مودی سرکار پاکستانی شعراء کی شاعری سے خوفزدہ کیوں؟

متنازع شہریت بل کے خلاف بھارت میں جاری احتجاجی مظاہروں میں علامہ اقبال ، فیض احمد فیض اور حبیب جالب کی مزاحمتی شاعری کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ مودی سرکار ان شعراء کی انقلابی شاعری کو ہندو مخالف اور جمہوریت دشمن قرار دے کر احتجاجی مظاہروں میں یہ انقلابی شاعری سنانے والے طلبہ و طالبات کے خلاف کارروائی کا منصوبہ بنا رہی ہے مگر گلزار اور جاوید اختر جیسے بھارتی دانشور اور شعراء مسلسل اقبال، فیض اور جالب کا دفاع کررہے ہیں۔
بھارت میں شہریت کےمتنازع قانون کے خلاف پورے ملک میں جاری احتجاج میں طلبہ ہراول دستہ بنے ہوئے ہیں۔ سخت سردی میں گھنٹوں جاری رہنے والے ان احتجاجی مظاہروں میں طلبہ و طالبات لہک لہک کر پاکستانی شعراء کی انقلابی شاعری باقاعدہ کورس کی صورت ترنم سے گا رہے ہیں جن میں اقبال، فیض اور جالب نمایاں ہیں۔ پاکستانی شعراء کے انقلابی اور مزاحمتی کلام نے مودی سرکار کی مت مار کے رکھ دی ہے۔ 1979 میں لکھی گئی فیض کی لازوال نظم ہم دیکھیں گے ۔۔۔ کے ایک مصرعے
جب ارض خدا کے کعبے سے بت اٹھوائے جائیں گے۔۔۔ سے بھارت سرکار کو اپنا دھرم ہندو مت خطرے میں دکھائی دینے لگا ہے۔
اسی دوران اتر پردیش کے شہر کانپور میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ پروفیسر واشی منت شرما نے حکومت کے ایما پر کچھ طلبا کے خلاف شکایت درج کرائی کہ وہ پاکستانی شعرا کی مزاحمتی شاعری گاتے ہوئے نفرت پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی شکایت میں خاص طور پر فیض احمد فیض کے ان اشعار پر سخت اعتراض کیا:
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
ہم دیکھیں گے ،،،،
پروفیسر شرما کے مطابق ان اشعار میں تمام بتوں کو ہٹانے کی بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آخر میں صرف اللہ کا نام باقی رہے گا۔
اسی طرح حبیب جالب کی شہرہ آفاق نظم دستور بھی ان دنوں بھارت میں احتجاجی مظاہروں کے دوران خوب مقبول ہے۔ یاد رہے کہ جالب نے یہ نظم فیلڈ مارشل ایوب خان کی فوجی آمریت کے خلاف لکھی تھی جو آج دنیا بھر میں جبر، دھونس اور آمریت کے خلاف ایک توانا آواز سمجھی جاتی ہے۔ اپنی اس نظم میں حبیب جالب نے کہا تھا:
ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
اس نظم اور اپنی دیگر انقلابی نظموں کے لیے جالب متعدد بار جیل بھی گئے۔ جالب نے اس نظم میں اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے متعارف کروائے گئے 1962 کے آئین کو مسترد کیا ہے اور ایسی مزاحمتی شاعری فسطائیت کے عروج کے دور میں زیادہ مقبول ہوتی رہی ہے۔ بھارت میں شہریت کے قانون سے متعلق جتنے بھی مظاہرے ہو رہے ہیں ان میں حبیب جالب کی نظم ’دستور‘ نہ صرف پڑھی جا رہی ہے بلکہ نظم کے بعض مشہور اشعار پوسٹروں اور بینروں پر دیکھے بھی جا سکتے ہیں۔
بھارت میں جب فیض اور جالب کے مزاحمتی کلام سے متعلق تشویش حد سے بڑھ گئی تو معروف دانشور اور شاعر سمپورن سنگھ گلزار اور جاوید اختر میدان میں آئے اور کھل کر ان شعراء اور ان کی شاعری کا دفاع کیا۔ جاوید اختر نے ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ فیض احمد فیض کی شاعری پر اعتراض انتہائی احمقانہ اور مضحکہ خیز بات ہے۔ جاوید اختر کے مطابق فیض کے کلام کو مذہبی تعصب کی عینک اتار کر دیکھانے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ایک اعلانیہ کمیونسٹ تھے۔ انھوں نے اپنی مشہور نظم ہم دیکھیں گے، 1979 میں کہی تھی۔ اس وقت انھوں نے یہ نظم پاکستان کے آمر جنرل ضیاء الحق کے خلاف لکھی تھی۔
گلزار کے بقول فیض کوئی بنیاد پرست لکھاری نہیں بلکہ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر اور ترقی پسند تحریک کے سرخیل تھے لہذا ان کی شاعری کو مذہبی رنگ دینا مناسب نہیں۔ فیض اپنے خیالات اور نظریات کی وجہ سے پاکستان میں بھی ملک دشمن قرار دیئے گئے، یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ملک کا حشر نشر دیکھ کر یہاں تک کہہ دیا کہ
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
خیال رہے کہ فیض کو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روس اور مغربی ممالک می گزارنا پڑنا اور 1984میں فیض اس دنیا کو الوداع کہہ گئے جس کے بعد 1986 میں لاہور کے الحمرہ آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم میں گلوکارہ اقبال بانو نے یہ نظم گا کر اسے امر کر دیا۔
حالیہ احتجاجی لہر میں طلبہ اور سول سوسائٹی کی جانب سے فیض اور جالب کے کلام پر تنازعہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل بھارت میں 117 سال پہلے لکھی گئی علامہ اقبال کی نظم ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“ بھی ہندووں کے خلاف قرار دے دی گئی تھی۔
آج بھارت میں نریندر مودی جیسے متعصب ، تنگ نظر شدت پسند حکمران کے عہد میں جہاں مسلمانوں اور اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے وہاں مزاحمتی ادب کے اشاروں کنایوں اور استعاروں سے نابلد کٹڑ ھندو اسے اپنے بھگوانوں کے خلاف سازش سمجھنے پر مجبور ہیں لیکن دوغلے پن کا ثبوت دیتے ہوئے اقبال کے کلام سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا کو بدستور سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔
