ایف 16 طیارہ تباہ ہو تو کتنے ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے؟

11 مارچ 2020 کے روز شکر پڑیاں کے قریب پاک فضائیہ کا ایف 16 طیارہ تباہ ہونے سے جہاں ایک طرف پائلٹ نعمان اکرم شہید ہوے وہیں قومی خزانے کو کم و بیش پندرہ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ خیال رہے کہ پاکستان نے آخری دفعہ امریکی کمپنی سے آٹھ ایف 16 طیاروں کا سودا 70 کروڑ ڈالر میں سودا طے کیا تھا یعنی ایک طیارے کی قیمت کم و بیش ساڑھے آٹھ کروڑ امریکی ڈالرز بنتی یے۔
ایف سولہ طیارے دنیا بھر کی فضائیہ میں انتہائی مقبول کیوں ہیں۔ ان طیاروں کی خاصیت کیا ہے، یہ طیارے کب سے بنائے جا رہے ہیں، کس ملک کے پاس کتنے ایف 16 طیارے ہیں بالخصوص پاکستان کے پاس ایف سولہ طیاروں کی تعداد کیا ہے اور اب تک پاکستان کے کتنے ایف سولہ طیارے تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پاک فضائیہ نے ایف سولہ طیاروں کے ذریعے کون کون سی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔۔۔ اس حوالے سے تمام تفصیلات پیش نظر ہیں.
دنیا کا مشہور ترین فورتھ جنریشن لڑاکا طیارہ ایف 16 امریکہ کی ایک کمپنی جنرل ڈائینامکس نے ستر کے عشرے میں بنایا تھا، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے امریکی فضائیہ نے اپنے استعمال کے لیے ایف سولہ خریدنا بند کر دیے ہیں اور اب اسے صرف دوسرے ممالک کو فروخت کیا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آواز کی رفتار سے تیز اڑنے والا ایف سولہ طیارہ دوسرے طیاروں سے بہت ہلکا ہے اور کسی بھی مشن کو نسبتا زیادہ بہتر طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔ اپنی بہترین کار کردگی کی وجہ سے یہ طیارہ کم از کم 25 ممالک میں استعمال ہو رہا ہے۔ اسے 1976ء میں بنانا شروع کیا گیا جس کے بعد آج تک اس طرح کے تقریباً پانچ ہزار طیارے بنائے جا چکے ہیں۔
اب جو ایف 16 طیارے بنائے جارہے ہیں وہ موجودہ دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں اور پرفارمنس کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں۔ امریکہ نے ایف سولہ کے بعد انتہائی جدید طرز کی ایف 18 طیارے بھی متعارف کروا دیے ہیں۔
ایف سولہ کا سرکاری نام Fighting Falcon ہے۔ F-16 کو فضائی جنگ میں بہت ذیادہ اہمیت حاصل ہے۔ پندرہ میٹر لمبا ایف 16 ایک پائلٹ کی گنجائش رکھنے والا طیارہ ہے۔ اس کے اسلحہ میں ایک عدد ایم-61 مشین گن ہے جو اس کے بائیں پر میں نصب ہے۔ اس کے علاوہ یہ اے آئی ایم-9 سائیڈ ونڈر میزائل اور اے آئی ایم-120 ایمریم میزائل سے بھی لیس کیا جا سکتا ہے۔ F-16 مختلف بم، راکٹ اور ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل بھی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں مختلف اقسام کے اعلی ریڈار بھی نصب ہیں۔ اس کے پائلٹ کا کاک پٹ بہت اونچا ہوتا ہے۔ F-16 میں کنٹرول سٹک پائلٹ کے بائیں جانب ہوتی ہے۔ پائلٹ کے سامنے ایک سکرین لگی ہوتی ہے جو طیارے کی رفتار، اونچائی، دشمن کے طیاروں سے دوری اور طیارہ کے اسلحے کی تعداد بتاتی ہے۔
ایف سولہ طیاروں کی بہترین صلاحیت کی وجہ سے انھیں کئی بار جنگ کے دوران استعمال بھی کیا گیا ہے۔ امریکی فضائیہ کی جانب سے ویتنام جنگ کے دوران ایف 16طیاروں کے بھرپور استعمال کے بعد انہیں دنیا بھر میں شہرت ملی۔ ایف 16 کو سب سے زیادہ مشرق وسطی میں استعمال کیا گیا ہے۔ 1981ء میں آٹھ اسرائیلی F-16 طیاروں نے عراق کا ایک ایٹمی ریی ایکٹر اوسعراق کو تباہ کیا۔ اس طرح پاک فضائیہ کے F-16 نے افغان جنگ کے دوران 10 افغانی اور کئی روسی جہاز گرائے۔ بوسنیا کی جنگ میں بھی اقوام متحدہ کے F-16 نے 4 جہاز گرائے۔ ایف سولہ جنگی طیاروں نے عراق کی جنگ میں کئی مشن انجام دیے اور دو F-16 نے بمباری کی جس کے نتیجے میں القاعدہ کے لیڈر ابو مصعب الزرقاوی بھی جاں بحق ہوا۔
اس وقت دنیا میں امریکہ کے پاس سب سے زیادہ 2547 ایف سولہ طیارے موجود ہیں۔ دوسرے نمبر پر اسرائیل ہے جس کے پاس 340 ایف سولہ طیارے ہیں۔ ترکی کے پاس 280، مصر کے پاس 220، نیدرلینڈز کے پاس 213، جنوبی کوریا کے پاس 180، یونان 170 جبکہ تائیوان کے پاس 150 ایف سولہ طیارے موجود ہیں۔ انڈونیشیا، اٹلی، ڈنمارک، ناروے، عمان، پولینڈ، پرتگال، سنگاپور، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے پاس بھی درجنوں ایف 16 طیارے موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے پاس اسوقت کل 75 ایف سولہ طیارے ہیں۔
پاکستان کو چالیس ایف سولہ طیاروں کی فروخت کے بارے میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان دسمبر 1981 میں سودا طے پایا تھا جس کے تحت پاکستان کو دو قسطوں میں یہ طیارے ملنے تھے۔ پہلی قسط میں چھ طیارے اور دوسری قسط میں 34 طیارے۔ اس وقت پاکستان اسرائیل کے بعد دوسرا ملک تھا جسے یہ طیارے فروخت کئے گئے۔اس کے بعد 1983 سے 1987 تک اس سودے کے مطابق تمام چالیس طیارے پاکستان کے حوالے کر دئیے گئے جن میں سے 36 طیارے اب بھی فضائیہ میں شامل ہیں۔
اس کے بعد 1988 میں 11 مزید طیاروں کا سودا ہوا اور ان کی قیمت بھی پاکستان نے ادا کردی۔ لیکن پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف پابندیوں کی وجہ سے یہ طیارے ایریزونا کے صحرا میں ہی کھڑے رہ گئے اور پاکستان کے حوالے نہیں کئے گئے۔ 1989 میں پاکستان نے مزید ساٹھ ایف سولہ طیارے خریدنے کے لئے امریکہ کے ساتھ ایک ارب چالیس کروڑ کا سودا طے کیا۔لیکن یہ سودا بھی براؤن ترمیم کے تحت عملی جامہ نہیں پہن سکا۔
پاک فضائیہ نے مختلف اوقات میں ایف سولہ طیاروں کے ذریعے نہ صرف دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا بلکہ درجنوں طیارے بھی تباہ کیے ہیں۔ 2002میں سکواڈرن لیڈر ذوالفقار نے ایف سولہ طیارہ اڑاتے ہوئے لاہور کے قریب بھارت کے ایک ڈرون طیارے کو تباہ کیا تھا۔ اس طرح فضائیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایف سولہ کے ذریعے رات کے اندھیرے میں فضا سے فضا میں ڈرون طیارے کو مارنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پھر 2009 سے 2011 تک پاک فضائیہ نے فاٹا میں ایف سولہ طیاروں کے ذریعے پاکستانی طالبان کے ٹھکانوں پر لیزر گائیڈڈ بم گرا کر یہاں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔
27 فروری 2019 کو آزاد کشمیر کے علاقے میں پاکستان نے ایک درانداز بھارتی مگ طیارہ گرایا تھا۔ اس مشن میں بھی ایف 16 طیاروں کے استعمال کئے جانے کی بازگشت سنائی دی تاہم پاک فضائیہ کا موقف ہے کہ یہ حملہ چینی ساختہ طیاروں یعنی جی ایف تھنڈر 17 طیاروں سے کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد بھارت نے دعوی کیا تھا کہ اس نے پاکستان کی حدود میں ایک ایف سولہ طیارہ مار گرایا ہے تاہم پاک فضائیہ اور امریکہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
گزشتہ تین عشروں میں کئی ایک واقعات میں ایف سولہ کو حادثات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 1987میں سوویت جنگ کے دوران پہلی مرتبہ ایک ایف سولہ تباہ ہوا مگر پائلٹ زندہ نکلنے میں کامیاب رہا اور اب 11 مارچ کی 2020 کے روز یوم پاکستان کی تیاریوں کے سلسلے میں ریہرسل کے دوران پاک فضائیہ کا ایک ایف سولہ طیارہ شکر پڑیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے مں پائلٹ نعمان اکرم شہید ہوگئے۔
