ایف اے ٹی ایف کی شرائط پرعمل درآمد کےلیے اہم بل قومی اسمبلی سے منظور

قومی اسمبلی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی اے) کی شرائط پر عمل درآمد کےلیے دیگر ممالک سے تحویل مجرمان اور معلومات کا بل میوچوئل لیگ اسسٹنس (مجرمانہ معاملات) 2019 منظور کرلیا۔ بل پر پیپلز پارٹی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
تفصیلات کے مطابق دوران اجلاس جب ’’میوچوئل لیگ اسسٹنس (مجرمانہ معاملات) بل 2019 ‘‘ اسمبلی میں پیش کیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے بل کو پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے حکومت دیگر ممالک سے معلومات حاصل اور ان کے مطالبے پر اپنے شہریوں کو بغیر کوئی معاہدہ کیے ان کے حوالے کرے گی۔ نوید قمر کا مزید کہنا تھا کہ دیگر ممالک پاکستانی حکومت کی جانب سے مطلوبہ ملزمان کو حوالے کرنے کی درخواست کو پر عمل نہیں کرتے کیوں کہ یہ تاثر موجود ہے کہ پاکستان میں مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے جاتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بل وفاقی سکریٹری داخلہ کو کسی بھی شہری کے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس اور ٹرانزیکشن کی معلومات حاصل کرنے کے ’پے پناہ اختیارات‘ دے گا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن نے اس بل کی منظوری کو ملکی سالمیت پر سمجھوتہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان جیسے ممالک کو کالونیز بنانے کی کوشش کررہے ہیں جو ان پر معاشی انحصار کرتے ہیں، بل کی مخالفت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنے کے لیے جلدی نہ کریں بلکہ پہلے اس معاملے پر بات چیت کریں۔
وزیر پارلیمانی امور کے ساتھ ساتھ وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر اور وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فود چوہدری نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل قانون کے تحت حکومت کسی ملک سے قصورواروں، مجرموں، ملزمان اور گواہاں کی لوکیشن اور شناخت کے ساتھ لگائی گئی دفعات، دستاویزات اور شواہد جاننے کے بارے میں درخواست کرسکے گی۔
اس کے علاوہ حکومت پاکستان میں چلنے والے کارروائی یا تفتیش، یا ملکی قانون کے تحت آنے والے معاملات کے سلسلے میں متعلقہ شواہد تلاش کرنے کےلیے سرچ وارنٹ اور دیگر قانونی راہیں حاصل کرسکے گی۔ علاوہ ازیں اس بل کے ذریعے حکومت قانونی کارروائی کے ذریعے ایسی املاک کو منجمد یا قبضہ کرسکتی ہے جو اس ملک میں چلنے والی قانونی کارروائی یا تفتیش سے متعلق ہو۔ اس بل کے ذریعے جو ملک پاکستان کے ساتھ تعاون پر رضامند ہو اس میں موجود کسی شخص کی متعلقہ تفتیش یا کارروائی کے سلسلے میں زیر حراست منتقلی کی جاسکے گی۔
اپوزیشن جماعتوں نے شروع میں اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے وزیر پارلیمانی امور کو بل پیش کرنے کے زبانی ووٹ لینے کی رولنگ کو چیلنج کر کے بل کی منظوری کو روکنے کی کوشش کی لیکن انہیں 87 کے مقابلے 83 ووٹس سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد بل میں 4 معمولی ترامیم کی گئیں جن میں 2 کو بل میں شامل بھی کردیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button