باجوہ نے عمران کو بنی گالہ والے گھر کیلئے NRO کیسے دلوایا؟

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے عمران خان کے غیر قانونی طور پر تعمیر کردہ بنی گالہ محل کو ریگولرائز کروانے کے لیے این آر او دلوانے کا انکشاف ہوا ہے۔ جنرل باجوہ نے 2020 میں تب کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پر اثر انداز ہو کر انکی غیر قانونی بنی گالا رہائش گاہ کے کیس کا فیصلہ عمران خان کے حق میں کرایا۔ جسٹس ثاقب نثار نے اسی کیس میں عمران خان کو صادق اور امین قرار دیا تھا۔ یہ دعوی ٰوزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی ملک احمد خان نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اپنے دعوے کے حق میں دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی نے بتایا ہے کہ جب انہوں نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے ملک احمد کے دعوے کو بکواس قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ نے عدالتی فرائض کی ادائیگی کے دوران ان پر کبھی بھی دباؤ نہیں ڈالا۔ تاہم یاد رہے کہ جنرل باجوہ اور ثاقب نثار نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کر کے عمران کو وزیراعظم بنوانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس لیے اگر عمران کے غیرقانونی بنی گالہ محل کو قانونی قرار دیا گیا تھا تو اس کے لیے جنرل باجوہ نے ثاقب نثار پر دباؤ نہیں ڈالا ہوگا بلکہ سفارش کی ہو گی۔

دوسری جانب ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ پورا بنی گالا غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا اور جس کیس کا انہوں نے فیصلہ سنایا تھا وہ تمام جائیدادوں کی ریگولرائزیشن کے متعلق تھا کیونکہ اِنہیں منہدم نہیں کیا جاسکتا تھا۔پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے بھی رابطہ کرنے پر اس بات کی تردید کی اور کہا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی اور سینئر نون لیگی رہنما یہ کہہ رہے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان کو آرمی چیف کنٹرول کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی سنگین الزام ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو چاہیئے کہ اس بات کا نوٹس لیں۔ عمران خان کے بنی گالا کیس میں ریگولرائزیشن کے معاملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جس وقت چیئرمین پی ٹی آئی نے گھر تعمیر کیا تھا تب علاقے میں ایسی تعمیرات کے حوالے سے کوئی قواعد و ضوابط موجود نہیں تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اِس کیس میں سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو حکم دیا تھا کہ قواعد و ضوابط بنائے جائیں تاکہ بنی گالا ایریا میں تعمیرات کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔

لیکن دوسری جانب لیگی رہنما ملک احمد خان کا اصرار ہے کہ جنرل باجوہ نے جسٹس ثاقب نثار سے عمران خان کو این آر او دلوایا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ اس این آر او کی نوعیت کیا تھی، تو احمد خان نے کہا کہ عمران خان کو چاہئے کہ وہ سامنے آئیں اور حلفیہ بیان دیں کہ جس وقت یہ کیس ثاقب نثار کی عدالت میں زیر سماعت تھا تب بنی گالا کیس میں انہیں این آر او نہیں دیا گیا تھا۔ ملک احمد خان نے کہا کہ ان کے پاس تمام شواہد موجود ہیں کہ کب اور کس طرح یہ کام کیا گیا، کون کون سے کردار ملوث تھے، کس نے کسے پیغامات بھیجے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ تب کے آرمی چیف نے چیف جسٹس پاکستان پر عمران کے حق میں فیصلہ دلوانے کے لیے دباؤ ڈالا، تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں، میرے پاس ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں بے موت مارا جانے والے فرد کا نام جہانگیر خان ترین ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ملک احمد خان اُن لیگی رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو ریٹائرڈ آرمی چیف کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں اکثر اوقات سابق آرمی چیف سے ملاقات کرتے دیکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ثاقب نثار نے دسمبر 2020 میں عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ کو قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں صادق اور امین بھی قرار دے دیا تھا۔ لیکن یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اپنی رہائش گاہ ریگولرائز کرانے کے احکامات کے باوجود عمران نے اسلام آباد کی کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے اپنا 300 کنال پرمحیط محل نما گھر ابھی تک ریگولرائز نہیں کروایا اور اسکا سٹیٹس اب بھی غیر قانونی رہائش گاہ کا ہے۔

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سرکاری دستاویزات کے مطابق عمران خان نے ابھی تک اپنی غیر قانونی تعمیرات کو قانونی درجہ دلوانے کے لیے ریگولرائزیشن کے قواعد اور شرائط کو پورا نہیں کیا۔ 3 مارچ 2020 کو عمران خان نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اپنے 300 کنال کے گھر کو ریگولرائز کرنے کے لیے محض 12 لاکھ روپے ادا کیے۔ خان نے یہ رقم اپنے گھر کے صرف گراؤنڈ فلور کے بلڈنگ پلان کی منظوری کے لیے ادا کی تھی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعظم نے شہری ادارے کو آگاہ کیا کہ ان کے گھر کے گراؤنڈ فلور کا احاطہ 11371 مربع فٹ کا ہے۔ سی ڈی اے نے گرائونڈ فلور کی ریگولرائزیشن فیس کا حساب لگا کر ان سے 12لاکھ 6 ہزار روپے وصول کیے تھے۔ تاہم اسکے باوجود عمران کے 300 کنال کے رہائشی مکان کے پورے لے آؤٹ کی ریگولرائزیشن اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے بلڈنگ کنٹرول رولز 2020 کی دیگر کئی شرائط کو پورا کرنے سے مشروط ہے۔ ان شرائط کے پورا ہونے کے بعد بھی حتمی منظوری کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سفارشات پر دی جائے گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود عمران  اپنے ہی دور حکومت میں اپنا گھر کیوں ریگولرائز نہیں کرا سکے۔

Back to top button