ضمنی الیکشن کے لیے عمران نے کارکنان دوبارہ نظر انداز کر دیئے


ملک میں فوری نئے الیکشن کا مطالبہ کرنے والے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے بھی پنجاب اسمبلی کی خالی ہونے والی 20 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر دیے ہیں جس کا بنیادی مقصد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو مزید اکثریت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو دوبارہ اپنی نشستیں حاصل کرنے کے لئے بہت زیادہ زور لگانا ہوگا چونکہ جن شخصیات کو ٹکٹس دیے گئے ہیں ان میں بڑی تعداد ’الیکٹیبلز‘ کی ہے جبکہ حسب روایتی عمران نے اپنے دعوؤں کے برعکس پارٹی کارکنان کو نظر انداز کر دیا ہے۔

2018 کے الیکشن میں عمران خان نے زیادہ تر الیکٹیبلز کو پارٹی ٹکٹ دیے تھے جبکہ پارٹی کارکنان کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ اسکی وجہ یہ بتائی گئی کہ الیکٹیبلز مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں اور وہ اپنی الیکشن مہم پر آنے والا خرچ برداشت کر سکتے ہیں۔ 2013 کے انتخابات اور اس کے بعد پی ٹی آئی میں ایسے ’الیکٹیبلز‘ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو بنیادی طور پر پی ٹی آئی کا حصہ نہیں رہے تھے۔ تاہم حال ہی میں تحریکِ عدم اعتماد کے ہاتھوں اپنی حکومت کھونے کے بعد عمران خان بارہا یہ اظہار کر چکے ہیں کہ ماضی میں ان سے غلطیاں ہوئیں اور آئندہ انتخابات میں وہ ایسے لوگوں کو ٹکٹس دیں گے جو ان کی جماعت کے دیرینہ کارکن ہیں۔
ان کا یہ بیان پی ٹی آئی کے ان منحرف یا ’ناراض‘ اراکین کے تناظر میں سامنے آیا جنہیں وہ حزبِ اختلاف کی طرف سے پیش کی جانے والی تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کی وجہ سمجھتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کی تاریخ میں ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ پارٹی کارکنان کو بڑی تعداد میں پارٹی کے ٹکٹس دیے گئے ہوں۔ عمران خان کے تازہ بیان پر ان کا پہلا امتحان جلد ہی پنجاب میں 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ وہ نشستیں ہیں جو ان کی جماعت کے منحرف اراکین کے نااہل قرار دیے جانے پر خالی ہوئی ہیں۔ پی ٹی آئی اگر ان نشستوں کی اکثریت کو دوبارہ جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ پنجاب میں ایک مرتبہ پھر حکومت بنانے کی طرف جا سکتی ہے۔ اس صورت میں اس کا سیاسی بیانیہ بھی کامیاب ثابت ہو گا کہ ملک کے عوام اس کے ساتھ ہیں، مگر ناکامی کی صورت میں اسے ان دونوں سطحوں پر یعنی دوہرا نقصان ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پی ٹی آئی کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ ایک مرتبہ پھر انتہائی اہم تھا۔تاہم حال ہی میں پی ٹی کی جانب سے 30 نشستوں پر ٹکٹس کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

سیاسی مبصرین اور صوبہ پنجاب میں تحریکِ انصاف کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ 20 نشستوں پر جن شخصیات کو ٹکٹس دیے گئے ہیں ان میں بڑی تعداد ’الیکٹیبلز‘ کی ہے جبکہ حسب روایتی عمران خان نے اپنے دعوؤں کے برعکس پارٹی کارکنان کو نظر انداز کر دیا ہے۔ یہاں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ دوسری طرف پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتوں کے لیے دیرینہ کارکنان کو ٹکٹس دینا کتنا مشکل یا آسان ہوتا ہے؟ کیا پی ٹی آئی کے علاوہ باقی سیاسی جماعتیں کارکنان کو ٹکٹس دیتی ہیں؟

اس سے قبل پی ٹی آئی کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں موجود چند ٹکٹ ہولڈرز پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں ان میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن ہیں اور چیئرمین پی ٹی آئی ورکرز کو ٹکٹس دینے کے بیان پر کس حد تک عمل درآمد کر پائے؟ تحریکِ انصاف کے سابق سینئر رہنما علیم خان 2018 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی کے رہنما میاں اکرم عثمان نے اس وقت بھی پارٹی ٹکٹ کی کوشش کی تھی تاہم انھیں ٹکٹ نہیں مل سکا تھا۔

اس سے قبل 2013 کے عام انتخابات میں انھوں نے اس وقت کے حلقہ پی پی 149 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا تاہم وہ ن لیگ کے امیدوار رانا مشہود کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔ میاں اکرم عثمان کو تحریکِ انصاف کا دیرینہ کارکن سمجھا جاتا ہے۔ ان کا تعلق سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ تحریکِ انصاف کے سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید کے داماد ہیں۔

پی ٹی آئی نے ملتان کی خالی ہونے والی صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے زین قریشی کو ٹکٹ دیا ہے۔ وہ تحریک انصاف کے نائب صدر اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے ہیں۔ 2018 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ 2013 کے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے شاہ محمود قریشی ایک طویل عرصے سے پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست شاہ محمود قریشی جیت گئے تھے تاہم انھوں نے پی پی 217 سے پنجاب اسمبلی کے لیے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا تاہم یہاں انھیں سلمان نعیم کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ سلمان نعیم کو ملتان کے اس حلقے میں پی ٹی آئی کا ’دیرینہ کارکن‘ تصور کیا جاتا ہے تاہم ان کی جماعت نے ان کے مقابلے میں شاہ محمود قریشی کو ٹکٹ دیا تھا۔ تاہم سلمان نعیم نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لے کر الیکشن جیت لیا تھا۔

اس کے بعد پی ٹی آئی کے اس وقت کے سرکردہ رہنما جہانگیر خان ترین حکومت سازی کے وقت سلیم نعیم کو پی ٹی آئی میں واپس لے آئے تھے۔ تاہم حال ہی میں وہ بھی منحرف اراکین کی اس فہرست میں شامل تھے جنہوں نے وزیرِاعلیٰ کے انتخاب میں ن لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔ تحریکِ انصاف نے بھکر کی اس نشست کے لیے عرفان اللہ خان نیازی کو پارٹی کا ٹکٹ دیا ہے۔ عرفان نیازی نے سنہ 2018 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا۔ وہ اس وقت آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لینے والے تجربہ کار سیاست دان سعید اکبر خان نوانی کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔ سعید اکبر نوانی بعد میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ حال میں وہ جہانگیر ترین گروپ کے سرکردہ رہنما کے طور پر سامنے آئے تھے۔

تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ بھکر میں پی ٹی آئی کی طرف سے عرفان نیازی کو ٹکٹ دینے کی مثال ’یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے پارٹی ورکرز کو ٹکٹ دینا کیوں اور کتنا مشکل ہوتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے اس شخص کو ٹکٹ دیا جو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کزن ہیں تاہم 2018 تک بھکر میں وہ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ سردار سیف الدین کھوسہ ڈیرہ غازی خان میں سیاسی اور خاندانی اثر و رسوخ رکھنے والے کھوسہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں انھوں نے پی ٹی آئی ہی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے لیے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔انھیں کھوسہ خاندان ہی سے تعلق رکھنے والے محسن عطا خان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جو آزاد حیثیت میں جیتے لیکن بعد میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے۔ضمنی انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کا ٹکٹ حاصل کرنے والے سردار سیف الدین خان کھوسہ جنوبی پنجاب سے ایک طویل عرصے تک مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ رہنما رہنے والے سابق سینیٹر سردار ذوالفقار خان کھوسہ کے صاحبزادے ہیں۔ 2018 سے قبل وہ خود بھی ایک طویل عرصے تک ن لیگ کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور کئی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ ’پاکستان میں شہروں سے باہر نکل کر دیہاتوں میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے پارٹی کارکنان کو ٹکٹ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں زیادہ تر دھڑے بندیاں اور برادری سسٹم چلتا ہے۔‘

ان کے خیال میں پی ٹی آئی سے بھی عملی طور پر ایسے علاقوں سے کسی پارٹی کارکن کو ٹکٹ دینے کی توقع کرنا مشکل تھا۔ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے پی پی 167 لاہور کا وہ حلقہ ہے جہاں سے تحریکِ انصاف کے سابق رکن اسمبلی نذیر چوہان 2018 کے انتخابات میں ایک سخت مقابلے کے بعد کامیاب ہوئے تھے۔ انھوں نے 40 ہزار سے زائد جبکہ ان کے حریف مسلم لیگ (ن) کے میاں محمد سلیم نے 38 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔ ضمنی انتخاب کے لیے پی ٹی آئی نے اس حلقے سے پہلے عاطف چوہدری کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔ عاطف چوہدری نے اس سے قبل 2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیے حلقہ این اے 123 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا تاہم کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے حالیہ دورِ حکومت میں انھیں لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ عاطف چوہدری کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن ہیں۔

سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ الیکٹیبلز کو ٹکٹ دینے کی روایت صرف پاکستان ہی میں نہیں۔ دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو پارٹیاں ٹکٹ دیتی ہیں جو کسی قسم کا اثر و رسوخ رکھتے ہیں یا مالی طور پر مستحکم ہوتے ہیں۔ انکے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں تو سیاسی جماعتیں نظریے کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اور اسی طرح امیدواروں کو بھی منتخب کیا جاتا ہے تاہم ترقی پذیر ممالک میں زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے کہ الیکٹیبلز کو ٹکٹ کے لیے کارکنان پر ترجیح دی جاتی ہے۔‘ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی سیاسی جماعتیں یہ دعویٰ یا اعلان ضرور کرتی ہیں کہ وہ اپنے سیاسی ورکرز کو ٹکٹس دیں گی تاہم عملی طور پر ان کے لیے ایسا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف پنجاب اسمبلی میں خالی ہونے والی اپنی 20 نشستوں میں سے کتنی جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

Back to top button