ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے تقرر پر آئینی بحران کا اندیشہ

وفاقی دارالحکومت میں آئینی بحران پیدا ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی زیر سربراہی حکومت اسلام آباد کے لیے ایک نئے ایڈووکیٹ جنرل(اے جی) کا تقرر کرنے جا رہی ہے۔ اس پیشرفت سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے عہدے کے لیے مناسب شخص کی تلاش کا عمل مکمل کر لیا ہے اور بیرسٹر جہانگیر خان جدون کو دارالحکومت کے لیے نیا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کرنے کی سمری بھیج دی ہے۔
وفاقی کابینہ کی باضابطہ منظوری کے بعد وزیراعظم شہباز شریف صدر مملکت عارف علوی کو تقرر کا حکم نامہ جاری کرنے کا مشورہ دیں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اس عہدے کے لیے سینئر وکلا راشد حفیظ اور صدیق اعوان کے ناموں پر بھی غور کیا ہے۔کامیاب امیدوار نیاز اللہ خان نیازی کی جگہ لیں گے جنہیں اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت نے 2019 میں ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا تھا۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض وجوہات کی بنا پر حکومت کے لیے اپنی پسند کا ایڈووکیٹ جنرل حاصل کرنا آسان نہیں ہو سکتا۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق نیازاللہ نیازی کا تقرر 2015 کے صدارتی حکم نامے کے تحت کیا گیا تھا۔2015 کے صدر کے آرڈر نمبر 1 کے آرٹیکل 2 اور 5 کے مطابق ’اسلام آباد کیپٹل ٹیریژری کے لیے ایک ایڈووکیٹ جنرل ہوگا جس کا تقرر صدر کرے گا۔
ایڈووکیٹ جنرل صدر کی خوشنودی حاصل رہنے تک اس عہدے پر فائز رہے گا اور جب تک وہ ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر فائز ہے، نجی پریکٹس میں مشغول نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی کے ایک سینئر وکیل نے کہا کہ صدر کے آرڈر نمبر 1 کے آرٹیکل 2 اور 5 کے تحت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کیپیٹل ٹیریژی کے تقرر اور انہیں ہٹانے کا اختیار صرف صدر کے پاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ آئینی کاموں اور صدر کے قانونی اختیارات میں فرق ہے اور جہاں صدر اپنے آئینی فرائض انجام دیتا ہے، وہ آئین کے آرٹیکل 48(1) کے تحت کابینہ یا وزیراعظم کے مشورے کا پابند ہے، انہوں نے کہا کہ چونکہ ایڈووکیٹ جنرل کا تقرر صدارتی حکم نامے کے ذریعے کیا گیا ہے اس لیے وزیراعظم کے مشورے کے صدر پابند نہیں ہیں۔
دوسری جانب قانونی ماہر محمد اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 48 کے مطابق صدر وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور اس کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ ​​حکومت کے دوران وزارت قانون کے سربراہ بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ صدر کا قلمدان رسمی ہے اور اسے وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کے اجتماعی فیصلوں کو کالعدم قرار دینے کا کوئی صوابدیدی اختیار حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قانون کی تشریح اپنے ڈیزائن کے مطابق کرتی ہے اور صرف قانونی راستے میں تاخیر کے لیے ابہام پیدا کرنا ہے۔

Back to top button