کرونا وباء: صوبے کے ہسپتالوں میں آئی سی یو 62فیصد بھر چکے ہیں

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کہ ایکٹیمرا انجیکشن جان بچانے کی دوا نہیں اور اگر ہدایات کو نظرانداز کر کے اس کا استعمال کیا گیا تو اس کے فوائد سے زیادہ نقصانات ہیں۔
یاسمین راشد نے لاہور میں ماہرین صحت کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 24گھنٹے میں 9ہزار 23 ٹیسٹ کیے گئے جب کہ اب تک کُل 2لاکھ 99ہزار 57 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور وائرس کا مرکز ہے اور اس وقت لاہور میں 19ہزار 299 متاثرہ افراد موجود ہیں جس میں ایک تہائی صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ راولپنڈی میں 3ہزار 196 افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں، گوجرانوالہ میں ایک ہزار 766 ، ملتان میں 2ہزار 261 اور فیصل آباد میں 2ہزار 765 مصدقہ مریض موجود ہیں۔
یاسمین راشد نے کہا کہ ہم نے لوگوں کو پہلے ہی کہا تھا کہ اگر آپ ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے تو مریضوں کی تعداد بڑھے گی اور جب ہم نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی تو لوگوں کا خیال تھا کہ یہ وباء کہیں چلی گئی ہے لیکن ہم نے انہیں باور کرایا کہ یہ وبا ءموجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وباء ہمارے ساتھ ہی رہے گی جیسے ڈینگی ہمارے ساتھ ہے، ہمیں حفاظتی تدابیر اختیار کرنی ہیں، اس سلسلے میں ایس او پیز بھی بنائے گئے لیکن لوگوں کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ آپ کی زندگی کی حفاظت سب سے اہم ہے اور یہ آپ پر بھی بہت بڑا فرض بنتا ہے کہ آپ اپنی حفاظت خود کریں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی اموات ہوئی ہیں ان میں سے 75فیصد کی عمر 50سال سے زائد تھی اور وہ شوگر، بلڈ پریشر، کینسر سمیت مختلف بیماریوں کا شکار تھے جس کی وجہ سے ان کا مدافعتی نظام کمزور تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں ہر جگہ بیڈز اور وینٹی لیٹر دستیاب ہیں لیکن ہر اسپتال ایک حد تک ہی دباؤ برداشت کر سکتا ہے لیکن میں لوگوں کی تسلی کے لیے بتانا چاہتی ہوں کہ صرف لاہور میں ایچ ڈی یونٹس میں 53مریضوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایسا اسپتال نہیں جہاں وینی لیٹر کی سہولت میسر نہیں اور ہم نے جہاں کہیں بھی ایچ ڈی یو بنائے ہیں، وہاں وینٹی لیٹر کی سہولت بھی رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے اسپتالوں میں آئی سی یو 62فیصد بھر چکے ہیں اور ہمارے پاس وہاں بھی مریضوں کو رکھنے کی کافی گنجائش موجود ہے لہٰذا لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ خود سے کسی اسپتال جانے کے بجائے 1122 پر کا کریں، وہ خود آ کر مریض کو لے جائیں گے کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ کس اسپتال میں جگہ میسر ہے اور صورت حال کے حساب سے مریض کو کس اسپتال میں لے جانا چاہیے۔ وزیر صحت نے کہا کہ اکثر لوگ افراتفری کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی مرضی سے کسی بھی اسپتال میں چلے جاتے ہیں لہٰذا ہمیں فیصلہ کرنے دیں کہ مریض کو کہاں لے کر جانا ہے۔
انہوں نے باور کرایا کہ یہ حکومت کی جانب سے عوام کو فراہم کی جانے والی بہت بڑی سہولت ہے کیوں کہ اگر نجی اسپتال میں جانا پڑے تو ایک دن کا آئی سی یو کا خرچ ایک لاکھ روپے ہے جب کہ ایچ ڈی یو میں 50 سے 70ہزار خرچ ہوتے ہیں لیکن یہاں حکومت مفت ادویہ سمیت تمام سہولیات فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹیمرا انجیکشن کے ہمیں فوائد نظر آئے ہیں اور ہم نے اس پر کام شروع کردیا ہے جب کہ دنیا کے مقابلے میں ایک بہت بڑا ٹرائل کرنے لگے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے سرکاری اسپتالوں میں ایک ہزار مریضوں پر اس دوا کے ٹرائل کی اجازت دے دی ہے۔
اس موقع پر ماہر صحت ڈاکٹر محمود شوکت نے بتایا کہ اس دوا ایکٹیمرا کا عمومی استعمال نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمیں کچھ شواہد موصول ہوئے تھے کہ یہ دوا مفید ہو سکتی ہے اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی ٹرائل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرائل کرتے ہوئے کچھ مخصوص علامات میں اور مخصوص مریضوں پر ہی دوا کو استعمال کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس دوا کے نقصانات بھی بہت ہیں، یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔
ڈاکٹر محمود شوکت نے واضح کیا کہ یہ دوا اتنی کنٹرول ڈرگ ہے کہ جو کمپنی اس دوا کو بناتی ہے تو اسے بھی بین الاقوامی سطح پر اس دوا کو مارکیٹ میں بیچنے کی اجازت نہیں اور یہ براہ راست کمپنی سے ہی لینی پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہونا غلط ہے کہ یہ دوا فوری طور پر دی جائے یا ہر مریض کو دی جائے، اگر یہ دوا ہدایات اور ٹیسٹ کے بغیر دی گئی تو اس کا نقصان زیادہ ہو گا۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ اس دوا کے غلط استعمال کی اطلاعات موصول ہوئیں اسی لیے ہم نے اس موضوع کو زیر بحث لانا ضروری سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انجیکشن صرف کمپنی بناتی ہے اور انتہائی محدود تعداد میں بناتی ہے اور ہمارے ماہرین نے کمپنی سے گفتگو کر کے ایک قیمت کا تعین کیا ہے جس کے بعد مکمل دوا ایک لاکھ 2ہزار روپے کی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 400ملی گرام کا انجیکشن 24گھنٹے میں ایک مرتبہ لگے گا جب کہ اگر 200 ملی گرام کے ہوں تو دو لگیں گے اور پھر 24 گھنٹے میں صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے دوبارہ لگایا جائے گا۔ وزیر صحت نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ انجیکشن وزارت صحت کے علم میں لائے بغیر سرکاری یا نجی اسپتال میں استعمال نہیں ہو گا۔
ڈاکٹرز کی جانب سے اس انجیکشن کو تجویز کرنے اور استعمال کیے جانے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ اس دوا کا دنیا میں کہیں بھی کوئی علاج موجود نہیں لہٰذا ڈاکٹرز جان بچانے کے لیے ہر قسم کی کوشش کر رہے ہیں، کوئی پروفیسر اگر لکھ کر دے رہا ہے تو اس کی نیت پر شک نہ کریں۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اس دوا کے استعمال کا ایک طریقہ کار ہے جس کے تحت ٹیسٹ کرانے ہوتے ہیں، ڈی ڈائمرز ہیں اور دگر علامات ہیں جنہیں ہم نے سب کو بھیج دیا ہے اور ان سب چیزوں کو مدنظر رکھ ہی اس دوا کا استعمال کر سکیں گے اور یہ ہدایات ماہرین نے بنائی ہیں تاکہ دوا کا غلط استعمال نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ زندگی بچانے کی دوا نہیں ہے بلکہ کچھ مریضوں پر اس کا اچھا اثر ہو گا اور کچھ ایسے مریض بھی ہیں جن پر اچھا اثر نہیں ہو گا اور اسے لیے دنیا کا لٹریچر پڑھ کر یہ ہدایات وضع کی گئی ہیں تاکہ کسی کو غلط انجیکشن نہ لگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button