منی لانڈرنگ کی سزا اور جرمانے میں اضافے کی سفارشات منظور

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے منی لانڈرنگ کی سزا ایک سال تا 10سال کرنے کی سفارش منظور کرلی ہے، منی لانڈرنگ کے ملزم کو 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا جائے گا، منی لانڈنگ میں ملوث افراد کی جائیداد ضبطگی کی مدت 90 دن سے بڑھا کر 180 دن کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کیلئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی قانون سے متعلق تجاویز پر سفارشات کی منظوری دی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے منی لانڈرنگ کی کم ازکم سزا ایک سال اور ملزم کو 50 لاکھ روپے جرمانہ کرنے کی سفارش منظور کرلی ہے، اسی طرح منی لانڈرنگ میں زیادہ سے زیادہ سزاکی مدت 10سال مقرر کی گئی ہے۔
قائمہ کمیٹی نے منی لانڈنگ میں ملوث افراد کی جائیداد ضبطگی کی مدت 90 دن سے بڑھا کر 180دن کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ یعنی ملزم کی تحقیقات کے دوران اس کی جائیداد کو 180دن تک قبضے میں رکھا جائے گا۔اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ بینک ریکارڈ اور تحقیقات کیلئے 190دن ضروری ہیں۔انٹی منی لانڈرنگ قانون میں ترمیم ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت کی گئی ہے۔ اجلاس میں سینیٹر عائشہ رضا فا روق نے کہا کہ سزائیں سخت کرنے سے کیا مقاصد حاصل ہو جائیں گے ۔ ڈی جی ایف ایف آئی اے نے کہا کہ سزائیں سخت کرنے کیلئے بھارت سعودی عرب اور ملائیشیا کی سزاؤں کا جائزہ لیا، تکنیکی طور پر سزا میں اضافہ قانون کی خلاف ورزی روکنے میں معاون ہوتا ہے۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیٹف کی طرف سے سزا بڑھانے کیلئے نہیں کہا گیا انہوں نے فنانشل معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ۔ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ اگر قید کی سزا تین سال سے کم ہو تو یہ قابل ضمانت ہوتی ہے اسے نا قابل ضمانت بنانے کیلئے دس سال کیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اہم چیز گورننس ہے صرف سزا سخت کرنے سے جرم ختم نہیں ہوتے ، پہلے ہی دس لاکھ روپے کی رقم پر ایک سے دس سال تک قید ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ جرمانہ پچاس لاکھ روپے تک کر دیں تاہم سزا کی حد برقرار رکھتے ہیں ۔ قائمہ کمیٹی کے بلز کو منظوری کیلئے قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button