رمیز راجہ PCB سے فارغ ہو کر شہدے پن پر کیوں اتر آئے؟

عمران خان کے قریبی ساتھی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین رمیزراجہ راجہ پی سی بی کی سربراہی سے ہٹائے جانے کے بعد گریس کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے کی بجائے اوچھے پن پر اتر آئے ہیں اور نجم سیٹھی کے خلاف مہم شروع کر دی ہے جو ان کو زیب نہیں دیتی۔
رمیز راجہ نے پی سی بی کی سربراہی سے ہٹنے کے بعد یہ بیان داغا ہے کہ انہیں رات کے اندھیرے میں اچانک عہدے سے ہٹایا گیا اور اپنے دفتر سے سامان اٹھانے کی بھی مہلت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ رات گئے انہیں فارغ کرنے کے بعد اگلی صبح اچانک پی سی بی کے دفتر میں نجم سیٹھی درجن سے زائد لوگوں کے ہمراہ آئے اور ایسا ماحول بنایا جیسے ایف آئی اے نے چھاپہ مار دیا ہو۔ رمیز راجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کرکٹ بورڈ میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد اب انہیں کرکٹ میچوں پر کمنٹری کرنے سے بھی روک دیا جائے گا۔
رمیز راجہ نے فراغت کے بعد اپنے یوٹیوب چینل پر لوگوں سے گفتگو پر مبنی ویڈیو جاری کی ہے۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ جس طرح انہیں کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ سے ہٹایا گیا تھا شاید اب کرکٹ کمنٹری کے دروازے بھی ان پر بند کر دیے جائیں۔ان کے بقول اب کرکٹ شائقین کو میرے بغیر ہی کمنٹری سننی پڑے گی۔ رمیز کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20 سال سے کمنٹری ان کا پیشہ رہا ہے جس کے لیے انہوں نے خود کو تیار کیا تھا لیکن جب وہ پی سی بی میں آئے تو احساس ہوا کہ یہاں بہت کچھ ہے جو کیا جا سکتا ہے۔ اسکے مقابلے میں کمنٹری کی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن اب وہ ناصرف پی سی بی کی سربراہی سے فارغ ہو گئے ہیں بلکہ کمنٹری سے بھی فارغ کیے جانے والے ہیں۔
دوسری جانب پی سی بی کی نئی انتظامیہ نے رمیز راجہ کی گفتگو کو شہدا پن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں گریس کا مظاہرہ کرنا چاہیے، عہدے آنے جانے ہوتے ہیں اور انکی خاطر اپنی عزت اور امیج کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔ رمیز راجہ کے ناقدین نے نجم سیٹھی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کی تبدیلی کے بعد انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو وہ گریس کے ساتھ گھر چلے گئے تھے اور کوئی رونا دھونا نہیں کیا تھا۔ پی سی بی کی نئی انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ راجہ کو کمنٹری سے نہیں روکیں گے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے گرو عمران خان کی طرح منفی سیاست سے پرہیز کریں۔
پی سی بی کی عبوری انتظامی کمیٹی کے رکن شکیل شیخ نے رمیز راجہ کے الزامات کو حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے عبوری چیئرمین نجم سیٹھی پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ رمیز راجہ کو کمنٹری باکس میں خوش آمدید کہیں گے۔ دوسری جانب رمیز راجہ نے اپنے یوٹیوب چینل پر مزید کہا کہ کرکٹ میں سیاست کا عمل دخل بالکل نہیں ہونا چاہیے یہ کھلاڑیوں کا کھیل ہے اور کرکٹرز کی پلینگ فیلڈ ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ نجم سیٹھی کو کرکٹ بورڈ میں لانے کے لیے پی سی بی کا آئین تک تبدیل کر دیا گیا تاکہ انہیں ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ ایسا دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوتا۔ رمیز راجہ کے مطابق پی سی بی سے لوگوں کو عزت کے ساتھ روانہ کیا جانا چاہیے تھا، تبدیلی کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے لیکن بورڈ میں حالیہ تبدیلیاں ایسے وقت میں کی گئیں جب غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آ رہی ہیں۔نجم سیٹھی کی ایک ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ رات کو سوا دو بجے نجم سیٹھی نے ٹوئٹ کی کہ رمیز راجہ باہر ہو گئے ہیں اس لیے لوگ اب انہیں مبارک باد دینا شروع کر دیں۔
خیال رہے کہ 22 دسمبر کو نجم سیٹھی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا تھا کہ رمیز راجہ کی قیادت میں کرکٹ کے منتظمین اپنے عہدوں پر نہیں رہے جب کہ پی سی بی کا 2014 کا آئین بھی بحال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کرکٹ کی بہتری کے لیے اقدامات کا بھی اسی بیان میں اعلان کیا تھا۔ رمیز راجہ نے الزام عائد کیا کہ ان لوگوں کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ لوگ کرکٹ کی ترقی اور ترویج کے لیے آئے ہیں۔ یہ لوگ چوہدراہٹ کے لیے آئے ہیں۔ ان کو شوق ہے کہ کسی طرح خبروں میں رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نجم سیٹھی کا کرکٹ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، انہوں نے کبھی بلا تک نہیں اٹھایا۔ اور ایسے لوگوں کو چیئرمین لگا دیا جاتا ہے۔ بورڈ میں حالیہ تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا میں ایسا صرف پاکستان میں ہو سکتا ہے کہ ایک بندے کو ایڈجسٹ کرنے یا اس کے بندے کولانے کے لیے بورڈ کا آئین ہی بدل دیا جائے۔
دوسری جانب پی سی بی کے عبوری چیئرمین نجم سیٹھی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ رمیز راجہ کو کمنٹری سے کسی صورت میں بھی نہیں روکا جائے گا۔ اگر کسی بھی مرحلے میں کمنٹری کے لیے ان کا انتخاب کیا جاتا ہے تو پی سی بی اسکی مخالفت نہیں کرے گا۔
