عمران اور عائلہ ملک کے دیرینہ تعلقات کی اندرونی کہانی

سابق وزیراعظم عمران خان کی حال ہی میں لیک ہونے والی جنسی گفتگو پر مبنی آڈیو ٹیپس میں سنائی دینے والی ایک خاتون کی آواز مغربی پاکستان کے سابق گورنر نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کی پوتی اور سابق صدر فاروق احمد خان لغاری کی بھانجی عائلہ ملک کی ہے۔ اگرچہ عائلہ ملک نے ان آڈیوز کو جعلی قرار دیا ہے لیکن عوام یہ موقف تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی عمران خان نے اب تک ان ٹیپس کی تردید کی ہے۔

عائلہ ملک کے والد کا نام نواب ملک اﷲ یار خان تھا۔ عائلہ ملک اور انکی بڑی بہن سمیرا ملک کی دو اور بہنیں بھی ہیں جبکہ ان کا کوئی بھائی نہیں۔ عائلہ 6 اکتوبر 1970 کو میانوالی میں پیدا ہوئیں۔ عائلہ اور سمیرا دونوں ماضی میں تحریک انصاف سے وابستہ رہی ہیں۔ عائلہ ملک 2002 سے 2007 تک خواتین کی نشست پر قومی اسمبلی کی رکن رہی ہیں۔ دونوں بہنوں کا عمران خان کیساتھ میانوالی کنکشن بھی ہے عائلہ میانوالی میں عمران کی الیکشن مہم کی انچارج بھی رہی ہیں۔ عائلہ ملک نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز دنیا نیوز کے ایک کرنٹ افئیرز شو سے بطور  میزبان کیا تھا اور وہ اکثر اپنے پروگرام میں عمران کو بطور مہمان مدعو کیا کرتی تھیں۔ 2013 میں لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے عائلہ ملک اور سمیرا ملک دونوں کوجعلی ڈگریاں جمع کروانے پر نا اہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد انہوں نے سیاست سے بظاہر کنارہ کشی اختیار کر لی۔ لیکن عائلہ ملک اور عمران خان کی دوستی چلتی رہی۔ اب ان دونوں کی بیہودہ جنسی گفتگو پر مبنی آڈیو ٹیپس مارکیٹ  لیک ہوگئی ہیں جنہوں نے عمران کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔

ناقدین یاد دلواتے ہیں کہ یہ وہی عمران خان ہیں جو کہ پچھلے ایک عشرے سے ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ انہوں نے ریاست مدینہ کے ماڈل پر پاکستانی ریاست کی تشکیل نو کا دعویٰ کیا اور کئی اسلامی علامتوں کو اپنی تقریروں اور گفتگوؤں میں ہوشیاری سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے خود کو خلافت راشدہ کے انتظامی معیار پر پرکھنا شروع کر دیا اور عوام الناس کو بھی ترغیب دی کہ وہ عمران کو اسی نظر سے دیکھیں جس نظر سے اوائل زمانے کے مسلمان خلیفہ کو دیکھتے تھے۔ تاہم آڈیو ٹیپسلیک ہونے سے عمران خان کی شخصیت کا کھلا تضاد سامنے آگیا ہے۔

دوسری جانب عائلہ ملک نے بھی عمران خان کی طرح آڈیو لیکس کے بعد خاموشی اختیار کی ہے لیکن ان کی بہن سمیرا ملک نے ان لیکس کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ عائلہ نے نواب آف کالا باغ کا اونچا شملہ اپنے پاؤں تلے روند دیا ہے۔ عائلہ ملک کے دادا نواب ملک امیر محمد خان زبردست جاہ و حشمت کے مالک تھے اور قبائلی روایات کے پابند تھے۔ وہ خواتین کے پردے کے سختی سے قائل تھے۔ ان کی دہشت کا یہ عالم تھا کہ جب گھر کی خواتین کو باہر جانا ہوتا تو اردگرد کے علاقوں میں منادی کرا دی جاتی تاکہ ان خواتین سے کسی کا آمنا سامنا نہ ہو جائے۔ کہا جاتا ہے کہ آگے چل کر یہی سختیاں بیٹوں کے ہاتھوں ملک امیر محمد خان کے قتل کا سبب بنیں۔ نواب آف کالا باغ کا ان بیٹے ملک اللہ یار کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تھا اور فائرنگ کے تبادلے میں وہ ہلاک ہو گئے تھے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ نواب کو ان کی اہلیہ نے قتل کیا تھا اور والدہ کو بچانے کے لیے بیٹے نے قتل کا ذمہ اپنے سر لے لیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ عائلہ ملک کی والدہ کو پردہ نہ کرنے پر نواب آف کالا باغ نے تھپڑ دے مارا تھا جس کے جواب میں عائلہ ملک کی والدہ نے انہیں قتل کر دیا تھا۔

سابق صدر فاروق احمد خان لغاری عائلہ ملک کے ماموں ہیں جبکہ عائلہ کی ایک بہن فاروق لغاری کے بیٹے اویس لغاری کی اہلیہ ہیں جو اس وقت پنجاب اسمبلی کے ممبر ہیں۔ عائلہ ملک نے فروبلز انٹرنیشنل سکول اسلام آباد سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور راولپنڈی کے ایک کالج سے انٹرمیڈیٹ کرنے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ان کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے روس کی ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی سے گریجویشن کی تھی تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو لکھے گئے خط کے جواب میں روس کی یونیورسٹی نے عائلہ ملک کے اس دعوے کی تردید کر دی۔ عائلہ ملک نے صحافتی زندگی کی ابتدا دنیا نیوز پر ایک ٹاک شو Situation Room کی میزبانی سے کی جس میں انہوں نے عمران  کا بھی کئی بار انٹرویو کیا۔ وہ دو مرتبہ شادی کے بندھن میں بندھیں۔ انکی پہلی شادی ملک ضیاء سے ہوئی۔ عائلہ کے بقول ملک ضیاء کا خاندان بہت زیادہ لبرل روایات والا تھا اور قدامت پسند ماحول میں ہونے والی ہماری تربیت کی وجہ سے دونوں خاندانوں میں تال میل نہ پیدا ہو سکا۔ دوسری شادی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچ سردار یار محمد رند سے ہوئی۔ یار رند مشرف دور میں مسلم لیگ (ق) کا حصہ تھے اور خوراک و زراعت کے وفاقی وزیر تھے۔ بعد میں انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ دونوں شوہروں سے عائلہ ملک کی ایک ایک بیٹی ہے۔

سردار یار محمد رند قبائلی روایات کے مطابق عائلہ ملک کو چار دیواری میں قید کر کے رکھنا چاہتے تھے۔ اس دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی ان کا آنا جانا خاصا مشکل ہو گیا تھا۔ ان پر شرط عائد کی گئی تھی کہ وہ اجلاس میں برقع پہن کر جائیں گی اور جب تک ان کی شادی برقرار رہی وہ برقع پہن کر قومی اسمبلی میں آتی رہیں۔ اسی سختی کے باعث سردار یار محمد رند سے ان کے اختلاف پیدا ہو گئے اور یوں یہ شادی بھی محض سال بعد ختم ہو گئی۔

عائلہ ملک کے حوالے سے ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ پاکستانی سنیما کی مشہور اداکارہ میڈم شمیم آرا کی بہو بھی رہیں۔ یاد رہے کہ عائلہ ملک کے دوسرے شوہر سردار یار محمد رند کے والد سردار خان رند نے اپنے دور کی مشہور لالی ووڈ ہیروئین میڈم شمیم آرا سے شادی کی تھی مگر عائلہ کیطرح شمیم آرا کی شادی بھی زیادہ دیر نہیں چل سکی تھی۔ بعض لوگ شمیم آرا کی شادی کی ناکامی کی یہی وجہ بیان کرتے ہیں کہ شوہر انہیں قبائلی روایات کے مطابق برقعے میں رکھنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے شمیم آرا نے کچھ عرصے بعد علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اگرچہ یہ شادی ختم ہو گئی تھی مگر پھر بھی اس پہلو سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ میڈم شمیم آرا عائلہ ملک کی سابق ساس تھیں۔

1998 میں اپنے ماموں فاروق لغاری کی زیر قیادت ملت پارٹی کی رکن بن کر عائلہ ملک نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ جلد ہی انہیں پارٹی کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا۔ 2002 کے عام انتخابات میں فاروق لغاری کی ملت پارٹی نیشنل الائنس کا حصہ تھی جس نے ملک بھر سے 13 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ عائلہ ملک 2002 سے 2007 تک نیشنل الائنس کی جانب سے مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کی رکن رہیں۔ ان کی بڑی بہن سمیرا ملک اسی دوران انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اسمبلی کا حصہ بنی تھیں۔ دونوں بہنیں ایک ہی وقت میں قومی اسمبلی کی رکن رہیں۔

2011 میں عائلہ ملک نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ملک کو اسوقت جس طرح کی قیادت کی ضرورت ہے وہ صرف عمران خان کی صورت میں مل سکتی ہے کیونکہ عمران واحد سیاسی شخصیت ہیں جو بے لوث ہیں، اپنی ذات کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ ہمیشہ عوام کے بارے فکرمند رہتے ہیں۔

2013 کے عام انتخابات سے پہلے میانوالی میں الیکشن کمپین عمران خان نے عائلہ ملک کو سونپی اور بھرپور مہم کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے میانوالی کی ساری سیٹوں پر کامیابی حاصل کر لی۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے 2013 کے عام انتخابات میں تین حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی جن میں سے ایک حلقہ میانوالی کا این اے 71 بھی تھا۔ عمران  نے میانوالی میں اپنے آبائی شہر کی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنی خالی کی گئی سیٹ پر عائلہ ملک کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم ڈگری سکینڈل کے باعث عائلہ ضمنی انتخاب میں حصہ نہ لے سکیں کیونکہ انہیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ عائلہ کی ایف اے کی ڈگری کو مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ان کے مخالف امیدوار اور عمران کے کزن عبیداللہ شادی خیل نے لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔ 30 جولائی 2013 کو جسٹس مامون رشید اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل راولپنڈی بینچ کے دو رکنی الیکشن ٹربیونل نے فیصلہ سنایا اور انہیں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل کر دیا۔ عائلہ ملک کی نااہلی کے بعد ان کی عمران سے دوریاں پیدا ہوتی گئیں اور دونوں کے راستے تب جدا ہو گئے جب 2018 کے عام انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا۔ عمران خان نے نواب آف کالا باغ ملک وحید خان، نوابزادہ ملک امیر محمد خان اور عائلہ ملک کو میانوالی سے پارٹی ٹکٹ دینے سے معذرت کر لی۔ اس کے بعد نواب آف کالا باغ اور عائلہ نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ انہوں نے تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور 2018 کے عام انتخابات میں وہ عمران کے مقابلے میں حصہ لے کر انہیں شکست سے دوچار کریں گے۔ تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

2011 میں تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد سے ان کے اور عمران کے خفیہ تعلقات کے بارے میں چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں۔ میانوالی سے پی ٹی آئی کے کارکنان اور پارٹی کی مرکزی قیادت نے جلد ہی محسوس کرنا شروع کر دیا کہ عائلہ کو ترجیحی مراعات اور توجہ دی جا رہی ہے۔ ان قربتوں کی کئی حوالوں سے تصدیق بھی ہوئی۔ عمران کی سابق اہلیہ ریحام خان اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ایک مرتبہ عائلہ ملک کے بوائے فرینڈ بنی گالا میں عمران خان کے پاس پہنچ گئے اور کہا کہ اگر وہ عائلہ سے شادی کرنے میں سنجیدہ ہیں تو اعلان کریں ورنہ اس سے پیچھے ہٹ جائیں کیونکہ وہ عائلہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے بعد عمران خان نے عائلہ ملک سے دوری اختیار کر لی تھی۔

میانوالی سے تعلق رکھنے والے عمران خان کے چچا زاد بھائی اور پی ٹی آئی کے سابق اراکین انعام اللہ نیازی اور حفیظ اللہ نیازی کی عمران خان سے ناراضگی کو اگرچہ پارٹی ٹکٹ نہ دیے جانے کو قرار دیا جاتا ہے تاہم چچا زاد بھائیوں میں اس پھوٹ کی وجہ بھی عائلہ ملک تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان اور عائلہ ملک کے تعلق سے متعلق میانوالی کے حلقوں میں بہت قابل اعتراض باتیں شروع ہو گئی تھیں اور اس خفت کے باعث انعام اللہ نیازی عائلہ ملک کے خلاف ہو گئے تھے۔ مگر ان کے اس اختلاف کی وجہ سے عائلہ ملک تو وہیں کی وہیں رہیں، خود انہیں ہی پارٹی ٹکٹ سے محروم ہونا پڑا۔

عائلہ ملک نے بہت جلد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سیل کو اپنے قبضے میں لے لیا اور عمران خان نے اس قبضے کی مکمل سرپرستی کی۔ احمد جواد پی ٹی آئی کے وہ کارکن ہیں جنہوں نے پارٹی کے لیے سوشل میڈیا سیل شروع کیا تھا، یوٹیوب پر موجود ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ ایک دن جب وہ میڈیا سیل میں داخل ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ وہ کون ہیں اور کس لیے آئے ہیں۔ احمد جواد بتاتے ہیں کہ انہوں نے عائلہ ملک کے اس رویے کی شکایت عمران کو لگائی تو عمران خان نے جواب دیا کہ عائلہ ملک کو ان چیزوں کا شوق ہے، اسے چار دن یہ کام کر لینے دو۔ پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس منحرف پارٹی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔ اس کیس کی حمایت میں انہوں نے جو دستاویزات پیش کیں ان میں سے ایک ڈاکیومنٹ میں یہ بھی درج ہے کہ عائلہ ملک کو پارٹی فنڈ میں سے 70 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں مگر اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ انہیں یہ فنڈ کس حیثیت میں دیے گئے۔ اس فنڈ کے اجرا کی کوئی بھی خاطر خواہ توجیہہ پی ٹی آئی آج تک عدالت میں بھی نہیں پیش کر سکی جس سے یہ معاملہ مشکوک نظر آتا ہے۔

Back to top button