امریکا نے ایرانی وزیر خارجہ کو ویزا دینے سے انکار کردیا

امریکا ایران کشیدگی کے پیش نظر امریکا نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ میں شرکت کےلیے ویزا دینے سے انکار کردیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے جمعرات کو سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت کرنی تھی۔
تاہم اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ جواد ظریف کو ویزا نہ دینے کے امریکی فیصلے کے بارے میں اسے ابھی باضابطہ کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ ہم نے میڈیا میں اس طرح کی رپورٹس دیکھی ہیں لیکن وزیر خارجہ جواد ظریف کے ویزا کے بارے میں امریکا یا اقو ام متحدہ کی طرف سے ہمیں باضابطہ کوئی اطلاع نہیں موصول ہوئی۔
خیال رہے کہ جواد ظریف کو جمعرات کے روز سلامتی کونسل کے مقررہ اجلاس میں شرکت کےلیے نیویارک آنا تھا۔ یہ پیش رفت جمعہ کے روز بغداد میں امریکی حملے میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے اس دوران دنوں ممالک کے مابین دھمکیوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ دھمکیوں کے تبادلے میں آخری بیان ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے سامنے آیا پیر کے روز روحانی نے ٹویٹر پر کہا کہ جو لوگ 52 نمبر کا حوالہ دیتے ہیں انہیں 290 کے عدد کو یاد رکھنا چاہیے واضح رہے کہ امریکا نے 3 جولائی 1988کو ایران کے مسافر بردار جہاز کو مار گرایا تھا جس میں 274 مسافروں 16 عملے کے ارکان لقمہ اجل بن گئے تھے جن میں 66 بچے بھی شامل تھے ایران ائیر کی فلائٹ 655 تہران سے دوبئی جاتے ہوئے امریکا کے جنگی بحری بیڑے سے فائر کیئے گئے گائیڈڈ میزائل کا شکار ہوگئی تھے جس کے بعد ایران نے عراق کے ساتھ جاری 8 سالہ جنگ روکنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکا نے ایران میں 52 مقامات کی نشان دہی کی ہے جنگ کی صورت میں ان مقامات کو سرعت اور طاقت کے ساتھ نشانہ بنایا جائے گا اگر ہمارے لوگوں یا مفادات پر ایران حملہ کرتا ہے تو ایران کے باون مقامات ہمارے نشانے پر ہوں گے. یاد رہے کہ امریکا نے گزشتہ برس جولائی میں نیویارک آنے والے ایرانی وزیر خارجہ کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا انہیں اقوام متحدہ کی عمارت کے پڑوس میں 3 عمارتوں سے زیادہ آگے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس وقت مذکورہ پابندیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیویارک میں ایرانی سفارت کاروں کی نقل و حرکت پر امریکی روک ٹوک ”غیر انسانی“ ہے.
