پی پی 167ضمنی انتخاب:الیکشن کمیشن کا تشدد، فائرنگ کی انکوائری کا حکم

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے حلقہ پی پی167 کے ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران امیدواروں کی جانب سے فائر نگ اور تشدد کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے غیر جانبدار انکوائری کا حکم دے دیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان کو ہدایت دی کہ وہ آئی جی پنجاب سے رابطہ کریں، کسی سیاسی وابستگی کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر آئی جی پنجاب واقعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائیں۔

سلطان راجہ نے آئی جی پنجاب کو واقعہ کی شفاف انکوائری کروا کر رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیشں کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے دنوں میں آئی جی پنجاب اور انتظامیہ گن کلچر، تشدد اور تخریب کار عناصر سے سختی سے نپٹے، اس حوالے سے زیرو ٹالیرنس پالیسی رکھے اور کسی قسم کی نرمی نہ برتے، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔انہوں نے تفصیلی رپورٹ مرتب کرنے اور ضابطہ اخلاف کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی یقینی بنانے کا حکم جاری کیا۔

الیکشن کمیشن کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر نے سی سی پی او لاہور کو واقعے کی تحقیات کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد اور فائرنگ کے واقعے کی تفصیلی انکوائری رپورٹ فوری طور پر مرتب کی جائے، تحقیات کے بعد واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت اور فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی،کارروائی کے دوران کسی بھی فرد کی سیاسی وابستگی کو ملحوظ خاطر نہیں لایا جائے گا اور قانون کے مطابق غیر جانب دارانہ اور شفاف کارروائی کی جائے گی،مام پولیس حکام کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی جائیں، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

دریں اثنا پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ لاہور کے حلقہ پی پی 167 میں ان کے انتخابی دفتر پر ہفتہ کی رات پارٹی کے منحرف رکن نذیر احمد چوہان نے حملہ کیا جب کہ نذیر چوہان نے بھی پی ٹی آئی پر اسی طرح کے الزامات عائد کیے، پی ٹی آئی کے منحرف رکن نذیر احمد چوہان اسی حلقے پی پی 167 سے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے ایک ٹویٹ میں الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ رات کو مسلم لیگ (ن) کے لوٹا امیدوار نزیر چوہان نے پولیس اہلکار کے ہمراہ تحریک انصاف کے پی پی 167 کے مرکزی دفتر پر حملہ کیا، انہوں نے حملے میں ہمارے درجنوں کارکنوں کو زخمی کیا، پی ٹی آٗی کے امیدوار کے بھتیجے کے سر میں گولی ماری گئی جب کہ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔

ایک ٹویٹرپیغام میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے کہا کہ نذیر چوہان اور ان کے غنڈوں نے اللہ ہو چوک میں پارٹی کے امیدوار کے انتخابی دفتر پر حملہ کیا امپورٹڈ حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے، لاہور میں نزیر چوہان اور اس کے غنڈوں نے اللہ ہو چوک پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کے الیکشن دفتر پر حملہ کیا، امیدوار کے بیٹے عادل کو زخمی کر کے فرار ہو گئے، یہ لوٹے اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں، شکست سامنے دیکھ کر اب یہ گھٹیا حرکتوں پر اتر آئے ہیں۔

دوسری جانب آج پریس کانفرنس میں نذیر چوہان نے دعویٰ کیا کہ 100 سے زیادہ پی ٹی آئی کارکنوں نے ان پر ہفتے کی رات کو لاٹھیوں اور ہتھیاروں سے حملہ کیا،میں رات 3 بجے گھر واپس جا رہا تھا کہ اللہ ہو چوک کے قریب کچھ گاڑیوں نے میرا راستہ روک دیا، پی ٹی آئی کے امیدوار شبیر گجر اور ان کے ساتھیوں نے میرے ساتھ بدتمیزی کی اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

نذیر چوہان نے الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے جدید ہتھیاروں سے میری گاڑی پر گولیاں بھی چلائیں، میں پنکچر گاڑی میں وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو معلوم ہے کہ حلقہ پی پی 167 سے مسلم لیگ (ن) جیتے گی، اس لیے وہ اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ وہ ہار جائے گی، انہوں نے پنجاب پولیس، سیکیورٹی اداروں اور اعلیٰ صوبائی حکام سے انہیں سکیورٹی فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کی۔

ادھر لاہور پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ حکام نے حملہ آور کی شناخت اور تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے، کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، فائرنگ کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے والے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،ضمنی انتخابات کی مہم کے دوران امن و امان کو یقینی بنایا جائے گا وار انتخابی ضابطہ اخلاق کو نافذ کیا جائے گا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی صدر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

Back to top button