مارچ سے جنگ شروع ہو سکتی ہے

’جموں اور کشمیر لبریشن فرنٹ‘ (جے کے ایل ایف) کی جانب سے کنٹرول لائن عبور کرنے کے لیے جاری مارچ نے اب خطرناک صورتحال اختیار کرلی ہے جس کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے مظاہرین کو طاقت کے ذریعے آگے بڑھنے سے روکنے کی دھمکی دے دی ہے۔

مظاہرین اتوار کی شام پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کے علاقے چناری کے مقام پر پہنچ گئے اور اب چناری کالج گراونڈ میں پڑاو ڈال دیا ہے۔ دوسری جانب آزاد کشمیر کی انتظامیہ نے مارچ کے شرکا کو لائن آف کنٹرول کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے چناری سے دو کلومیٹر آگے رکاوٹیں کھڑی کی ہیں اور مارچ کے شرکا کو لائن آف کنٹرول کی طرف جانے سے روکنے کے انتظامات کر لیے ہیں جن میں طاقت کے استعمال کی آپشن بھی زیر غور ہے۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار نے کہا ہے کہ ’ہم انتظامیہ سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے بات چیت کریں گے اور ہر صورت لائن آف کنٹرول کی جانب مارچ جاری رکھیں گے۔‘ انہوں نے بتایا کہ جب تک رکاوٹیں دور نہیں کی جاتی وہ سڑک پر دھرنا دیں گے۔
یاد رہے کہ جموں اور کشمیر لبریشن فرنٹ نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کنٹرول لائن عبور کرنے کی کال دے رکھی ہے۔ جمعے کو شروع ہونے والا مارچ ضلع بھمبر، راولاکوٹ اور مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا ہفتے کی شب مظفرآباد پہنچا اور وہاں سے چکوٹھی چیک پوائنٹ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ادھر آزاد کشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے بتایا کہ ’ہم مظاہرین کو کسی صورت لائن آف کنٹرول کی طرف جانے نہیں دے سکتے۔‘ ان کے بقول ’ہم نے ان (جے کے ایل ایف) کو کہا تھا کہ یہ مارچ شروع ہی نہ کریں لیکن انہوں نے کہا کہ ہم نے کال دے دی ہے اب ہم لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ ضرور کریں گے۔‘ مشتاق منہاس نے مزید کہا کہ ’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نہتے لوگوں کو لائن آف کنٹرول جانے سے روکیں اور ہم ایک مخصوص علاقے سے آگے ان کو جانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ چناری تک مارچ کے شرکا کو جانے کی اجازت ہوگی اس سے آگے ہم نے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔‘
WhatsApp Image 2019 10 06 at 7.16.56 PMان کا کہنا تھا کہ اگر مظاہرین نے ایل او سی کراس کرنے کی کوشش کی تو صورتحال سرحدی کشیدگی کی طرف جا سکتی ہےجس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
تاہم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار کا کہنا ہے کہ اگر رکاوٹیں دور نہ کی گئیں وہ ہم سڑک پر دھرنا دیں گے اور انتظامیہ سے مطالبہ کریں گے کہ رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور پر امن طریقے سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے باشندوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے لائن اف کنٹرول کی طرف جانے دیا جائے۔ مشتاق منہاس نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ پر امن طریقے سے یہ معاملہ حل ہو۔ وہ نہتے لوگ ہیں اور ایک اچھے مقصد کے لیے مارچ کر رہے ہیں ان کے کوئی ذاتی مقاصد نہیں ہیں لیکن ان کی جان و مال کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اس ذمہ داری کو پوری کریں گے۔‘
وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے بتایا کہ مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے چناری سے دو کلومیٹر آگے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور بھاری نفری بھی تعینات ہے۔ 600 سے زائد پولیس اہلکار اس وقت مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔
اس سے پہلے ہفتے کے روز وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کے ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغامات میں کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پار کرنا انڈین بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلینے کے مترادف ہوگا۔
لیکن جموں کشمیر لبریش فرنٹ نے پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کے مارچ کے حوالے سے بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مارچ سے انڈین حکومت کا کوئی تعلق ہے نہ ہی پاکستان کی حکومت کا اس میں کوئی کردار ہے۔ رفیق ڈار کے بقول ’یہ مارچ ہمارا خود مختار اور آزاد فیصلہ ہے، ہمیں کسی بھی ملک کی حکومت سے سرٹیفیکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ دوسری طرف وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اتوار کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مارچ کے شرکا سے درخواست کی ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول عبور نہ کریں ایسا کرنے کا مطلب ایک نئے ’وار زون‘ میں داخل ہونا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button