باچا خان کو سرحدی گاندھی کیوں کہا جاتا ہے؟

مہاتما گاندھی کے ہم عصر اور انہی کہ طرح فلسفہ عدم تشدد کے علمبردار معروف پختون راہنما خان عبدالغفار خان عرف باچا خان نے اپنی مثالی شخصیت اور قائدانہ صلاحتیوں کی بدولت متحدہ ہندوستان میں بسنے والے پختونوں کو سیاسی اور سماجی طور پر متحرک کیا اور سرحدی گاندھی کہلائے۔ ان سے متاثر ہوکر لاکھوں افراد نے ان کی خدائی خدمتگار تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ خان عبدالغفار خان اپنے پیروکاروں کے لیے باچا خان تھے اور انڈیا کی تحریک آزادی کے چند اہم ترین راہمناؤں میں سے ایک تھے۔
تقسیمِ ہند کے بعد بعض عاقبت نااندیش حلقوں نے اپنی ذاتی سیاسی مفادات کی وجہ سے پاکستان میں ان کی شخصیت کو مسخ کرکے پیش کیااور عدم تشدد کے فلسفے کو پروان چڑھانے کے باوجود ان پر غداری کے فتوے لگائے گئے. اگر یہ کہا جائے کہ تقسیم برصغیر سے قبل اور پاکستان بننے کے بعد اس خطے میں جن رہنماؤں پر سب سے زیادہ غداری کے فتوے لگے، جلاوطن ہوئے اور لمبے لمبے عرصے تک جیلیں کاٹیں، اُن میں باچا خان کا نام سرفہرست ہے تو شاید بے جا نہ ہو۔
باچا خان کے بیٹے ولی خان اپنی کتاب ’خدائی خدمت گار تحریک‘ میں لکھتے ہیں کہ خدائی خدمت گار تحریک کے رہنماؤں اور اُن لوگوں کو ’پاکستان، اسلام اور قوم کا غدار‘ قرار دیا گیا جو سیاسی فرنٹ پر حکومت کی مخالفت کر رہے تھے جبکہ ان اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے جو آرڈیننس جاری کیا گیا اس میں اس بات پر بھی پابندی عائد کی گئی کہ ایسے سنگین جرائم کے تحت گرفتار یا نظربند ہونے والے افراد کسی عدالت کو اپنی صفائی یا وضاحت پیش نہیں کر سکتے تھے جبکہ ایسے افراد کی منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کا حق حکومت کو حاصل تھا۔
باچا خان کی گرفتاری اور خدائی خدمت گار تحریک کے کارکنوں اور رہنماؤں کی نظربندیوں کا شدید ردعمل ہوا۔باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب نے ان کارروائیوں کے خلاف بابڑہ نامی علاقے میں احتجاجی جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا مگر انھیں گرفتار کر لیا گیا۔
ڈاکٹر خان صاحب کی گرفتاری کے باوجود وقت مقررہ پر یعنی 12 اگست 1948 کو ہزاروں افراد بابڑہ میں اکٹھے ہوئے۔ اس وقت کی حکومت کے مطابق اس ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں نے کارروائی کی اور فائرنگ کے نتیجے میں دو درجن کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے جبکہ خدائی خدمت گاروں کے دعوے کے مطابق اس روز ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چھ سو کے قریب تھی۔
اس بڑے واقعے کے بعد صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ خان عبدالقیوم خان نے چوک یادگار پشاور میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’بابڑہ میں خدائی خدمت گاروں کو وہ سبق دیا جسے وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔‘’میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تو تب ان پر فائرنگ کی گئی۔ وہ خوش قسمت تھے کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہو گیا ورنہ وہاں سے ایک بھی آدمی زندہ بچ کر نہ جاتا۔ یہ انگریزوں کی نہیں مسلم لیگ کی حکومت ہے اور اس حکومت کا نام قیوم خان ہے۔ خدائی خدمت گار ملک کے غدار ہیں۔ میں ان کا نام و نشان مٹا دوں گا۔‘اس تمام تر صورتحال کے باوجود باچا خان نے عدم تشدد کا علم بلند کیے رکھا۔
اگر یہ کہا جائے کہ تقسیم برصغیر سے قبل اور پاکستان بننے کے بعد اس خطے میں جن رہنماؤں پر سب سے زیادہ غداری کے فتوے لگے، جلاوطن ہوئے اور لمبے لمبے عرصے تک جیلیں کاٹیں، اُن میں باچا خان کا نام سرفہرست ہے تو شاید ایسا بے جا نہ ہو۔
تاریخ چارسدہ سمیت کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر سہیل خان، باچا خان کی طویل قید کے حوالے سے اپنے مقالے میں لکھتے ہیں کہ باچا خان کو پہلی بار اپریل 1919 میں انگریز نے ’ریوولٹ ایکٹ‘ کے خلاف احتجاج پر گرفتار کیا، دسمبر 1919 میں دوسری مرتبہ انھیں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی دوسری شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔
وہ لکھتے ہیں کہ تیسری بار انھیں دسمبر 1921 میں اتمانزئی کے آزاد سکول میں بچوں کے لیے فٹبال گراونڈ بناتے ہوئے گرفتار کیا گیا، چوتھی بار انھیں نحقی کے مقام پر اپریل 1930 میں جلسے کے لیے پشاور جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا، پانچویں بار انھیں دسمبر 1931 میں گرفتار کیا گیا۔ ساتویں مرتبہ وہ اُس وقت گرفتار ہوئے جب کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے ’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘ کا اعلان کیا۔
ڈاکٹر سہیل کی تحقیق کے مطابق ان سات گرفتاریوں کا دورانیہ چودہ سال، چھ ماہ اور نو دن بنتا ہے جو پاکستان بننے سے پہلے کا ہے اور گرفتاریوں کا یہ سلسلہ پاکستان بننے کے بعد بھی دھرایا گیا اور وہ 12 مختلف مواقعوں پر گرفتار ہوئے اور کُل ملا کر گرفتاریوں کا یہ دورانیہ 39 برس بنتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد وہ پہلی بار 15 جون 1948 کو گرفتار ہوئے۔شاید یہی وجہ ہے کہ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ انھوں نے حریت کا سبق باچا خان سے سیکھا تھا۔
ڈاکٹر سہیل خان اپنی تحقیق کی بنیاد پر دعویٰ کرتے ہیں کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں کہ باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ گاندھی جی سے لیا کیونکہ جب باچا خان 1919 میں یہ فلسفہ پیش کر رہے تھے تو گاندھی جنوبی افریقہ میں تھے۔
ولی خان نے اپنی کتاب میں لکھا کہ گاندھی نے سنہ 1938 میں بابڑہ میں اپنی پہلی تقریر کی تو اس وقت وہاں پر 60، 70 ہزار لوگ موجود تھے اور اس جگہ تقریر کرتے ہوئے گاندھی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں عدم تشدد کا فلسفہ چلانا کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ وہاں کے لوگ ویسے بھی تشدد سے گھبراتے تھے لیکن وہ یہ معجزہ دیکھنے چارسدہ آئے ہیں تاکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ باچا خان نے اس قوم یعنی پختون کو کیسے عدم تشدد پر تیار کیا، جو اسلحے سے بھی لیس تھے، جذباتی بھی تھے اور اُن کو روکا جانا بھی آسان نہیں تھا۔
1988 میں 99 برس کی عمر میں وفات پانے والے باچا خان کو اُن کی وصیت کے مطابق افغانستان کے شہر جلال آباد میں دفنایا گیا، ایک ایسے وقت میں جب جلال آباد میں جنگ جاری تھی دونوں فریقین نے باچا خان کی تدفین کے لیے باضابطہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا تاکہ تدفین کا عمل مکمل ہو سکے۔
