ایف اے ٹی ایف کے مطالبے پر رئیل اسٹیٹ میں ایپ متعارف

حکومت پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایسی ایپ متعارف کروائی ہے جس کا مقصد ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ایسے افراد کو سرمایہ کاری کرنے سے روکنا ہے جن پر کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کا الزام ہے۔
اس ایپ کے ساتھ ساڑھے چار ہزار ایسے افراد کی فہرست بھی شامل ہے جن پر کالعدم تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔ وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق ملک کے سویلین اور فوجی خفیہ اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں ان افراد کے نام اس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔
ایشیائی ملکوں سے متعلق ایف اے ٹی ایف کے گذشتہ اجلاس کے بعد اس ایپ کو متعارف کروایا گیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اس ضمن میں ملک بھر کے ایسے تمام افراد کو نہ صرف اس ایپ کا لنک بھیجا ہے جو ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں بلکہ ان کو اس حوالے سے اپنے اپ کو ایف بی ار میں رجسٹرڈ کروانے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ حکام کے مطابق ان ہدایات کی روشنی میں ملک بھر سے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہزاروں افراد نے خود کو ایف بی آر میں رجسٹر کروا لیا ہے۔
یہ ایپ دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے نیکٹا کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے جس میں ساڑھے چار ہزار افراد کی فہرست بھی شامل ہے جن میں ان افراد کے نام ہیں جن پر کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کرنے کا الزام ہے۔ اس فہرست میں جن افراد کے نام شامل ہیں ان کے ساتھ ان افراد کے زیر استعمال شناختی کارڈز کے نمبر بھی دیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس پیرس میں شروع ہے جس میں پاکستانی وفد ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں کالعدم تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے افراد کو سرمایہ کاری سے روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کرے گا۔
پاکستان میں اس وقت کالعدم تنظیموں کی تعداد 79 ہے۔ دہشتگردی سے نمٹنے کے قومی ادارے نیکٹا کی ویب سائٹ کے مطابق جس تنظیم کو سب سے پہلے کالعدم تنظیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا وہ لشکر طیبہ تھی اور اس کو سنہ 2002 میں کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا جبکہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ابھی تک اس فہرست میں آخری کالعدم جماعت ہے جسے رواں سال اپریل میں کالعدم جماعتوں میں شامل کیا گیا۔
فیڈریشن آف ریئلٹرز پاکستان کے صدر سردار طاہر محمود کا کہنا ہے کہ اس ایپ کے تحت اگر کوئی بھی ایسا شخص جس کا نام ان ساڑھے چار ہزار افراد میں شامل ہے، ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کے لیے آتا ہے تو جونہی مذکورہ ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے سرمایہ کاری کرنے والے شخص کے زیر استعمال شناختی کارڈ کا نمبر اس میں ڈالیں گے تو فوری طور پر سرخ ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں اسی لنک کے ذریعے تمام معلومات ایف بی آر کو بھیجی جائیں گی اور ایف بی آر کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے شخص کے خلاف کارروائی کرنے کے مجاذ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ایپ کا لنک ایف اے ٹی ایف سے متعلق ایف بی آر میں قائم کیے گئے ڈیسک پر کام کرنے والے افراد کے پاس بھی موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ جونہی اگر کوئی ایسا شخص جس کا نام اس فہرست میں شامل ہے، وہ اگر کوئی پلاٹ خریدتا ہے تو اس کی معلومات خود بخود ہی اس ڈیسک کے پاس پہنچ جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ایپ کو متعارف کروانے سے پہلے بھی ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک افراد بینکوں کے ذریعے ہی جائیداد کی خریدو فروخت کرتے تھے۔
سردار طاہر محمود کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے ہی سے چار ہزار کے قریب ایسے افراد کے اکاؤنٹس منجمند کردیے تھے جن پر کسی کالعدم یا شدت پسند تنظیم کا متحرک کارکن ہونے اور یا ان تنظیموں کی مالی معاونت کرنے کا الزام ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ایپ کے متعارف ہونے سے پہلے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک افراد کو اس بارے میں شدید خدشات تھے کہ ہوسکتا ہے کہ ان کے کاروبار پر مزید سختیاں عائد کی جائیں لیکن ایسا نہیں ہوا اور ایف بی آر نے ریئل اسٹیٹ اور سونے کے کاروبار سے منسلک افراد کے ان خدشات کو دور کیا ہے۔
ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے وابستہ ضمیر حیدر نے بتایا کہ اس ایپ کے متعارف کروانے سے پہلے بہت سے غیر متعلقہ اداروں کے اہلکار نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے عہدیداروں کو ایف اے ٹی ایف کی رپورٹس کی روشنی میں ان کے منصوبوں سے متعلق دستاویزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ بہت سے غیر متعلقہ اداروں کے اہلکار متعدد نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے عہدیداروں کو کالعدم تنظیموں کو ریئل اسٹیٹ کے بزنس میں سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں بلیک میل بھی کرتے تھے۔وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس بارے میں متعدد نجی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے عہدداروں نے وزیر داخلہ سے بھی شکایت کی تھی جس پر تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران متعدد بار یہ ریمارکس دیے گئے کہ متعدد خفیہ اداروں کے اہلکار اور حکام اسلام آباد میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کے کاروبار میں شامل ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سردار طاہر محمود کا کہنا تھا کہ اس فہرست میں کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کرنے والے افراد کے ناموں کے علاوہ حکام کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی سیاسی شخصیت بھی اس ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرے تو اس کے بارے میں بھی متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے رکن ممالک نے گذشتہ اجلاس میں پاکستان کی طرف سے کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت روکنے کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے یہ نکتہ بھی اٹھایا تھا کہ پاکستانی حکومت ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ایسے افراد کو سرمایہ کاری کرنے سے روکے جن پر کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کرنے کا الزام ہے۔
حکومت کا یہ موقف ہے کہ اس بارے میں ایف اے ٹی ایف اور بالخصوص انڈیا کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود نہیں ہیں اور محض اخباری تراشوں پر انحصار کرتے ہوئے پاکستان کو کم از کم گرے لسٹ میں رکھوانا چاہتا ہے۔ ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک شاہد چن زیب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی ایسے شخص کا ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا اتنا آسان نہیں ہے جس پر کالعدم تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہو۔
انھوں نے کہا کہ چونکہ ریئل اسٹیٹ کے بزنس میں کاروباری لین دین کو بینکوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے اس لیے اس ایپ کے متعارف ہونے سے پہلے بھی اس بات کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے کہ کوئی ایسا شخص اس شعبے میں سرمایہ کاری کرے جس پر کالعدم تنظیموں پر مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والے تمام مالیاتی اداروں کے پاس ایسے افراد کی فہرست پہلے سے ہی موجود ہے جن پر کالعدم تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ 20 سال سے اس کاروبار سے منسلک ہیں اور اس عرصے کے دوران ایک بھی ایسا شخص ان کے پاس نہیں آیا جس پر کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کرنے کا الزام ہو۔ شاہد چن زیب کا کہنا تھا کہ دبئی اور یورپی ملکوں میں تو شاید کالا دھن سفید ہوتا ہو لیکن پاکستان میں ایسے افراد کا کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری کرنا بہت مشکل ہے۔
