این اے 133 میں پی ٹی آئی کے ووٹ کس پارٹی کو ملیں گے؟

5 دسمبر کو لاہور کے حلقہ این اے 133 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کے میدان سے آؤٹ ہونے کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی والے تحریک انصاف کے ووٹرز کو لبھانے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔ پیپلز پارٹی والے پر امید ہیں کہ تحریک انصاف کا مایوس ووٹر پانچ دسمبر کو پیپلز پارٹی کو ہی ووٹ ڈالے گا تاہم نون لیگ والوں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی دوڑ میں ہی نہیں اور یہ سیٹ شائستہ پرویز ملک تاریخی مارجن سے جیتیں گی۔ یاد رہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے پرویز ملک نے تقریباً 90 ہزار ووٹ حاصل کر کے یہ نشست جیتی تھی جبکہ دوسرے نمبر پر رہنے والے تحریک انصاف کے اُمیدوار اعجاز چوہدری نے 70 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔ اِسی الیکشن میں تحریکِ لبیک کے امیدوار مطلوب احمد نے 13 ہزار ووٹ جب کہ پیپلز پارٹی کے اسلم گل نے 5558 ووٹ حاصل کیے تھے۔ جیالوں کا اصرار یے کہ اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے اُمیدوار اسلم گل پی ٹی آئی کا اُمیدوار نہ ہونے کے باعث اُن کا ووٹ بھی حاصل کریں گے کیونکہ وہ 2013 اور 2018 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی سے ناراض ہو کر پی ٹی آئی کی طعف چلے گے تھے جہاں سے اُنہیں مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس مرتبہ بھی اسلم گل ماضی کی طرح 5 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف کی وجہ سے پنجاب میں اب نواز لیگ کا غلبہ ہے اور اور پیپلز پارٹی پنجاب کی حد تک ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔
ن لیگی ایم این اے اور این اے 133 میں اپنی والدہ شائستہ پرویز کی الیکشن مہم چلانے والے علی پرویز ملک سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کا پرانا اور نظریاتی ووٹر شاید ضمنی انتخاب والے دن گھر سے ہی باہر نہ نکلے۔ اُنکے بقول جن ووٹروں کو پیسوں کا لالچ دیا جا رہا ہے وہ کسی بھی طرف جا سکتے ہیں۔ البتہ با ضمیر اور نظریاتی ووٹرز حلقے کے مفاد اور سیاسی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے ووٹ دیں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار کی عدم موجودگی میں ن لیگ کی فتح یقینی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کسی طرح تحریکِ انصاف کے ووٹرز کو گھر سے نکالنے میں کامیاب ہو بھی گئی تو اس کے ووٹ بینک میں چند سو ووٹوں کا اضافہ ممکن ہے یعنی اسکی شکست کا مارجن کچھ کم ہو سکتا ہے لیکن پیپلز پارٹی کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دوسری جانب سے پیپلز پارٹی کے ذرائع کا بھی یہی کہنا ہے کہ انہیں جیت کی کوئی امید نہیں لیکن وہ اپنی پارٹی قیادت کی ہدایات کی روشنی میں کم از کم بیس ہزار ووٹ حاصل کر کے باعزت شکست کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم پارٹی قیادت کی ان کوششوں پر پیسے دے کر ووٹ خریدنے کے الزامات نے پانی پھیر دیا۔
سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ این اے 133 چونکہ لاہور کا حلقہ ہے اور اِس سے قبل سیالکوٹ کے ضمنی اتنخاب میں پی ٹی آئی کو جو فتح ہوئی ہے اُس کے بعد یہ حلقہ سیاسی طور پر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ اِس ضمنی انتخاب کے نتائج کا اثر آنے والے بلدیاتی انتخابات اور آئندہ انتخابات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اُن کے مطابق فتح یا شکست کا نفسیاتی اثر اگلے انتخابات پر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حلقے کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی اِس ضمنی انتخاب کو سنجیدہ لے رہی ہیں اور اپنی سیاسی قوت کے ساتھ انتخاب لڑ رہی ہیں۔ سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کا اُمیدوار نہ ہونے سے اب مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی ہی دو ایسی جماعتیں ہیں جو ووٹرز کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سہیل وڑائچ کی رائے میں حلقے میں پی ٹی آئی کا ووٹر سوچ رہا ہے کہ اُسے کس طرف جانا ہے کیونکہ اُنہیں کہا گیا ہے کہ وہ الیکشن والے دِن اپنے گھروں میں رہیں۔ سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ اِس حلقے سے ماضی میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور مسلم لیگ (ن) کے پرویز ملک جیتے ہوئے ہیں۔ یہ حلقہ لاہور کی لوئر کلاس اور لوئر مڈل کلاس پر مشتمل ہے۔ دوسری جانب اِسی حلقے میں کارخانوں اور ملوں میں کام کرنے والے مزدور بھی رہتے ہیں۔ اُن کے بقول اِس حلقے کے نتائج سے مستقبل کے رجحان کا پتا چلے گا۔ سہیل وڑائچ کی رائے میں عام طور پر جو سیاسی جماعت انتخابی عمل سے باہر ہو جاتی ہے تو اس کا ووٹر بھی ووٹ کاسٹ کرنے گھر سے باہر نہیں نکلتا۔ یوں دیگر جماعتوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کو باہر نکالیں تاکہ جیت کے امکانات بڑھ سکیں۔ سہییل وڑائچ کی خیال میں ذات برادری سیاسی طور پر زیادہ اثر نہیں ڈال سکے گی کیونکہ حلقے میں کافی ذات برادریاں رہتی ہیں۔ کوئی بھی ایسی بڑی ذات برادری نہیں رہتی جو انتخاب پر اثر ڈال سکے۔
یاد رہے کہ لاہور کے حلقہ این اے 133 میں پانچ دسمبر کو ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں جہاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے علاوہ 13 اُمیدوار میدان میں موجود ہیں۔ حکمراں جماعت تحریکِ انصاف کے اُمیدوار جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات نامزدگی تیکنیکی وجوہات کی بنا پر مسترد ہونے سے یہاں حکمران جماعت کا کوئی اُمیدوار نہیں ہے۔ یاد رہے کہ حلقہ این اے 133 کی نشست 2018 کے انتخابات میں یہاں سے کامیاب ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے رُکن قومی اسمبلی ملک پرویز کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے ملک پرویز کی اہلیہ شائشتہ پرویز ملک جب کہ پیپلزپارٹی لاہور کے صدر اسلم گل کو ٹکٹ دیا ہے۔
حال ہی میں حلقے میں ووٹرز کو خریدنے کی ویڈیوز منظرِ عام پر آنے کے باوجود حلقے میں سیاسی گرما گرمی عروج پر ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہاں 13 اُمیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا جس میں آزاد اُمیدواروں کی تعداد زیادہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد چار لاکھ 40 ہزار 85 ہے۔ حلقہ میں مجموعی طور پر 254 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جن میں سے 21 انتہائی حساس اور 199 حساس قرار دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی حلقہ بندیوں کے مطابق حلقہ این اے 133 وفاقی کالونی، گرین ٹاؤن، کوٹ لکھپت، ٹاؤن شپ، جوہر ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن لنک روڈ، فیصل ٹاؤن اور دیگر علاقوں پر مشتمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانیوں نے 2021 میں سب سے زیادہ کونسی ویڈیوز دیکھیں؟
ترجمان صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب ہدیٰ علی گوہر کے مطابق انتخابی نتائج رینجرز کی نگرانی میں ریٹرننگ افسر تک پہنچائے جائیں گئے جب کہ انتخابی نتائج کی وصولی کے لیے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم یعنی آر ٹی ایس استعمال کیا جائے گا۔ ترجمان الیکش کمیشن پنجاب کے مطابق انتخابی حلقے میں منتخب نمائندگان پر دورہ کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کیونکہ منتخب نمائندگان کا انتخابی حلقے کا دورہ کرنا ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

Back to top button