اینٹی سموسہ ڈاکٹر عفان تنقید کی زد میں کیوں آگئے؟

شہریوں کو سموسہ کھانے سے باز رہنے کا مشورہ دینے والے ڈاکٹر عفان شہری کو مہنگا ترین بل دینے کی وجہ سے تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، سوشل میڈیا پر ایک شہری کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ڈاکٹر عفان کے ہسپتال میں علاج کا احوال بیان کرتے ہوئے بول رہا ہے کہ میں وہاڑی سے ڈاکٹر عفان کو چیک کروانے آیا ہوں، لیکن ڈاکٹر صاحب سے ملاقات سے قبل ہی میرا 10 ہزار کا بل بنا دیا گیا۔شہری کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کھڑے کھڑے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے میں نے ایک مریض کو بے ہوش کیا ہوا ہے۔ میں نے کہا میں مریض ہوں میرا مسئلہ سنیں تو انہوں نے گارڈ بلا لیے جنہوں نے دھکے دے کر ہمیں باہر نکال دیا۔شہری نے ڈاکٹر عفان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ یوٹیوب پر بہت اچھی تقریریں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غریب کا احساس کرنا چاہئے لیکن آپ خود ایک ڈاکو ہیں آپ غریبوں کو لوٹ رہے ہیں، آپ نے ایک منٹ میں 30 ہزار لے لیے ہیں اور میری بات بھی پوری نہیں سنی۔شہری کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صارفین کی جانب سے اس پر ردعمل کا اظہار کیا گیا، کسی نے کہا کہ ایسے فراڈ سے بچنا چاہئے تو کسی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو اس واقعہ پر اپنا موقف سامنے رکھنا چاہئے، ایک صارف نے لکھا کہ یہ سب کچھ پلان کے تحت ہو رہا ہے اور ن لیگ باقاعدہ پروپیگنڈا کے تحت ڈاکٹر عفان کے پیچھے پڑ گئی ہے کیونکہ وہ تحریک انصاف کی حمایت کرتے ہیں، وقار اللہ لکھتے ہیں کہ ایسے ڈاکٹر کو جیل میں ڈالنا چاہئے۔ایک صارف نے شہری کی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بندہ 100 فیصد ٹھیک کہہ رہا ہے۔ کچھ دن پہلے میں بھی اپنے ایک دوست کا چیک اپ کرانے گیا تھا اور میرے ساتھ بھی بالکل یہی کچھ ہوا تھا، ٹیسٹ کرانے کے لیے ایک لمبی لسٹ دے دی اور وہاں جو مریض آئے ہوئے تھے ان سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا 3 ماہ ہوگئے ہیں ہر بار نئے ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں۔یہ بندہ 100 فیصد ٹھیک کہہ رہا ہے کچھ دن پہلے میں ایک دوست کا چیک اپ کرانے گیا تھا اس کے ہسپتال لیور ٹاور جمیل آباد ملتان بلکل یہی کچھ ہوا تھا اور ایک لمبی لسٹ دے دی ٹسٹوں کی اور وہاں جو مریض آئے ہوئے تھے ان سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا تین ماہ ہوگئے ہیں ہر بار نئے ٹیسٹ کروا رہا جہاں صارفین نے مطالبہ کیا کہ اس ڈاکٹر کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لایا جائے وہیں بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات یونی چاہییں تاکہ پتا چلے کہ حقیقت کیا ہے۔

Back to top button