کیا عمران خان استعفوں کا اعلان کرکے پھنس چکے ہیں؟

سابق وزیراعظم عمران خان نے صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے وہ حکومت کے لیے مشکل پیدا کرنے کی بجائے خود بڑی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ حالانکہ وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ عمران خان کے حکم پر فوراً اسمبلی توڑ دیں گے تاہم ق لیگ کے کئی اراکین اسمبلی کو اس حوالے سے تحفظات ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان سے ارکان اسمبلی بھی کپتان کے حکم پرعمل درآمد کو تیار نہیں اور وہاں پارٹی میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔ البتہ صوبہ خیبر پختونحوامیں تحریک انصاف نے استعفوں سے متعلق تیاریاں تیز کر دی ہیں اور اگلے چند روز میں تمام استعفے وزیراعلیٰ کے پاس جمع کرانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔

 

اسی دوران پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے بھی عمران خان کے استعفوں کے اعلان سے نمٹنے کے لیے غور شروع کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے بعد راولپنڈی کے جلسے میں عمران نے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کئے بغیر ہی اسمبلیوں سے باہر آنے کا اعلان کر دیا تھا جس پر اتحادیوں کی جانب سے مختلف تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔ اس اعلان کی تائید میں صرف مسلم لیگ ق کی طرف سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ وہ عمران کے کہنے پر فوراً اسمبلی توڑ دیں گے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ق لیگ کے کئی ارکان ایسے ہیں، جن کو اس حوالے سے تحفظات ہیں جن کا اظہار انہوں نے اپنی پارٹی قیادت سے بھی کیا ہے۔ جبکہ بلوچستان میں بھی ان کے ارکان اسمبلی کی طرف سے مزاحمت سامنے آئی ہے اور وہاں پھوٹ پڑ چکی ہے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاں تک پرویز الٰہی کا معاملہ ہے، تو انہوں نے صرف دس نشستوں کے ساتھ پی ٹی آئی سے وزراتِ اعلیٰ حاصل کی ہے۔ ان کے پاس مذکورہ بیان کے سوا کوئی چارا نہیں۔ پھر اس بیان میں بھی عمران خان کو چودھری پرویز الٰہی نے صرف امانت لوٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ واضح نہیں  کہ وہ ان سے مشاورت بھی کریں گے یا ہوچکی ہے اور اس میں رائے کیا دیں گے۔ تاہم مسلم لیگ ق کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورت کی صورت میں ممکنہ طور پر عمران خان کو اپنے اعلان پر نظر ثانی کا مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ بیشتر ق لیگ کے ارکان اسمبلی  استعفوں کے حق میں نہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ’ن‘ کی جانب سے پنجاب کے صدر اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ واضح کرچکے ہیں کہ عمران خان کو پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا خواب پورا نہیں کرنے دیں گے اور اس سے پہلے ہی تیار ریکوزیشن جمع کرادی جائے گی۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبائی پارلیمنٹ پنجاب اسمبلی کے تین سو اکہتر کے ایوان میں تحریکِ انصاف اور اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے پاس 190 نشستیں ہیں۔ ان میں سے پی ٹی آئی کی 180 اور مسلم لیگ ق کی دس سیٹیں ہیں۔ اس کے برعکس مسلم لیگ ’ن‘ 168، پیپلز پارٹی سات، راہِ حق پارٹی ایک اور پانچ آزاد ارکان کو ملا کر کل 180 نشستیں ہیں۔ جبکہ اس ایوان میں ایک غیر فعال نشست آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے چوہدری نثارعلی خان کی ہے۔ جنہوں نے حلف کسی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

 

نون لیگی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے کچھ لوگ نون لیگ سے رابطے میں ہیں اور کچھ کے براہِ راست رابطے لندن سے ہیں۔ عمران کے اسمبلیوں سے باہر آنے کے اعلان کے بعد ان ارکان کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن اراکین کو ہنگامی تیاری کی ہدایت کردی گئی ہے۔ جس میں مختصر نوٹس پر لاہور پہنچنا یقینی بنانا شامل ہے۔ ان ذرائع کے بقول پنجاب میں اپوزیشن کے پاس ایک موشن وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تیاری ہے اور دوسرا یہ کہ جیسے ہی پی ٹی آئی عمران خان کے اعلان کے مطابق اسمبلی توڑنے کا فیصلہ تک پہنچے گی۔ اس سے پہلے ہی چار سے پانچ پی ٹی آئی اراکین اپنی جماعت اور وزیراعلیٰ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے استعفے دیدیں گے تو وزیر اعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کو کہا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان اپنے فیصلے اتحادیوں پر مسلط کریں گے تو اس کے نتائج خود بھگتیں گے اور پنجاب کی حکومت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ پی ٹی آئی کا جواب مضبوط حکمتِ عملی سے دیا جائے گا۔

 

دوسری جانب عمران خان کی صدارت میں ان کے آبائی گھر زمان پارک میں پی ٹی آئی کے رہنمائوں کا اجلاس ہوا۔ جس میں سیکریٹری جنرل اسد عمر، وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی، صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان، پنجاب کے سینئر وزیر اسلم اقبال، اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان سمیت دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں عمران خان کے فیصلے پر عملدرآمد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آئینی و قانونی صورتحال پر غور کیا گیا۔ سیاسی صورت حال کے حوالے سے عمران نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز کے سامنے کوئی امیدوار ٹھہر نہیں پائے گا۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کو پنجاب حکومت چھوڑنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی اور تمام اتحادیوں سے مکمل مشاورت کی تجویز بھی دی گئی۔

 

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے سر جوڑ لئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا بھی اجلاس جلد متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن آسانی سے تحریک انصاف کو اسمبلی تحلیل کرنے نہیں دے گی اور اس کے خلاف ممکنہ جدوجہد کی جائے گی۔ لائحہ عمل طے کرنے کے بعد اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ تاہم ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کو تحلیل کرنے کے بجائے تحریک انصاف کے ارکان کے اسمبلی کے مستعفی ہونے سے بھی اسمبلی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گی اور خود بخود تحلیل ہو جائے گی۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 95، جبکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد 50 ہے۔ جن میں جماعت اسلامی کے تین اور بلوچستان عوامی پارٹی کے بھی چار ارکان شامل ہیں۔ صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے بجائے اگر پی ٹی آئی ارکان استعفے دیتے ہیں تو اس صورت میں حکومت سازی کیلئے درکار 73 ارکان موجود نہیں ہوں گے۔ جس کے باعث صوبائی اسمبلی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ جبکہ وزیراعلیٰ اگر صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی ایڈوائس گورنر کو ارسال کرتے ہیں تو 48 گھنٹوں میں گورنر کی جانب سے اس کی توثیق نہ کرنے کے باوجود اسمبلی از خود تحلیل ہو جائے گی۔ تاہم اگر اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کی ایڈوائس سے پہلے ہی ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی تو اس صورت میں مذکورہ تحریک عدم اعتماد پر کارروائی مکمل ہونے تک وزیراعلیٰ کا اسمبلی تحلیل کے لئے ایڈوائس دینے کا اختیار معطل رہے گا۔

Back to top button