شوگر سکینڈل: کیا ترین کپتان کی مرضی سے فرار ہوئے؟

چینی اسکینڈل کا مرکزی ملزم قرار دئیے جانے کے باوجود پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کا نام ای سی ایل پر نہ ڈالنے اور ان کے بیرون ملک چلے جانے سے حکومت کے احتسابی بیانیے اور دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے سے ہوا نکل گئی ہے اور ثابت ہوا کہ کپتان سرکار احتساب کے نام پر صرف سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پی پی پی اور پی ایم ایل این نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ جہانگیر ترین کو ملک سے فرار ہونے کی اجازت عمران خان کی مرضی سے ملی۔
جہانگیر ترین کے بیرون ملک جاتے ہی وفاقی حکومت نے چینی سکینڈل میں ملوث ملزمان کے خلاف نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کے ذریعے سخت کارروائی کرنے اور ذمہ داران کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کا اعلان کر دیا لیکن بیس برس پہلے سے شوگر سبسڈی دئیے جانے کی تحقیقات شروع کرنے کے حکومتی فیصلے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ شوگر سکینڈل کی آڑ میں بھی اپوزیشن رہنماؤں کا ہی رگڑا نکلے گا۔
چینی اسکینڈل کا مرکزی ملزم قرار دئیے جانے کے باوجود جہانگیر ترین کی بیرون ملک روانگی پر حکومت اس وقت اپوزیشن جماعتوں کی سخت تنقید کی زد میں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ جب جہانگیر ترین اپنے بیٹے کے ہمراہ لندن روانہ ہوئے تو قومی احتساب بیورونیب کہاں سویا ہوا تھا تھا جسے عید کے بعد ٹارزن بننا تھا۔ یہ بھی سوال کی جا رہا یے کہ ٹارزن کا عمران خان، جہانگیر ترین اور شہباز شریف کے حوالے سے احتساب کا معیار الگ الگ کیوں ہے‘۔
دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ شوگر سکینڈل کے مرکزی ملزم جہانگیر ترین کی بیرونِ ملک روانگی نیب کے منہ پر طمانچہ ہے۔ پی پی پی نے تو یہ بھی کہ دیا کہ عمران خان خود لوٹ مار میں حصہ دار نہ ہوتے تو ترین کو کبھی فرار نہ ہونے دیتے۔ ثابت ہوا کہ حکومت سازی میں ترین سیٹھ نے سرمایہ کاری کی تھی چنانچہ اسے سود سمیت سرمایہ واپس لے کر ملک سے فرار ہونے کی اجازت دے دی گئی۔
شوگر سکینڈل میں مرکزی ملزم قرار پانے والے جہانگیر خان ترین کی اچانک پاکستان سے برطانیہ روانگی ان خدشات کو تقویت دیتی ہے کہ حکومت نے انہیں احتساب سے بچانے کے لیے ملی بھگت سے فرار ہونے کی اجازت دی ہے کیونکہ شوگر تحقیقاتی کمیشن کی دونوں رپورٹس میں مرکزی ملزم نامزد ہونے کہ باوجود نہ تو ان کا نام ای سی ایل پر ڈالا گیا اور نہ ہی انہیں بیرون ملک جانے سے روکا گیا۔
سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے حکومت کے علاوہ نیب اور ایف آئی اے کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ سکینڈل میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی ذمہ داریاں انہی دو اداروں پر تھی جن کی مرضی کے بغیر جہانگیر ترین ملک سے باہر سفر نہیں کر سکتے تھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ترین اور انکا بیٹا علی روس سے آنے والے ایک خصوصی طیارے میں 5 جون کو لندن روانہ ہوئے ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ جہانگیر ترین اور علی ترین کا انٹرنیشنل روانگی لاونج میں کرونا میڈیکل چیک اپ کیا گیا جس کے بعد دونوں روس سے آنے والے خصوصی طیارے میں لندن روانہ ہو گئے۔ خیال رہے کہ شوگر اسکیںڈل میں جہانگیر ترین کا نام مرکزی کرداروں میں لیا جا رہا تھا۔ اس اسکینڈل کے بعد ایسی خبریں بھی گردش کر رہی تھیں جس میں بتایا جا رہا تھا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان تلخی پیدا ہو گئی ہے، تاہم بعد میں جہانگیر ترین نے خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اب ان کے وزیراعظم عمرا ن خان کے ساتھ تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے لیکن ساتھ ہی ساتھ جہانگیر ترین کی جانب سے یہ بھی عندیہ دیا گیا تھا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ دوستی پہلے کی طرح ہو جائے۔ ان تمام خبروں کے لئے شوگر اسکیںڈل میں جہانگیر ترین کا نام آںے کے بعد جہانگیر ترین ایک موقع پر یہ بھی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اب کسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں شریک نہیں ہوں گے۔ ان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اب وہ صرف اپنے کاروبار اور فیملی پر فوکس کریں گے۔ تاہم اب ان کی اچانک لندن روانگی نے مزید سوالات کو جنم دے دیا ہے جس کے بارے میں جواب ابھی تک سامنے نہیں آئے۔
شوگر اسکینڈل کی ابتدائی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور دیگر حکومتی لوگوں کے نام آنے کے بعد جب تحریک انصاف حکومت پر ان کے خلاف کارروائی کے لئے دباؤ بڑھا تو وزیراعظم عمران خان نے یہ دلیل پیش کی کہ پہلے اس معاملے کی مکمل فرانزک انکوائری کروائی جائے گی جس کے بعد ذمہ داران کے خلاف ٹھوس کارروائی ہوگی۔ اگرچہ فرانزک رپورٹ بھی کئی ہفتے پہلے آ چکی ہے اور وزیراعظم وفاقی کابینہ کے اجلاس اور دیگر فورمز پر بارہا اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ شوگر سکینڈل میں ملوث کسی فرد کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی لیکن اب ترین کی بیرون ملک روانگی سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ کپتان اینڈ کمپنی نے جہانگیر ترین کو قانون کی گرفت سے بچانے کے لیے برطانیہ فرار کروا دیا ہے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ جہانگیر ترین کب واپس لوٹیں گے۔ خیال رہے کہ چیئرمین نیب نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ شوگر سکینڈل پر تحقیقات شروع کر رہے ہیں تاہم اس بیان کو کئی ہفتے گزر گئے لیکن نیب نے جہانگیر ترین کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نیب نے جہانگیر ترین کے معاملے پر اپنی آنکھیں اس لئے بند کر رکھی تھیں کیونکہ وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ ترین کے خلاف ایکشن لینے سے ان کی حکومت گر سکتی ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے نیب اور ایف آئی اے کے کردار پر بھی خوب تنقید کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کیس بنتے ہیں تو فوری طور پر ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے جاتے ہیں لیکن جہانگیرترین کا نام دو انکوائری رپورٹس میں بطور مرکزی ملزم سامنے آیا تاہم ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ میں ان کا نام شامل نہیں کیا گیا جس سے حکومتی بدنیتی واضح ہوتی ہے۔ دوسری جانب لندن پہنچنے کے بعد جہانگیر ترین نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ان کا لندن آنے کا مقصد احتساب سے بھاگنا نہیں بلکہ اپنے علاج کی غرض سے آئے ہیں۔ ترین نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ انہوں نے برطانیہ سے علاج کرایا جو 2014 میں مکمل ہو گیا تاہم وہ ہر دو سال بعد اپنے چیک اپ کے لیے برطانیہ آتے ہیں جونہی ان کا چیک اپ مکمل ہوگا وہ ضرور پاکستان آئیں گے۔ تاہم سیاسی حلقے اس حوالے سے ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ جس طرح مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف علاج کا بہانہ کرکے کئی مہینوں سے برطانیہ میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر ہیں، ممکنہ طور پر جہانگیر ترین بھی احتساب سے بچنے کے لیے شاید کبھی پاکستان واپس نہ آئیں۔
