برا وقت شروع ہونے کے بعد عمران کے پاس آخری راستہ کیا ہے؟

سینئر صحافی سلیم صافی نے سابق وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صدق دل کے ساتھ گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ انسان کی زندگی میں کبھی بند نہیں کرتا، تاہم صافی نے یاد دلایا کہ توبہ کی قبولیت کیلئے گناہ کا دل سے اقرار اور اسکی تلافی لازمی شرط ہے۔ اپنی تازہ تحریر میں سلیم صافی نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئیے اور قوم کے سامنے اقرار کرلیجئے کہ آپ کی پارٹی میں کس کس کو ایجنسیوں نے شامل کروایا۔ کس کس کیس میں کس طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عدالتوں پردبائو ڈال کر آپ کو نااہلی اور سزا سے بچایا۔ آئیے قوم کو بتائیے کہ امریکی سازش کا بیانیہ گھڑ کر آپ نے کس طرح جھوٹ بولا۔ یہ بھی اقرار کر لیجئے کہ آپ اور جنرل باجوہ کا گزشتہ چھ سال کیا گٹھ جوڑ رہا اور انہوں نے آپ کی حکومت بنوانے اور چلوانے کیلئے کیا کچھ کیا۔ صافی کہتے ہیں کہ خان صاحب! مجھے چھوڑ دیجئے، مجھے رہنے دیجئے، مجھ سے معافی نہ مانگیں، لیکن ہمت کرکے ثناء بچہ، عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی اور نسیم زہرہ جیسی خواتین سے معافی مانگ لیجئے۔
سلیم صافی عمران خان کو مرشد کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ویسے یہ تو بنیادی طور پر مولانا طارق جمیل، پیرزادہ نورالحق قادری اور آپ کے مداح دیگر علمائے کرام کا بنیادی فرض تھا کہ آپ کو یہ نصیحت کرتے لیکن چونکہ وہ مصلحتاً خاموش ہیں اس لئے مجھ گناہگار کو یہ فریضہ انجام دینا پڑرہا ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ آپ پر بہت برا وقت آنے والا ہے۔ صافی خان صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کی یادداشت شاید کچھ متاثر ہو گئی لگتی ہے کیونکہ آپ صبح ایک اور شام کو دوسری بات کرتے ہیں لیکن اگر آپ ذہن پر زور ڈالیں تو یاد آجائے گا کہ آج سے دس برس قبل 2012 میں جاوید ہاشمی اور عون چوہدری کی موجودگی میں آپ سے اس موضوع پر میری طویل بحث ہوئی تھی۔قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کے حوالے دے کر میں نے آپ سے گزارش کی تھی کہ قومی اور اجتماعی ایشوز پرڈٹ کر سیاست کرو لیکن دوسروں کی عزتوں سےنہ کھیلو اور ذاتیات کا سہارا نہ لو۔ لیکن آپ مصر رہے کہ میں چور کو چور اور بدکردار کو بدکردار کہوں گا۔ تب آپ کو ٹیلی فون ٹیپ کرنے والوں اورویڈیوز بنانے والوں کی بھرپور پشت پناہی حاصل تھی۔ میں نے آپ سے یہ بھی گزارش کی تھی کہ اس ملک کے سوشل بیرئیر کو نہ توڑو لیکن چونکہ آپ شہرت اور طاقت کے نشے میں چُور تھے،اس لئے آپ نے اپنے سیاسی اور صحافتی نقادوں کی کردارکشی کی مہم اور بھی تیز کردی ۔ مجھ سمیت سب کو طرح طرح کے القابات سے نوازتے تھے۔ ڈیزل، غدار، چور اور اسی نوع کے القابات دینا آپ کا روز کا معمول بن گیا۔ آپ محمود اچکزئی کی چادر، مولانا فضل الرحمٰن کی پگڑی اور بلاول کی گفتگو کا مذاق اڑاتے رہے حالانکہ قرآن نے واضح الفاظ میں منع فرمایا ہے۔
سلیم صافی عمران کو یاد دلاتے ہیں کہ میں نے ماضی میں آپ کو پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ انہوں نے لوگوں کے ذاتی عیوب اور گناہوں پر پردہ ڈالنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن آپ اصلاح تو کیا کرتے الٹا آپ نے سنگاپور سے لے کر امریکہ تک اور لندن سے لے کر یورپ تک گالم گلوچ اور کردار کشی سوشل میڈیا کے گالم گلوچ بریگیڈ بنائے۔اس وقت کے آئی ایس پی آر کے حکام کے ساتھ مل کر اور اربوں روپے لگا کر ملک کے اندر بھی ایک وسیع و عریض نیٹ ورک اس غلیظ کام کیلئے قائم کیا۔ مین سٹریم میڈیا اور یوٹیوبرز کو بھی استعمال کیا۔ آپ اورآپ کی مرشَد کی ہدایت پر میری ماں، بہنوں اور بیوی کو گالیاں دلوائی جاتی رہیں۔ آپ اور آپ کی مرشَد کی ہدایت پر خواتین اینکرز کی کردارکشی ہوتی رہی۔ان کے اور ان کے اہل خانہ کی زندگیوں کو اجیرن بنایا گیا۔ بعض کے گھروں میں ان کو ڈرانے دھمکانےکیلئے ایجنسیوں کے اہلکاروں کو بھیجا گیا۔ آپ کی حکومت میں خود میرے گھر کے اندر لوگوں نے گھسنے کی کوشش کی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ میرے گارڈز نے بہادری دکھا کر اپنا خون تو بہادیا لیکن گھر کے تقدس کو پامال نہ ہونے دیا۔ اس کی ایف آئی آر درج ہوئے تین سال ہوگئے لیکن آپ کی پوری حکومت میں اس پر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔
عمران کو مخاطب کرتے ہوئے سلیم صافی کہتے ہیں کہ اقتدار سنبھالتے ہی آپ نے ایجنسیوں کو ہمارے پیچھے لگایا کہ ان لوگوں کی ذاتیات کی جانکاری لائو۔ آپ نے چیئرمین نیب کو بلیک میل کرنےکیلئے طیبہ گل نامی خاتون کی ویڈیو ٹی وی چینل پر چلوائی۔آپ نے بشیر میمن پر اپنے مخالفین پر غداری کے مقدمے قائم کرنےکیلئے دبائو ڈالا۔ میر شکیل الرحمان سے لے کر شاہد خاقان عباسی تک، بہت سوں کو بے گناہ جیلوں میں ڈالا۔آپ نے احمد فراز جیسے شخص کے بیٹے سے بھی جھوٹے پروپیگنڈے اور لوگوں کی کردارکشی کا کام لیا۔ آپ علی امین گنڈا پور سے مریم نواز اور بلاول بھٹو کی شکل و صورت اور طرزِ گفتگو پر غلیظ تبصرے کرواتے رہے۔ صافی کہتے ہیں کہ پیارے مرشَد! کون نہیں جانتا کہ ہر روز بطور وزیراعظم محفل لگا کر آپ اپنے کارندوں کے ساتھ لوگوں کی ذاتی زندگیاں ڈسکس کرتے، ٹرولنگ اور گالم گلوچ کرنے والوں کو شاباش اور اگلے دن کیلئے ٹاسک دیتے رہے۔ سب سے زیادہ کرب سے ہم تب گزرتے جب یہ سب کچھ کرکے بھی آپ ”ایاک نعبدووایاک نستعین“ سے تقریر شروع کرتے اور ”ریاست مدینہ“ کا مقدس نام سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے رہے۔ تاہم مکافات عمل کے آفاقی اور دائمی اصول کے تحت شاید اب آپ کی باری آگئی ہے۔ اس لئے آپ کو قرآن کا یہ حکم یاد آگیا ہے کہ دوسروں کے گناہوں پر پردہ ڈالو۔ بہر حال دیرآید درست آید ۔ لہٰذا اب بھی آپ سے میری گزارش ہے کہ اس قرآنی حکم کو صرف اپنی جان بچانے کیلئے استعمال نہ کریں۔ دل سے اللہ سے معافی مانگیں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ آپ پر بہت برا وقت آنے والا ہے۔ وماعلینا الاالبلاغ
