ایف بی آر کو 5 ماہ بعد مستقل چیئرمین مل گیا

وفاقی کابینہ نے محمد جاوید غنی کو تقریباً 5 ماہ کے وقفے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا مستقل چیئرمین مقرر کردیا۔
جولائی کے پہلے ہفتے میں یہ منصب خالی ہوا تھا جب اس وقت کی ایف بی آر کی چیئرپرسن نوشین امجد کو تبادلہ کرکے وفاقی سیکریٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔اس کے بعد سے جاوید غنی کو ایف بی آر کے چیئرپرسن کا اضافی چارج سونپا گیا تھا-
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اگست 2018 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اس عہدے پر چوتھی تقرری کی ہے۔
پہلے مرحلے میں جاوید غنی کو 3 ماہ کی مدت کے لیے اضافی چارج دیا گیا تھا جو اکتوبر بڑھا کر مزید تین ماہ کے لیے کردیا گیا تھا۔جاوید غنی پاکستان کسٹم سروس کے 22 گریڈ کے آفیسر ہیں جو ایف بی آر ممبر پالیسی (کسٹم) کے عہدے پر تعینات ہیں۔ان کے ٹوئٹر پروفائل کے مطابق جاوید غنی نے واروک یونیورسٹی سے بین الاقوامی معاشی قانون میں ایل ایل ایم (ماسٹر آف لا) کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔ایف بی آر کے چیف کے عہدے پر جاوید غنی کی باقاعدہ تقرری کی منظوری کی سمری وفاقی کابینہ نے منظور کی جس کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان کر رہے تھے۔ٹیکس عہدیداروں کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوسرے سال میں ایف بی آر کو ریونیو کی وصولی میں بڑے شارٹ فال کا سامنا رہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق جون 2021 تک ریونیو شارٹ فال 400 ارب سے 600 ارب روپے تک رہا۔موجودہ 5 مہینوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ریونیو وصولی میں صرف چار فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ رواں مالی سال کے لیے 24 فیصد سے زیادہ اضافے کا ریونیو ہدف حاصل کرے گا۔
ایف بی آر نے ملک میں سنگل سیلز ٹیکس سمیت مطلوبہ اصلاحات لانے کے لیے ورلڈ بینک کے فنڈ سے چلنے والے منصوبوں کی ڈیڈ لائن کو بھی پورا نہیں کیا ہے۔6 اپریل 2020 کو حکومت نے نوشین امجد کو ایف بی آر سربراہ نامزد کیا تھا۔تاہم تین مہینوں کے بعد ہی انہیں تبدیل کردیا گیا، کابینہ نے بعد میں شببر زیدی کی اعزازی / پرو بونو تقرری ختم کردی جو دو سال تک رہنی تھی۔فروری میں یہ عہدہ خالی ہوا تھا جب شبر زیدی 21 جنوری کو دفتر میں شمولیت حاصل کرنے کے چند روز بعد ہی غیر معینہ مدت کے لیے طبیعت کی خرابی کی وجہ سے چھٹی پر چلے گئے تھے۔ان کی غیر موجودگی میں ایف بی آر ممبر (انتظامیہ) کے عہدے پر تعینات نوشین امجد نگراں چیئرپرسن تھیں۔وزیر اعظم خان نے مئی 2019 میں شبر زیدی کو ایف بی آر کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات کیا تھا تاکہ وہ مطلوبہ اصلاحات لائیں اور 2019-20 میں 55 کھرب روپے کے ریونیو جمع کرنے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کام کریں۔
شبر زیدی نے محمد جہانزیب خان سے یہ عہدہ لیا تھا جنہیں اگست 2018 میں ایف بی آر سربراہ کا چارج سونپا گیا تھا۔
