بحرانوں میں گھری دنیا ایک اورسرد جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے بحرانوں میں گھری دنیا ایک اورسرد جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، میرا ماننا ہے کہ کووڈ 19 جیسے وبائی امراض اور یوکرین کے بحران سے متاثرہ عالمی معیشت کے لیے کشیدگی کے سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔
غیر ملکی جریدے نیوز ویک کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں شہباز شریف نے پاکستان کے سیاسی منظر نامے، اسلام آباد کے ساتھ چین، امریکا اور دیگر دوست ممالک کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا اگرچہ پاک-چین تعلقات بہت خاص ہیں، پاکستان اور امریکا نے دیرینہ تاریخی اور دوطرفہ تعلقات کو بھی برقرار رکھا ہے، جو باہمی دلچسپی کے تمام امور کا احاطہ کرتے ہیں۔
انکا کہناتھاتمام ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات سے خطے میں امن اور استحکام کے ساتھ ساتھ ترقی اور رابطہ کاری کو فروغ مل سکتا ہے، ہم خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ منسلک رہنے کے متمنی ہیں، ’دنیا میں کہیں بھی تنازعات کے عالمی سطح پر نتائج ہوتے ہیں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے۔
شہبازشریف نے کہا دنیا سرد جنگ یا بلاک کی سیاست کے ایک اور دور میں جانے کی گنجائش نہیں رکھتی، میرا ماننا ہے کہ کووڈ 19 جیسے وبائی امراض اور یوکرین کے بحران سے متاثرہ عالمی معیشت کے لیے کشیدگی کے سنگین نتائج پیدا ہوں گے، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پہلے ہی اپنی سماجی اور اقتصادی بہبود کے لیے بیرونی اثرات سے دوچار ہیں، اس لیے ایسے ممالک نہیں چاہتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کی آپسی دشمی سے ان چیلنجز میں اضافہ ہو۔
انہوں نے کہا تصادم نہیں بلکہ تعاون بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی محرک ہونا چاہیے، ایک سوال پر کہ کیا پاکستان، چین اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ‘دنیا کی تمام اقوام کے ساتھ دوستی اور خیر سگالی’ پر مبنی ہے، اگر چین اور امریکا چاہیں تو پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے گا، جیسا کہ ہم ماضی میں کر چکے ہیں۔
وزراعظم نےافغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا طویل تنازعات سے گریز، محفوظ انخلا یقینی بنانے، تارکین وطن کی آمد کو منظم کرنا اور انسانی امداد کو یقینی بنانے سمیت عالمی برادری کے خدشات پر نسبتاً تسلی بخش انداز میں نمٹا گیا، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ جڑے رہیں، سماجی اور اقتصادی شعبوں میں مدد کریں اور ملک کے منجمد مالیاتی اثاثیں بحال کردیں، ہم عبوری افغان حکومت کو ان کے وعدوں پر عمل کرنے پر زور دیتے رہیں گے، جن میں شمولیت سے متعلق تمام افغانوں کے انسانی حقوق کا احترام، بشمول لڑکیوں کی تعلیم، اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔
انہوں نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے بارت سوال پر کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ریاستی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، جس کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب کی گئی۔
شہباز شریف نے کہا چینی شہریوں کے خلاف دہشت گردی کے حملوں کے لیے پاک-چین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے خلاف دشمن قوتوں کی مدد سے حوصلہ افزائی کی گئی،ایسی قوتیں پاکستان کے چند حصوں خاص طور پر بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی نہیں دیکھنا چاہتی ہیں۔
وزیر اعظم نے قومی یکجہتی کے منصوبے پر زور دے کر کہا کہ پاکستان میں حکومت ‘آئینی عمل’ کے ذریعے تبدیل کی گئی، سیاسی جماعتیں ایک حکومت کا حصہ ہیں جنہوں نے 70 فیصد رائے دہندگان کی نمائندگی کی، جس سے موجودہ حکومت حقیقت میں ’قومی نوعیت’ کی ہے، ہماری حکومت، اقتصادی اصلاحات اور استحکام کے متفقہ قومی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے جو اس وقت اولین ترجیح ہے، ہم اپنے باہمی مفادات کی بنیاد پر دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے کے علاوہ گورننس کو مؤثر طریقے سے نبھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
انکا کہنا تھا جمہوریت کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے جو سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں، انہیں اپنے طریقے بہتر بنانے ہوں گے، سیاسی نظام کو تب ہی مضبوط کیا جاسکتا ہے جب بڑے پیمانے پر شہریوں کی حمایت حاصل ہو، جو کہ مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی کے ذریعے ممکن ہے، صرف دفتر میں اچھی کارکردگی پبلک آفس ہولڈرز کو کامیاب نہیں بنا سکتی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا تمام فریقین سے ان اصولوں پر اتفاق کرنے کا مطالبہ کیا جن میں لوگوں کی فلاح و بہبود سب سے اہم ہے، انتظامی مسائل تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کی شرکت اور مشاورت کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں، اس کام میں وقت لگ سکتا ہے لیکن یہ نظام کو مضبوط، لچکدار اور مؤثر بنانے کا واحد راستہ ہے۔
