ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے بعد ق لیگ کے بھی کپتان حکومت سے شکوے

حکومتی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے بعد پاکستان مسلم لیگ ق نے بھی تحریک انصاف حکومت بارے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے. تحفظات کے اظہار کے بعد مسلم لیگ ق نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا. مسلم لیگ ق کے رکن اسمبلی اور وفاقی وزیرطارق بشیر چیمہ 14 جنوری کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے.
حکوتی روئیے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کے رہنما و وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہےکہ وفاقی حکومت نے آج تک کسی بھی معاملے پر ہم سے مشاورت نہیں کی۔ ڈیرہ غازی خان سے لے کر میانوالی تک ترقیاتی فنڈز دیئے گئے مگر ہمارے نمائندوں کو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ فنڈز ختم ہو گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے تحفظات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ خالد مقبول صدیقی ایک سنجیدہ سیاست دان ہیں، ان دو سالوں کے دوران انہوں نے آج تک حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تو وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی تھی کہ ہمیں کابینہ سے نکلنے دیں، کیونکہ لوگ اب ہم سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا ہم نے کیا کارکردگی دکھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کو محفوظ راستہ دینے کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے مگر ہم سے کسی بھی معاملے پر بھی مشاورت نہیں کی جا رہی۔
دوسری طرف وزیر اعظم نے یکے بعد دیگرے اتحادی جماعتوں کی ناراضگی کے بعد اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button