’باجوہ ڈاکٹرائن‘ کے خالق کے 6 سالہ متنازع دور کی کہانی

چھ سال تک پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا متنازعہ دور بالاخر اختتام پذیر ہو گیا۔ اس دوران موصوف نے ایک ایکسٹینشن لی اور دو وزرائے اعظم کو گھر بھجوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ باجوہ نے عمران خان کو برسر اقتدار لاکر ہائیبرڈ نظام حکومت بھی تشکیل دیا جس میں فوج بیک سیٹ ڈرائیونگ کر رہی تھی۔ لیکن یہ نظام ناکام ہو کر منہ کے بل جا گرا اور باجوہ ڈاکٹرائن کے تحت کیا جانے والا یہ تجربہ بھی ناکام ہوگیا۔ تاہم زیادتی یہ ہوئی کہ جس شخص کو اقتدار میں لانے کے لیے جنرل باجوہ نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو استعمال کرتے ہوئے 2018 کے الیکشن میں تاریخی دھاندلی کروائی، وہی شخص آج فوج کے گریبان پر ہاتھ ڈالے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ لہذا جنرل قمر باجوہ کا نام پاکستانی سیاسی تاریخ میں اچھے الفاظ میں نہیں لکھا جائے گا۔
چھ سال قبل بری فوج کے سپہ سالار کی اہم ترین ذمہ داری جن حالات میں جنرل قمر باجوہ کو سونپی گئی تھی، آج صورت حال اندرونی اور بیرونی محاذوں پر اس سے بہت مختلف ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے فوجی سربراہ کے لیے جنرل باجوہ کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انڈیپنڈنٹ اردو کی خصوصی رپورٹ کے مطابق جنرل قمر باجوہ کو نومبر 2016 میں پاکستانی فوج کے دسویں سربراہ کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ جن ان کی تین سالہ مدت مکمل ہونے جا رہی تھی تو سیاسی و قانونی ہیجان کے دوران تب کے وزیراعظم عمران خان نے علاقائی سکیورٹی حالات کو وجہ بتاتے ہوئے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی مزید توسیع کر دی تھی۔
توسیع اور اس عمل کے لیے غیر معمولی قانونی سازی پر ایاز امیر جیسے عمران خان کے حامی تجزیہ کار بھی کڑی تنقید کرتے ہیں کیوں کہ انہوں نے آرمی چیف کی مدت ملازت میں توسیع کے لیے نہ صرف ایسی قانون سازی کروائی جس کا ماضی میں کوئی وجود نہیں تھا بلکہ اس کو عدالتی حکم کے تحت باضابطہ شکل دے کر اس سارے عمل کو تحفظ بھی دیا۔
باجوہ پہلے فوجی سربراہ تھے جن کے چھ سالہ دور میں دو وزرائے اعظم کو اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونا پڑا۔ پہلے نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت اور پھر عمران خان عدم اعتماد کے ووٹ کے ہاتھوں عہدوں پر برقرار نہ رہے۔ لیکن دونوں مرتبہ وزرائے اعظم کو نکالنے کا الزام جنرل باجوہ پر آیا۔ 11 نومبر 1960 کو کراچی میں پیدا ہونے والے جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب فوج کی کمان سنبھالی تو ملک کو کئی سنگین مسائل درپیش تھے۔ نواز شریف نے انہیں سنیارٹی اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئے آرمی چیف مقرر کیا تھا حالانکہ ان پر قادیانی ہونے کا الزام بھی عائد کیا جاتا تھا۔ ملک کو شدت پسندی کے خلاف جاری جنگ سے نکالنے کا مشکل ٹاسک انہوں نے کسی حد تک جاری رکھا، افغانستان میں ایک بڑی تبدیلی گذشتہ برس ان کے دور میں سامنے آئی، انڈیا کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی اور بلوچستان کا قدرے دائمی مسئلہ بھی انہیں مصروف رکھنے کے لیے کافی تھا۔جنرل باجوہ کو چھ سال کے دوران ملک کی تقریباً تمام ہی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کبھی دبے الفاظ اور کبھی کھلے عام تنقید کا سامنے رہا۔
پہلے تین سال کے دوران جنرل باجوہ کو 2018 کے متنازع انتخابات میں کردار پر اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں نے آڑے ہاتھ لیا لیکن بعدازاں ان کی مدت ملازمت کے آخری سال اس سیاسی شخصیت کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا جن کے ساتھ کئی برسوں تک وہ ’ایک پیج‘ پر رہے۔ سال 2022 شاید ان کی قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوا جب عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد فوج اور ان کی ذات پر کھل کر تنقید ہوئی۔ویسے تو پہلے دن سے سیاسی تنازعات نے انہیں گھیرے رکھا لیکن شاید یہ پاکستانی فوج کی تاریخ میں ایسا غیرمعمولی واقعہ تھا جس سے نمٹنے اور اپنے دفاع کے لیے انہیں حساس ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سربراہ کو پریس کانفرنس میں سامنے لانا پڑا۔
حکومت اور ملٹری کے درمیان چار سال تک ’ون پیج‘ کا بیانیہ 2022 کے مارچ میں عمران حکومت کے خاتمے سے چند ماہ قبل ختم ہو گیا، لیکن اپنے الوداعی خطاب میں جنرل باجوہ نے کہا کہ فوج نے گذشتہ برس فروری میں سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم حقیقت تاہم حقیقت یہ ہے کہ اپنے چھ سالہ دور میں جنرل باجوا نے فوج کو سیاست میں جتنا گھسیڑ دیا ہے، اسے نکالنے میں وقت لگے گا۔
