ایرانی قوم کو کبھی دھمکی نہ دینا

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے 52 اہداف کو نشانے بنانے کے جواب میں امریکہ کو 290 کا ہندسہ یاد کرایا۔
ٹوئٹر پر ایرانی صدر حسن روحانی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا کہ ’جو 52 کے نمبر کا حوالہ دے رہے ہیں انہیں آئی آر655 کے 290 کے نمبر کو بھی یاد کرلینا چاہیے، ایرانی قوم کو کبھی دھمکی نہ دینا’۔
Those who refer to the number 52 should also remember the number 290. #IR655
Never threaten the Iranian nation.— Hassan Rouhani (@HassanRouhani) January 6, 2020
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کے بعد ایرانی قیادت کے بیانات پر تہران کے ثقافی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکیوں یا امریکی اثاثوں پر حملہ کیا تو ہم 52 ایرانی اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ 52 اہداف میں سے چند ایران اور ایرانی ثقافت کےلیے نہایت اہم اور اعلیٰ سطح کے ہیں اور ان اہداف سے ایران کو بہت بڑا دھچکا لگے گا، امریکا مزید دھمکیاں نہیں دینا چاہتا’۔
حسن روحانی نے 52 اہداف کا ذکر کرنے پر 290 کے نمبر کی طرف بھی اشارہ کیا جو امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ایرانی مسافر جہاز کو نشانہ بنانے کے بدترین واقعے کی یاد دلانا تھا۔
یاد رہے کہ ایران میں انقلاب کے بعد نومبر 1979 میں 52 امریکی شہریوں کو یونیورسٹی کے طلبہ نے یرغمال بنایا تھا جو ایرانی انقلاب کے حامی تھی۔طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کے بعد بالآخر20 جنوری 1981 کو تمام 52 افراد کا رہا کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں جولائی 1988 میں خلیج فارس میں امریکی نیوی کے جنگی جہاز نے ایرانی ہوائی جہاز کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 66 بچوں سمیت تمام 290 مسافر جاں بحق ہوگئے تھے۔
امریکی صدر نے یہ بیان سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر حسن روحانی کی جانب جنرل قاسم سلیمانی کےقتل کا بدلہ لینے کے اعلان پر دیا اور کہا کہ ’انہیں سڑکوں پر بم استعمال کرنے اور ہمارے لوگوں کو دھماکے سے اڑا دینے کی اجازت ہے اور ہمیں ان کے ثقافتی مقامات کو چھونے کی بھی اجازت نہیں؟ اب ایسا نہیں چلے گا‘۔
واضح رہے کہ عالمی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور ثقافتی املاک کے تحفظ سے متعلق ہیگ کنونشن 1954 کے تحت فوجی کارروائی کے ساتھ ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانا جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت 2017 میں ٹرمپ انتظامیہ نے کی تھی۔
