورال گرائونڈ لے لیتے کہ میں ہوتا تو یہ نہ کرتا، یہ نہ ہونے دیتا، چوروں ڈاکوئوں کو ساتھ ملا کر کبھی حکومت نہ بناتا۔ میں وزیراعظم ہوتا تو ایم این ایز سے بلیک میل نہ ہوتا، اپوزیشن میں بیٹھ جاتا لیکن کٹھ پتلی نہ بنتا۔ میں ہوتا تو پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکوؤں کے ساتھ کبھی الائنس نہ بناتا جیسے زرداری نے بنا لیا تھا۔ کسی فراڈیے کو وزیر نہ بناتا۔ اُن کی ان باتوں میں سب کو جان لگتی تھی۔ سب کہتے تھے یہ بندہ جھوٹ نہیں بول رہا۔ دراصل اپوزیشن کو ہمیشہ اس کا ایڈوانٹیج ہوتا ہے اور خان صاحب کو ڈبل ایڈوانٹیج تھا کہ وہ کبھی پاور میں نہیں رہے تھے لہٰذا وہ عوام اور میڈیا کی سکروٹنی کا شکارنہیں ہوئے تھے۔
عمران خان نے ماضی میں میرٹ کے نام پر اپنے کزن ماجد خان کو کرکٹ ٹیم سے نکال دیا، اپنے کزنز حفیظ اللہ خان اور انعام اللہ نیازی کو تحریک انصاف کے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا۔ ان فیصلوں سے لوگوں کو لگا کہ ان کے ہاں بڑا سخت میرٹ چلتا ہے اور وہ اپنوں کا بھی لحاظ نہیں کرتے۔ کرکٹ کے زمانے سے عمران کی یہ شہرت تھی کہ وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتے۔ عمران کی ایمانداری کا پہلے سے ڈنکا بج رہا تھا۔ رہی سہی کسر انہوں نے مسلسل یہ نعرے مار کر پوری کر دی کہ وہ اخلاقیات اور میرٹ پر حکومت کریں گے۔ اب سوال یہ ہے کیا 2018 سے حکومت چلانے والے خان صاحب اخلاقیات کے اس پیمانے پر پورا اترے ہیں جس کا نعرہ وہ ماضی لگاتے تھے یا جن اخلاقیات کے بگاڑ کا رونا رو رہے تھے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے روف کلاسرا کہتے ہیں کہ عمران خان اپنے پہلے ہی امتحان میں امتیازی نمبروں سے فیل ہوئے جب انہوں نے چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ سیاسی اتحاد کر لیا۔ یہ وہی پرویز الٰہی تھے جنہیں وہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا کرتے تھے۔ اب ان کے حامی فرماتے ہیں کہ جناب یہ سیاسی کھیل ہے۔ اگر وہ نہ کرتے تووہ حکومت نہیں بنا سکتے تھے۔ خان صاحب یا حکومت بنا لیتے یا سیاسی اخلاقیات بچا لیتے۔
اسی طرح ماضی میں خان صاحب فرماتے تھے کہ وہ بینک قرضے لوٹنے والوں سے پائی پائی وصول کریں گے مگر فہمیدہ مرزا جنہوں نے سپیکر قومی اسمبلی ہو کر چوراسی کروڑ روپے بینک قرضہ معاف کرایا انہیں خان صاحب نے سب سے پہلے اپنی کابینہ میں وزیر کا حلف دلوایا۔ اعظم سواتی نے سیلاب کے دنوں میں مانسہرہ میں ایک ملین روپے کے جعلی نوٹ، جو شادیوں پر استعمال ہوتے ہیں، متاثرین کے لیے عطیہ کیے اور پکڑے بھی۔ لیکن وہ خان صاحب کی حکومت میں وزیر بن گے۔ اسی طرح وہ ایم کیو ایم جس کے خلاف خان صاحب لندن جاکر بھی مظاہرہ کیا کرتے تھے اور اسے قاتلوں کی جماعت قرار دیتے تھے، آج وہ کپتان کی اتحادی یے اور کابینہ میں اسکے وزیر موجود ہیں۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ کپتان کے حمایتی یہ توجیہہ پیش کرسکتے ہیں کہ سیاست میں کمپرومائز کرنا پڑتے ہیں‘ تو جناب پھر سچ تو یہنہے کہ آپ بھی وہی کمپرومائز کررہے ہیں جو نواز شریف اور زرداری صاحب کیا کرتے تھے اور آپ ان پر تنقید کیا کرتے تھے اور خود ہائی مورال گرائونڈ لیے ہوئے تھے۔ کلاسرہ کہتے ہیں کہ اگر چودھری پرویز الٰہی پیپلز پارٹی حکومت میں وزیراعظم یوس رضا گیلانی کے ساتھ ڈپٹی وزیراعظم لگ جائیں تو وہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار پاتا تھا، لیکن اگر وہ عمران خان کے اتحادی بن جائیں تو فوراً نیک پاک ہو جاتے ہیں۔ کیا وہاں آپکی سیاسی اخلاقیات کا بیڑا غرق نہیں ہوتا۔ اگر حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیر خزانہ ہوں تو ہمارے وزیر اعظم کے نزدیک وہ کرپٹ ٹولے کا حصہ ہیں‘ لیکن وہی حفیظ شیخ گیلانی کے خلاف سینیٹ الیکشن لڑیں تو اخلاقیات کو بالکل کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔
کلاسرہ کہتے ہیں کہ نواز شریف اور زرداری دور میں سکینڈلز آ جاتے تو خان صاحب آسمان سر پر اٹھا لیتے لیکن اپنے دور میں ان کے کئی وزیر شوگر سکینڈل میں رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں تو کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ خود خان صاحب ایک غلط فیصلہ کر کے گندم باہر بھیج دیں اور اگلے سال اربوں روپے روسی کسانوں کو ادا کر کے چالیس لاکھ ٹن فندم واپس منگوا لیں تو بھی خیر ہے۔ اسی طرح چینی باہر بھیج کر کپتان کا قریبی شوگر مافیا اربوں کما لے تو بھی خان صاحب کی اخلاقیات کو کوئی اثر نہیں پڑتا۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ خان صاحب خود اپنے ذاتی یار دوست کابینہ میں وزیر بنا دیں تو بھی ان کی اخلاقیات کو مسئلہ نہیں ہے لیکن اگر زرداری صاحب اپنے دوستوں کو وزیر لگا دیں تو خان صاحب گھنٹوں اس پر تنقید کر سکتے ہیں۔ خان صاحب لوگوں پر دھاک بٹھانے کے لیے ماجد خان، حفیظ اللہ خان، انعام اللہ خان کو ٹیم اور پارٹی سے نکال سکتے ہیں لیکن اگر کوئی ہلکی سی ضابطے کی ہی کارروائی کرنا چاہے تو پورے ادارے کی سختی آ جاتی ہے۔ اس وقت سب اخلاقیات کے بھاشن ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ کلاسرہ کہتے ہین کہ عمران کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب کو اخلاقیات کا پابند سمجھتے ہیں لیکن وہی اخلاقیات ان کے اپنے نزدیک اہم نہیں ہیں۔ جن اخلاقیات کا جھنڈا لے کر وہ نکلے تھے وہ آج سب ایک ایک کر کے مر چکی ہیں لیکن داد دیں خان صاحب کو وہ اب بھی ان اخلاقیات کی بربادی کا رونا رہے ہیں جو اِن کے اپنے دور میں سنورنے کے بجائے مزید برباد ہوئی ہیں۔ بھلا ایسے فنکار پاکستان کے علاوہ اور کہاں پائے جاتے ہیں۔
