ایمان مزاری کی فوری قید سے رہائی ناممکن کیوں؟

ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی، عوام کو اکسانے کے الزام میں انسانی حقوق کی کارکن اور جبری گمشدگیوں کے کئی متاثرین کی وکیل ایمان مزاری کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے اور سوشل میڈیا صارفین فوری ایمان مزاری کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترنول میں جمعے کی شب پشتون تحفظ موومنٹ پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت اور رہاست مخالف تقریر کے بعد ایمان مزاری کے خلاف دو مقدمات درج کیے گئے اور اسلام آباد پولیس نے انھیں اتوار کی صبح ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ پولیس نے ایمان مزاری کے ساتھ ساتھ سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کی بھی تصدیق کی ہے۔

ایمان مزاری کے خلاف تھانہ ترنول نے ریاستی اداروں کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کو اداروں کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے منظور پشتین سمیت پی ٹی ایم کی دیگر قیادت کے ساتھ مل کر لوگوں کو بغاوت، خانہ جنگی، سول نافرمانی اور مسلح جدوجہد کی ترغیب دی اور ریاست مخالف نعرے لگائے۔

اپنی بیٹی کی گرفتاری پر پی ٹی آئی کی سابق رکن اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ ’خواتین پولیس اہلکار اور سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ افراد ہمارے گھر کا دروازہ توڑ کر میری بیٹی کو لے گئے۔’وہ ہمارے سکیورٹی کیمرے، لیپ ٹاپ اور اس کا فون بھی لے گئے،

انھوں نے مزید لکھا کہ ’میری بیٹی رات کو سونے والے کپڑوں میں تھی اور اس نے ان سے کپڑے تبدیل کرنے کا کہا لیکن وہ اسے بنا کسی وارنٹ گرفتاری یا قانونی کارروائی کے گھیسٹتے ہوئے لے گئے ہیں۔ یہ ریاست کی فاشزم ہے، یاد رہے کہ گھر میں ہم صرف دو خواتین رہتی ہیں۔ لہذا یہ ایک اغوا ہے۔‘

دوسری جان ایمان مزاری کی گرفتاری کے طریقہ کار اور پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر پابندیوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرے کئے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ایمان مزاری کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے اسلام آباد پولیس مبینہ طور پر بغیر وارنٹ گھر میں داخل ہوئی یہ ناقابل قبول ہے۔’یہ اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ریاست کی طرف سے منظور شدہ تشدد کے ایک بڑے، زیادہ تشویشناک منصوبے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‘اس نے مطالبہ کیا کہ ایمان مزاری کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

سماجی کارکن ماروی سرمد نے اپنے ٹویٹ میں ایمان مزاری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ غیر قانونی عمل ہے۔ وارنٹ کے بغیر توڑ پھوڑ کر کے گھر میں داخل ہونا، بغیر اسلحے کے خواتین کو ہراساں کرنا، ایک قانون کی پاسداری کرنے والی شہری کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر اغوا کرنا۔’وہ ملک کے قانون کی اتنی بے توقیری کے ساتھ پاکستان کو چلانا چاہتے ہیں۔جو ناقابل قبول ہے۔‘

محمد تقی نے اپنی ٹویٹ میں گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’پی پی پی اور پی ڈی ایم حکومت کی طرف سے منظور کی گئی نئی ترامیم کے ساتھ ریاست کے پاس حقوق کے محافظوں کو ہراساں کرنے کے بے لگام اختیارات آ گئے ہیں۔‘

مینا گبینا نے ٹویٹ کیا کہ ’آپ جتنا زیادہ لوگوں کو اغوا کریں گے، اتنے ہی لوگ ریاستی اغوا کے خلاف احتجاج کے لیے نکلیں گے۔

صارف عائشہ رزاق نے ٹویٹ کیا کہ ’ایمان مزاری اور علی وزیر کی گرفتاریاں خاص طور پر ستم ظریفی اور پریشان کن ہیں کیونکہ انسانی حقوق کے لیے وزیر اعظم کی نئی مشیر مشعال ملک ہیں، جو کشمیر میں آزادی پسند رہنما یاسین ملک کی اہلیہ ہیں جنھیں انڈین فورسز نے اغوا کیا۔‘

آئمہ خان ٹویٹ کرتی ہیں کہ ’دنیا کی ایٹمی طاقت والی ریاست کی انا کو اس نوجوان لڑکی نے ٹھیس پہنچا دی‘

خیال رہے کہ ماضی میں پنجاب پولیس کی جانب سے شریں مزاری کو گرفتار کیے جانے پر ایمان مزاری نے اس کا الزام سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر عائد کرتے ہوئے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس پر فوج کی جیگ برانچ نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے یہ مقدمہ ختم کروایا تھا۔

Back to top button