اے آر وائے پاکستانی میڈیا کے لئے کلنک کا ٹیکا کیوں؟


عمران خان کے دور حکومت میں ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے اور غیر قانونی طور پر کرکٹ میچز دکھانے کے حقوق حاصل کرنے سمیت درجنوں سنگین الزامات کا سامنے کرنے والا ٹی وی چینل اے آر وائی رفتہ رفتہ پاکستانی میڈیا کے لئے ایک داغ بنتا جا رہا ہے جس نے زرد صحافت کے بعد اب سیاہ صحافت شروع کر دی ہے۔ اے آر وائی عمران خان کی محبت میں کوئی بھی جھوٹ بول سکتا ہے اور کسی کے بھی کپڑے اتار سکتا ہے۔ درحقیقت اب اے آر وائی تحریک انصاف کا پروپیگنڈہ ٹول بن چکا ہے اور حکومت مخالف ہر جھوٹی کہانی سب سے پہلے یہیں پر چلتی ہے۔ اسکے بعد ‘غلامی نامنظور’ کے جذبے سے سرشار یوتھیے اور عمرانڈوز جوق در جوق اس جھوٹ کو حسبِ توفیق جتنا پھیلا سکتے ہیں پھیلاتے ہیں۔

نیا دور کے لیے اپنی تازہ تحریر میں سینئر صحافی علی وارثی ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کچھ عرصہ پہلے تک جلسوں میں ‘غلامی نا منظور’ کا نعرہ لگاتے نظر آتے تھے۔ لیکن اب جب کہ خان صاحب جلسوں سے یا تو تھک گئے ہیں یا پھر انکے پیسے ختم ہو گئے ہیں تو انکے کارکنان سوشل میڈیا پر یہ نعرہ ہر ٹوئیٹ کے ساتھ بطور ہیش ٹیگ استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ نعرہ تو یقیناً خوش کن ہے لیکن پی ٹی آئی اسے ‘مادر پدر غلامی نامنظور’ کی سطح پر لے گئی ہے کہ جس میں جھوٹ، سچ کی بھی کوئی قید نہیں، صحیح، غلط آپ کچھ بھی کہتے رہیں، سب کچھ ٹھیک ہے۔

بقول علی وارثی، اس سوچ کا سب سے بڑا داعی پاکستان میں آر وائی نیوز چینل ہے جس پر عمران خان کے دور حکومت میں ٹیکس چھوٹ لینے اور پی ٹی وی سے غیر قانونی طور پر کرکٹ میچز براہ راست دکھانے کے حقوق حاصل کرنے سمیت کئی سنگین الزامات ہیں۔ اس نیوز چینل نے اگلے روز یہ اعلان فرما دیا کہ وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کے سرکاری گھر کی تزئین و آرائش پر سرکاری خزانے سے 48 لاکھ روپے کے اخراجات کیے گئے ہیں۔ اس خبر پر مفتاح اسماعیل کے ردِ عمل پر تو بعد میں آتے ہیں، پہلے یہ یاد رکھیں کہ ARY کے مالک سلمان اقبال ہی تھے جو کبھی کسی کے ایک اشارۂ ابرو کے منتظر رہتے تھے، ٹی شرٹس پیش کیا کرتے تھے۔ آج کل ان کے اینکر کہتے ہیں ان کی جانوں کو خطرہ ہے۔ کچھ تو اسی خطرے کے پیشِ نظر ملک سے باہر تشریف لے گئے ہیں۔ انہیں اور ان کے چینل کو یہ یاد کروانا ضروری ہے کہ ماضی میں جن صحافیوں کی جان کو خطرہ ہوتا تھا، یہ چینل ان کی جان کو مزید خطرے میں ڈالتا رہا ہے۔ کئی کی جانوں کو تو اس چینل کی نظر پڑنے تک کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اللہ ARY سے وابستہ نام نہاد اینٹی اسٹیبلشمنٹ صحافیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے لیکن کیا وہ اپنی پرانی روش کو مکمل طور پر چھوڑ چکے ہیں یا یہ ‘سویلین بالادستی’ کا ابال محض وقتی ہی ہے؟

بہرحال مفتاح اسماعیل پر الزام لگایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں اپنے گھر سے منسٹر انکلیو منتقل ہو چکے ہیں اور شاہ خرچیاں کرتے ہوئے انہوں نے سرکاری گھر کی تزئین و آرائش پر سرکاری خزانے سے 48 لاکھ روپے بھی خرچ کر دیے ہیں اور یہ سب کچھ ان کے وہاں پہنچنے سے قبل ہی ہو چکا ہے۔ مفتاح اسماعیل نے اس کا بھر پور جواب دیا اور بتایا کہ اے آر وائی کی خبر جھوٹ کا پلندہ ہے کیونکہ وہ اسلام آباد کے علاقے F7 میں رہتے ہیں جہاں ان کا اپنا گھر ہے۔ منسٹرز انکلیو میں انہیں ایک گھر تفویض کیا گیا ہے لیکن نہ تو وہ وہاں گئے ہیں اور نہ ہی اس میں رہائش اختیار کرنے کا ان کا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گھر پر حکومت کی ایک پائی بھی خرچ نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے سرکار سے نہ تو کوئی سرکاری گاڑی لی ہے، نہ تنخواہ لیتے ہیں، نہ ہی پٹرول۔ ان کا کہنا تھا کہ میں یہ تمام اخراجات اپنی ذاتی جیب سے ادا کرتا ہوں۔

بقول علی وارثی، اے آر وائے کے سامنے یہ تمام حقائق رکھے جا چکے ہیں۔ لیکن وہ غلامی کو نامنظور کر چکے ہیں۔ کوئی کتنی ہی صفائیاں پیش کرتا پھرے، وہ اب ایسی دنیاوی علتوں سے پاک ایک علیحدہ جہان کی طرف سدھار چکے ہیں جہاں سے انہیں حقیقی رپورٹنگ اور جس شخص کے خلاف رپورٹ دی جا رہی ہے اس کا مؤقف لینے جیسی بلاوجہ کی مصیبت اپنے گلے ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ آزاد ہیں۔ یاد رہے کہ یہ جھوٹی خبر بیورو چیف اسلام آباد خاور گھمن کی تھی۔ وہ مسلسل دیگر ملکی معاملات پر بھی مسلسل ٹوئیٹس فرما رہے ہیں اور تردید کے خوف سے بھی بے نیاز، اور مکمل آزاد ہو کر۔کچھ ایسی ہی آزادی چند روز قبل تب دیکھنے میں آئی تھی جب وزیر اعظم شہباز شریف پر تب کے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے الزام لگایا کہ انہوں نے سات کروڑ روپے سے وزیر اعظم ہاؤس کا سوئمنگ پول مرمت کروایا ہے۔ اے آر وائے نے ایک اپوزیشن جماعت کے سیاستدان کا الزام اپنی رپورٹ کے طور پر پیش کیا گویا آسمانی صحیفہ ہو اور اس کی تبلیغ و ترویج کا انہیں ‘امر بالمعروف’ کے تئیں حکم ملا ہو۔ تنقید ہوئی تو چینل نے ٹوئیٹ بھی ڈیلیٹ کر دی اور خبر بھی۔

اگر کبھی پاکستان برطانیہ ہوتا تو عمران اسماعیل معافی بھی مانگتے، جرمانے بھی بھرتے، اور کئی کئی بار ٹی وی چینل پر یہ خبر بھی چلاتے کہ ہم نے غلط رپورٹنگ کی تھی، جیسے اس نے گل بخاری کے بارے میں جھوٹ بولنے پر کیا، جیسے ایک عام شہری کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے پر کیا، جیسے ن لیگی ورکر ناصر بٹ کے بارے میں جھوٹ بولنے پر کیا، جیسے اسحاق ڈار کے بارے میں جھوٹ بولنے پر کیا، جیسے ریحام خان کے بارے میں جھوٹ بولنے پر کیا۔ لیکن یہ پاکستان ہے۔ اور ہم آزاد ہیں۔ 74 سال سے جو غلامی کی زنجیریں ہمیں مجبور کرتی آئی تھیں، 75ویں سال میں ہم نے توڑ ڈالی ہیں، اب ہم جو جی میں آئے رپورٹنگ کر سکتے ہیں، بے بنیاد اطلاعات سوشل میڈیا اور ویب سائٹ کے ذریعے پھیلا سکتے ہیں، ہمیں کوئی روک ٹوک نہیں۔ جو جماعت ہمارے مفادات کا خیال رکھے گی، ہم اس کے مفادات کا خیال رکھنے میں آزاد ہیں۔ ‘غلامی نامنظور’۔

Back to top button