باجوہ ڈاکٹرائن اور پراجیکٹ عمران کا دھڑن تختہ کیسے ہوا؟

سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرائن دینے والے جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اپنی اننگز کھیل کر رخصت ہوئے مگر جاتے جاتے ورثے میں غیر آئینی سیاسی مداخلت کا اعتراف چھوڑ گئے۔ تاہم انکے اس اعتراف اور انکار کے بیچ اب نئے آنے والے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے پاس پچھتاوے کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ تمام نظریں جنرل عاصم منیر کی جانب ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ فوج کو غیر سیاسی بنانے کے اعلان پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔

 

بی بی سی کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی جنرل قمر باجوہ کو الوداع کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وقت کبھی کسی کا ہوا ہے نہ کبھی کسی کا ہو گا۔ وقت کی رفتار کو قابو کرنے والے خود کو اپنی ذات اور انا سے آزاد کرتے ہیں تب کہیں وقت ان کی قید میں ہوتا ہے۔ چنانچہ بالآخر جنرل باجوہ کے چھ سال بھی اختتام کو پہنچے۔ عہدے مدت کی حد سے باہر بھی ہوں تب بھی ایک دن وقت نے اعلان کرنا ہوتا ہے کہ اب آپ کا وقت ختم ہوا۔ جنرل باجوہ چھ برس قبل نوازشریف کا انتخاب بنے۔ کندھے پر پھول لگے اور ہاتھ میں چھڑی آئی تو انہیں ڈان لیکس ورثے میں ملی۔ آئی ایس پی آر ترجمان کی جانب سے ایک حکومتی ٹویٹ ’مسترد‘ کرنے کا پچھتاوا جنرل باجوہ کو وقت کے وزیر اعظم کے پاس معذرت کے لیے لے گیا۔ جنرل باجوہ نے اپنے ایک خطاب کے دوران ذکر کیا کہ اس ملاقات کے دوران اُنھوں نے نواز شریف سے پوچھا کہ یقیناً آپ کو ہمارا ردعمل بُرا لگا ہو گا تو نواز شریف نے جواب میں کہا کہ جنرل صاحب، بس کوئی فیصلہ غصے کے وقت مت کیا کریں۔ جنرل باجوہ نے اس پر کتنا عمل کیا اس کا اظہار اُس کے بعد تواتر سے کیے جانے والے فیصلے تھے یا شاید ادارے کا ہی فیصلہ کہ سیاسی کھیل نے اُس وقت کے وزیرِ اعظم کو گھر جانے پر مجبور کر دیا۔

 

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ فوج کا ادارہ سیاسی تھا یا سیاست ادارے میں تھی بہرحال گذشتہ چھ برس میں پانچ وزرائے اعظم آئے اور گئے مگر نہ گئے تو جنرل باجوہ گھر نہ گئے۔ 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن سے قبل ادارے نے عمران خان کی صورت میں صادق اور امین قیادت ’تخلیق‘ کر لی تھی اور اس ’فخریہ پیشکش‘ کی نمائش زور و شور سے جاری تھی۔ سیاست، صحافت، سماج، اُستاد، جج، سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ہر تنقید نگار کو پراجیکٹ عمران کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا۔ حالات یہ تھے کہ ایک ’چھو منتر‘ آواز تو کیا پورا انسان غائب کر دیتا، ایسے میں خوف کا راج تھا اور سب انتظامات فقط اپنے من پسند کو صاحب اقتدار لانے کے لیے کیے جا رہے تھے۔ جب فوج کا ادارہ یہ سب کر رہا تھا تب جنرل باجوہ اس کے سربراہ تھے اور جنرل فیض حمید اپنا کردار بخوبی نبھا رہے تھے۔ سیاسی مداخلت حد سے بڑھ چکی تھی مگر ’باجوہ ڈاکٹرائن‘ کے چرچے ہر سُو تھے۔

 

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ انڈیا کے ساتھ مشرقی سرحد پر جنرل باجوہ نے کامیاب اور طویل سیزفائر پر عملدرآمد کیا۔ ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کے خاتمے کے لیے جی ایچ کیو میں خصوصی برانچ نے چار سال خصوصی طور پر کام کیا تب پاکستان کو کامیابی ملی۔ گذشتہ چھ برسوں میں کیا ہی کوئی اہم عالمی شخصیت ہو گی جس نے پاکستان کا دورہ کیا ہو اور اُس کا رُخ راولپنڈی کی جانب نہ ہوا ہو۔ یہ کمال ایک صفحے کی حکومت کا تھا کہ خارجہ پالیسی سے لے کر بجٹ کی منظوری تک جی ایچ کیو ہر کام میں شریک رہا۔ ایک صفحے کی حکومت کی ہر تحریر ایک ہی قلم سے لکھی گئی اور شاید اس صفحے کے سب کرداروں کا منطقی انجام بھی ایک ہی قلم کی نذر ہوا۔ جنرل باجوہ ہائبرڈ رجیم کے خالق تو نہیں مگر روح رواں ضرور بنے۔ فروری 2021 میں اس صفحے کی آخری تحریر بھی جنرل باجوہ نے ہی لکھی جب اُنھوں نے سینیٹ انتخاب میں عمران خان کی حکومت کو اپنے مسائل سے خود نمٹنے کا مشورہ دیا۔

 

عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی ڈوبتی کشتی سے چھلانگ لگاتے وقت ادارے نے کپتان کو حفاظتی بیلٹ بھی باندھی اور اُنھیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا پورا وقت بھی دیا۔ایک ایسے وقت پر جنرل باجوہ نے پراجیکٹ عمران سے مُنہ موڑا کہ جس کا خود عمران خان کو بھی اندازہ نہ تھا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر خان صاحب نے جو پھڈا ڈالا وہ انکے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ لیکن جب خان کو اپنا اقتدار ختم ہوتا نظر آیا تو اس نے ایک شاطر چال چلتے ہوئے ’امریکی سازش‘ کا بیانیہ اپنا لیا۔ جنرل باجوہ کو میر جعفر اور میر صادق کے طعنے اور ان پر ہونے والی الزام تراشی نے اس خلیج کو اس قدر وسیع کر دیا کہ ادارے میں ’کتھارسس‘ کا عمل سیاست میں عدم مداخلت کے اعلان پر ختم ہوا۔ جنرل باجوہ تحریک انصاف پر قربان ہوئے اور یہ اعتراف خود جنرل باجوہ کا ہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ادارہ سیاست میں عمل دخل چھوڑ دے گا؟ جنرل باجوہ نے جاتے جاتے غیر سیاسی ہونے کا اعلان تو کردیا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اگلا آرمی چیف اس پر عمل درآمد کرتا ہے یا نہیں؟ یہی نئے آرمی چیف کا اصل امتحان ہو گا۔ ہمیں ایسا پاکستان چاہئے جہاں فوج کا ادارہ سیاست سے بالاتر رہے اور شہری اپنے آئینی حقوق حاصل کریں، لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو، آئین کی عمل داری ہو اور قانون کا بول بالا ہو۔ نئے آرمی چیف کو اب یہ سوچنا ہو گا کہ ملک کسی اور تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

 

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ جنرل قمر باجوہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے حساب میں گِھرے تو یہ ضرور سوچیں گے کہ جو ہوا نا ہوتا تو اچھا ہوتا۔ کاش چھ سال پہلے اسی وقت کے دروازے پر کھڑے چند فیصلے پچھتاوے نا بنتے اور یوں آج یہ معاشی اور سیاسی بحران میں گھرا دور یوں اختتام پذیر نا ہوتا۔

Back to top button