ایم کیو ایم کو اختلاف کا پورا حق ہے

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کے بیان پر وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے مفاد ہوتے ہیں تو یہ ایسی کوئی انہونی بات نہیں ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اتحادی جماعتوں میں گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں، ان میں مسائل پر بات ہوتی رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے مفاد ہوتے ہیں تو یہ ایسی کوئی انہونی بات نہیں ہے کہ ایم کیو ایم نے ایک اقدام اٹھایا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے میں ان کے اقدام کو سمجھتا ہوں اور ہمیں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی جو بعض باتیں ہیں ان میں یقیناً دم بھی ہوگا،اس میں مسائل بھی ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ایم کیو ایم کے ساتھ جو اتحاد چل رہا ہے ہم ایک جماعت نہیں ہیں، اتحادی جماعتوں نے اپنے ٹکٹ اور منشور کے مطابق الیکشن لڑا ہے ان کے اپنے ووٹرز کے الگ وعدے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اگر حکومت میں شامل ہوگئے تو ایک جماعت نہیں ہوگئے لہٰذا ایم کیو ایم کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی معاملےپر اختلاف کرنا چاہیں یا الگ رائے رکھ سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کل حکومتی ٹیم ایم کیو ایم سے ملاقات کرے گی چیزیں ٹھیک ہوجائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اس وقت ملک میں وزیراعظم عمران خان کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔
بلاول بھٹو کی جانب سے ایم کیو ایم کو وزاتوں کی پیشکش کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی پیشکش غیر سنجیدہ تھی اور ایم کیو ایم بھی یہ سمجھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن خود بکھر رہی ہے ہر دوسرا شخص ان میں وزیراعظم کا امیدوار ہے، ہم سن رہے کہ خواجہ آصف بھی امیدوار ہیں شہباز شریف بھی ہیں۔
علاوہ ازیں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا ہے کہ خالد مقبول صدیقی نے اپنا استعفیٰ براہ راست حکومت کو نہیں دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button