ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی مذاکرات ناکام، خالد مقبول استعفے پر قائم

وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں تحریک انصاف کا وفد حکومتی روئیے سے نالاں ایم کیو ایم کو منانے میں ناکام ہوگیا ہے. وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں تحریک انصاف کے وفد نے بہادرآباد میں ایم کیوایم کی قیادت سے ملاقات کی، دوران ملاقات متحدہ نے شکایتوں‌ کے انبار لگا دیئے. اسد عمر نے کنوینر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروا دی تاہم کنوینر متحدہ وزارت سے علیحدگی کے فیصلے پر قائم رہے.
مذاکرات کے دوران اسد عمر نے خالد مقبول صدیقی سے کہا کہ آپ کیوں ناراض ہوگئے، اب ناراضگی ختم کریں، ایم کیو ایم کے مطالبات درست ہیں انہیں ہمیشہ تسلیم کیا ہے، معاملات الگ ہونے سے نہیں مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل ہوں گے۔ جس پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں بات چیت نہیں نتیجہ چاہیے۔ ایک ارب دینے کے لیے کتنی منت سماجت کرنا پڑے گی اور ہم اپنے لیے نہیں بلکہ کراچی کا حق مانگ رہے ہیں۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات ہوئی یہ مذاکرات نہیں تھے۔ ملاقات میں بہت سے قومی امور پر گفتگو ہوئی ہے، ہمیں اپنے تمام وعدے یاد ہیں کل کی پریس کانفرنس میں کوئی سنسنی خیزی نہیں تھی،ہم نے پہلے بھی کہا تھا حکومت سے تعاون جاری رکھیں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے دیا گیا استعفیٰ واپس نہ لینے کا اعلان کیا اور کہا کہ سو فیصد وزارت چھوڑنے کے فیصلے پر قائم ہوں۔ اس موقع پر اسد عمر نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ خالد مقبول کابینہ کا حصہ رہیں لیکن وہ اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔
وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پچھلے ہفتے ہماری اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی، کراچی کے منصوبوں پر ایم کیو ایم سے بات چیت ہوئی۔ ہم مستقبل میں بھی ساتھ مل کر چلیں گے، ایم کیو ایم کو بتایا معاملات کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ کراچی کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر جلد کام شروع ہوگا، کراچی کے لیے162 ارب سے زیادہ کے منصوبے ہوں گے، وزیراعظم کراچی آکر مختلف منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ کبھی کبھی انسان کا دل کرتا ہے کابینہ میں نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، 7 ماہ میں بھی کابینہ کے باہر گزار کر آیا ہوں۔ خالد مقبول صدیقی وزارت چھوڑنے کےفیصلے پرقائم ہیں، ہماری خواہش ہےکہ خالد مقبول صدیقی کابینہ کا حصہ رہیں۔ گورنر سندھ کی تبدیلی کے سوال پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ گورنر کی تبدیلی کی افواہ بھی نہیں سنی، گورنر عمران اسماعیل زبردست کام کررہے ہیں، ان کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔
اتحادیوں کی جانب سے ساتھ چھوڑنے کے سوال پر اسد عمر نے کہا کہ جب اسمبلی میں ووٹ آتے ہیں جب ٹیسٹ ہوتا ہے، ابھی تک کوئی ایسا مرحلہ نہیں آیا جہاں ہمیں ووٹ کی کمی ہوئی، فی الحال ووٹ بڑھتے نظر آرہے ہیں کم نہیں۔
اتحادی جماعت ایم کیوایم کو منانے کے لیے پی ٹی آئی کا وفد متحدہ کے عارضی مرکز بہادر آباد گیا جہاں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ ایم کیو ایم کو منانے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف کا وفد کراچی میں عارضی مرکز بہادر آباد پہنچا جس میں وفاقی وزیر اسد عمر، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خرم شیر زمان اور فردوس شمیم نقوی شامل تھے۔ پی ٹی آئی وفد اور ایم کیوایم کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات بظاہر ناکام نظر آتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایم کیوایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے وعدے پورے نہ ہونے کا الزام لگاکر کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔خالد مقبول صدیقی کی کابینہ سے علیحدگی کے اعلان کے بعد وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی تھی جس کےبعد گورنر سندھ عمران اسماعیل نے خالد مقبول صدیقی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا اور ان کے مطالبات کو جائز قرار دیا تھا
حکومتی وفد کی بہادر آباد آمد سے قبل گورنر ہاؤس میں سندھ انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور کراچی بحالی کمیٹی کا جائزہ اجلاس ہوا تاہم ایم کیو ایم اور میئر نے اس میں شرکت نہیں کی۔
گورنر ہاؤس کراچی میں انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور کراچی بحالی کمیٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر اسد عمر اور وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ، کمشنر کراچی، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، رکن اسمبلی خرم شیر زمان اور حلیم عادل شیخ بھی شریک تھے تاہم میئر کراچی وسیم اخےتر سمیت ایم کیو ایم کی جانب سے کوئی بھی شریک نہیں ہوا۔
اجلاس میں ایس آئی ڈی سی ایل نے آئندہ مالی سال کےلیےترقیاتی پلان پیش کیا جبکہ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ اس موقع پر شرکا کو بتایا گیا کہ شیرشاہ اور نشتر روڈ کی تعمیر کی اسکیم آئندہ ماہ مکمل ہوجائے گی جبکہ سخی حسن، فائیو اسٹار اور کےڈی اے چورنگیوں پر فلائی اوورز کا تعمیراتی کام 80فیصد مکمل ہوچکا ہے، گرین لائن میٹرو منصوبے کے لیے بسوں کی خریداری کے لیے سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نےاکتوبر 2019میں منظوری دی تھی تاہم اس کا ٹینڈر تاحال جاری نہیں کیا گیا کیونکہ اس سلسلے میں ایکنک سے بھی منظوری درکار ہے۔
یاد رہے کہ مل کر چلنے کا عہد کرتے ہوئے ایم کیوایم اور پی ٹی آئی نے اعلان کیا تھا کہ ان کا یہ اتحاد صرف اور صرف ’عوام کے وسیع تر مفاد‘ میں ہے، بالخصوص اس سے کراچی والوں کا ’فیضیاب‘ ہونا مقصود تھا۔ اسی لیے اس کی بنیاد ایک مفاہمتی یادداشت بنی جس پر 3 اگست 2018 کو بنی گالا میں دونوں فریقین کے وفود کی ملاقات کے بعد دستخط ہوئے۔
یہ یادداشت 9 نکات پر مشتمل تھی۔ جس میں،کراچی آپریشن کا ازسرنو جائزہ،حکومتی عہدوں پر شفاف تقرریاں، 1998 میں محصولِ چنگی نظام کے خاتمے کے بعد شہروں کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ، شہری حکومت کو وفاق سے فی الفور فنڈز کی فراہمی، پولیس اصلاحات، حیدرآباد میں یونیورسٹی کا قیام اور انتخابی حلقوں میں الیکشن آڈٹ کے مطالبات شامل تھے.
365 دنوں میں دونوں اتحادیوں کی نصف درجن بیٹھکوں کے باوجود مفاہمتی یادداشت کے کسی ایک مطالبے پر تاحال مکمل عمدرآمد نہیں کیا گیا۔
واضح رہےکہ چند روز قبل پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کو پیشکش کی تھی کہ وہ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں ہماری مدد کریں اور سندھ حکومت میں شامل ہوکر اپنی پسند کی وزارتیں لیں جبکہ گزشتہ روز سندھ کے وزیر ناصر شاہ نے ایک بار پھر کہا کہ ایم کیو ایم کے لیے پیشکش اب بھی برقرار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button