عمران خان کے زخموں کو خفیہ رکھنے کی وجہ کیا ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کو دو ماہ گزر جانے کے باوجود شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ خان کے زخموں کی تفصیل بتانے سے گریزاں ہے اور ہسپتال کا عملہ اس حوالے سے معلومات دینے سے انکاری ہے۔ قانون کے بر خلاف کسی سرکاری ہسپتال سے عمران کی میڈیکو لیگل رپورٹ بھی تیار نہیں کروانے دی گئی جس سے ان کے زخموں کی نوعیت کا اندازہ ہوپاتا، لہذا عمران کے زخموں کی نوعیت کے حوالے سے ایک پرسراریت چھائی ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے لاہور سے اسلام آباد لانگ مارچ کے دوران 3 نومبر کو وزیر آباد میں فائرنگ کے نتیجے میں عمران زخمی ہو گئے تھے اور ان کی ٹانگوں میں تین گولیاں لگنے کا دعوی ٰکیا گیا تھا۔ تاہم ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار کے ویڈیو بیان نے اس دعوے کو مشکوک بنا دیا تھا۔ عمران کو کنٹینر پر ابتدائی طبی امداد دینے والے اہلکار نے بتایا تھا کہ حملے کے بعد خان صاحب کی دائیں ٹانگ کے ٹخنے پر زخم تھا جس سے خون رس رہا تھا لہذا اس نے مرہم پٹی کر دی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ عمران کی دوسری ٹانگ پر کوئی زخم نہیں تھا، لیکن عمران کی دونوں ٹانگوں پر پلاسٹر چڑھا دیا گیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ گولیاں دونوں ٹانگوں میں لگیں۔ بعد ازاں یہ خبر سامنے آئی کہ ریسکیو 1122 کے اہلکار کو غیر ذمہ دارانہ ویڈیو بیان دینے پر نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
حملے کے کئی روز بعد عمران کے ذاتی معالج اور شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا تھا کہ خان صاحب کی دائیں ٹانگ پر گولیوں کے ٹکڑے لگنے سے تین زخم آئے جن میں سے دو زخم گھٹنے کے اوپر اور ایک زخم گھٹنے کے نیچے آیا۔ تب سے عمران اپنے آبائی گھر زمان پارک لاہور میں مقیم ہیں۔ البتہ ایک ماہ قبل 26 نومبر کو انہوں نے زخموں میں بہتری آنے پر راولپنڈی تک سفر کیا تھا اور جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔ اس سے پہلے ان کا پلستر اتار کر ڈاکٹروں نے انہیں سفر کی اجازت دے دی تھی۔ لیکن چلنے پھرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس کے بعد سے وہ اپنے گھر میں مقیم ہیں اور وہیں اپنے ڈرائنگ روم میں ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق معالجین نے گزشتہ ہفتے بھی عمران کا تفصیلی معائنہ کیا تھا اور انکی شفا یابی کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمران روزانہ اپنے گھر کے لان میں چہل قدمی کرتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی چیئر مین کے معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے پلستر اتارتے وقت بتایا تھا کہ عمران کو ٹانگوں پر ہلکا وزن ڈالنا اور تھوڑا تھوڑا قابل برداشت حد تک چلنا تجویز کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی جب انہوں نے عمران خان کا معائنہ کیا تو علاج اور بہتری کی رفتار پر معالج اور مریض کےمابین مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔ تاہم ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ عمران سہارے کے بغیر چلنا کب تک شروع کریں گے۔
جب اس حوالے سے شوکت سلطان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو کامیابی نہیں ہوئی۔ شوکت خانم ہسپتال کے دیگر متعلقہ عملے نے بھی عمران کے زخموں کی نوعیت اور ان کی ریکوری بارے گفتگو کرنے سے معذرت کر لی۔ تاہم کچھ آرتھو پیڈک ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک عمران کو با قاعدہ چلنا پھرنا شروع کر دینا چاہئے تھا، کیونکہ اب تو ٹانگ کا پلستر اتارے ہوئے بھی ایک مہینہ گزر گیا ہے۔ معروف آرتھو پیڈک ماہر ڈاکٹر اسد عباس شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کے زخموں کی اصل نوعیت تو مسلسل معائنہ کرنے والے معالجین ہی بتا سکتے ہیں۔ تاہم اب تک جو صورتحال میڈیا کے ذریعے انکے معالجین نے بتائی ہے اس کے مطابق اگر میرا کوئی مریض ہوتا تو سہارے کے بغیر چلنا شروع کر دیتا، جبکہ خان صاحب ابھی تک بیساکھیوں کے سہارے چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ میڈیا پر عمران خان کا جو ایکسرے دکھایا گیا ہے اور معالجین مختلف اوقات میں جو آگاہی دیتے رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ عمران کی ٹانگ کی ہڈی پر دھات کا جو ٹکڑا لگا تھا اس سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ عام طور پر اگر ہڈی فریکچر نہ ہو تو صحتیاب ہونے میں چار سے پانچ ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہڈی ٹوٹی ہو تو پھر اسکے جڑنے کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے ذرائع کا خیال ہے کہ عمران دو ڈھائی ہفتے تک باقاعدہ چلنا پھرنا شروع کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان فروری مارچ تک الیکشن مہم خود چلانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ اب بھی پی ٹی آئی کے ذرائع یہی خیال کر رہے ہیں کہ جنوری کے وسط تک عمران چلنے پھرنے کے قابل ہو جائیں گے اور اگر مارچ تک نئے الیکشن کا اعلان ہوگیا تو وہ انتخابی مہم کی قیادت خود کریں گے۔ عمران کے چلنے پھرنے کے قابل ہونے کے بارے میں پی ٹی آئی کا کوئی رہنما بات کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم وہ یہ ضرور بتاتے ہیں کہ خان صاحب کی صحت بہت بہتر ہے اور وہ جلد عوام میں ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق عمران خود سے ملاقات کرنے والوں سے اپنی ٹانگ اور فریکچر بارے معلومات کا تبادلہ نہیں کرتے۔ ممکنہ طور پر یہ ان کی سیاسی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ انکے خلاف عدالتوں اور الیکشن کمیشن میں کئی مقدمات زیر سماعت ہیں لیکن وہ زخموں کی آڑ میں وہاں پیشی سے استثنیٰ حاصل کرتے چلے جا رہے ہیں۔
