پی آئی اے کے 6 ارب ڈالرزمالیت کے تین ہوٹل ضبط ہو گئے


نیب کی جانب سے پاکستانی سیاستدانوں کے بیرون ملک اثاثوں کا کھوج لگانے کی مہم جوئی میں ساڑھے 7 ارب روپے گنوانے کے فوری بعد پاکستانی خزانے پر ایک اور بڑا ڈاکہ پڑ گیا ہے۔ ریکوڈک کیس میں حکومت پاکستان کی جانب سے ہرجانہ کی ادائیگی کا معاملہ حل کرنے میں ناکامی کے بعد برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے پی آئی اے کے نیویارک اور پیرس میں واقع قیمتی ترین ہوٹلز اور دیگر اثاثے فروخت کرکے ریکوری کرنے کی منظوری دے دی ہے جس سے نہ صرف ملکی خزانے کو 6 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوگا بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر رسوائی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
لندن میں مقیم سنیئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ کے جج گیر ہارڈ وال بینک نے یکطرفہ فیصلہ سناتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیتھیان کمپنی کو 3.1 بلین ڈالر کی وصولی کا اختیار دے دیا۔ یہ فیصلہ برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ آف جسٹس کے جج نے عدالت میں پاکستانی وکیل کے غیر حاضر رہنے پر سنایا۔ یاد رہے کہ آسٹریلیا کی ایک سونا اور تانبہ نکالنے والی کمپنی ٹیتھیان نے حکومت پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری سے متعلق تنازعہ میں پاکستان کے خلاف 6 بلین ڈالر کی ادائیگی کا مطالبہ کر رکھا تھا۔ اب اس کیس میں برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے آسٹریلین کمپنی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور حکومت پاکستان کو جرمانے کی رقم ادا کرنے کے پابند کرنے کی خاطر نیویارک میں پی آئی اے کے ملکیتی روزویلٹ ہوٹل کے 100 فیصد اور نیویارک اور پیرس میں واقع پی آئی اے کے دو انتہائی قیمتی ہوٹلوں میں پاکستان کے شیئرز منجمد کر دیئے ہیں۔
پاکستانی خزانہ کے لئے اوپر تلے اربوں کے جھٹکوں کے باوجود اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اپنے رسمی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ہر سطح پر مقدمے کا سامنا کرے گا اور قومی اثاثوں کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس معاملے کو افہام وتفہیم کے ساتھ طے کرنا چاہتی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اس معاملے کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے کا موقع گنوا چکی ہے خصوصاً جب اس نے برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ میں اپنا کیس لڑنے کے لیے کوئی وکیل ہی کھڑا نہیں کیا۔
خیال رہے کہ حکومت پاکستان سے ہرجانہ طلب کرنے والی ٹیتھیان کاپر کمپنی آسٹریلیا کی بیرک گولڈ کارپوریشن اور چلی کی اینٹوفاگسا پی ایل سی کا برابر حصے کا جوائنٹ وینچر ہے جبکہ ریکوڈک دراصل جنوب مغربی بلوچستان میں واقع ایک ضلع ہے جو کہ اپنی معدنی دولت بشمول سونے اور تانبے کے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے۔ پاکستان کو ریکوڈک کیس میں برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ کیا جانب سے کیا جانے والا جرمانہ تقریباً 6 ارب ڈالر کے برابر ہے، اس میں کمپنی کے نقصان کا ہرجانہ اور سود شامل ہے جو مجموعی طور پر پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کے 2 فیصد کے برابر ہے۔
خیال رہے کہ ورلڈ بینک کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انسویسٹمنٹ ڈسپیوٹس جسے مختصراً آئی سی ایس آئی ڈی یا اکسڈ بھی کہا جاتا ہے، کے ٹریبونل میں پاکستان اور ٹیتھیان کاپر کمپنی کے درمیان یہ تنازع اس وقت زیر بحث آیا جب کمپنی نے 8 ارب 50 کرور ڈالر کا دعویٰ کیا جبکہ بلوچستان کی کان کنی اتھارٹی نے صوبے میں 2011 میں کئی ملین ڈالر کی کان کنی کی لیز دینے سے انکار کردیا تھا۔جولائی 2019 میں آئی سی ایس آئی ڈی ٹریبونل نے آسٹریلین کمپنی کو کان کنی کی لیز دینے سے انکار پر پاکستان کو 5 ارب 97 کروڑ ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔جس کے فوری بعد کمپنی نے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے کارروائی شروع کردی تھی۔ نومبر 2019 میں پاکستان نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہرجانے کی منسوخی کی درخواست کی تھی۔گذشتہ برس مارچ میں اٹارنی جنرل کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی حکومت ایسے مواقع تلاش کر رہی ہے جس کے تحت 5 ارب 90 کروڑ ڈالر کے جرمانے پر عملدرآمد پر حکم امتناع حاصل کیا جاسکے اور 8 نومبر 2019 کو انہوں نے آئی سی ایس آئی ڈی یا اکسڈ کے 12 جولائی 2019 کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ اس ہرجانے کی منسوخی کی درخواست کے ساتھ پاکستان نے 18 نومبر 2019 کو ہرجانے کے نفاذ کو عارضی طور پر معطل کرنے کی بھی درخواست دی تھی۔
چنانچہ پاکستان کو منسوخی کی کارروائی شروع ہونے پر عارضی حکم امتناع دے دیا گیا تھا۔ 16 ستمبر 2020 کو ٹریبونل نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ہرجانے کے نفاذ پر حکم امتناع کی تصدیق کی تھی۔ آئی سی ایس آئی ڈی یا اکسڈ اب بھی اس ہرجانے کے خلاف پاکستان کی اپیل پر غور کر رہی ہے جس کی آخری سماعت مئی2021 میں ہوگی۔ تاہم دوسری اب اس کمپنی نے اپنی رقم کے حصول کے لئے برطانیہ کی عدالت سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائزن کے اثاثے منجمد کرنے کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ حاصل کیا ہے جس کے باعث پاکستان کے قومی خزانے پر 6 ارب روپوں کا ایک بڑا ڈاکہ پڑنے جا رہا ہے جسکی پاکستان کی کمزور معیشت ہرگز متحمل نہیں ہوسکتی۔
لندن میں مقیم سنیئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ کی رپورٹ کے مطابق برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ کے جج گیر ہارڈ وال بینک نے یکطرفہ فیصلہ سناتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیتھیان کمپنی کو 3.1 بلین ڈالر کی وصولی کا اختیار دے دیا۔ اسی مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے پی آئی اے کی ملکیتی بی وی آئی کی 3 کمپنیوں کےشیئرز کے خلاف چارجنگ آرڈر بھی جاری کئے۔ ٹی سی سی نے 20نومبر 2020 کو بی وی آئی ہائیکورٹ میں پی آئی اے کی زیر ملکیت اثاثے اٹیچڈ کرنے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ اپنے حکم نے برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت نے پی آئی اے انوسٹمنٹس اور پی آئی اے ہوٹلز کیلئے جو نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل اور پیرس میں واقع سکرائب ہوٹل کے بالواسطہ مالک ہے، عارضی بنیادوں پر کیلو ایڈوائرزرز فرم سے تعلق رکھنے والے پال پریٹ لو کو وصول کنندہ مقرر کردیا ہے۔ یاد رہے کہ روزویلٹ ہوٹل 1924 میں قائم ہوا تھا، یہ وہی ہوٹل ہے جسےکرونا کی وجہ سے چند ہفتے قبل مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ عدالت کا مقرر کردہ ریسیور پی آئی اے کے ملکیتی دونوں ہوٹلز یعنی روز ویلٹ اور سکرائب ہوٹل کو مارکیٹ سے کم قیمت پر اونے پونے فروخت نہیں ہونے دے گا اور اس ہوٹل کی فروخت سے حاصل ہوٖنے والی رقم کی حفاظت کو یقینی بنائے گا اور اسے غلط ہاتھوں میں نہیں جانے دے گا۔ ایک ہزار کمروں پر مشتمل روزویلٹ ہوٹل کی موجودہ قیمت ایک بلین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ پی آئی اے نے پیرس میں واقع واحد فائیو سٹار ہوٹل سکرائب کم وبیش 18 سال قبل خریدا تھا،اس کی موجودہ مالیت 230 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب لمحہ فکریہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے روایتی سستی اور نااہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئےبی وی آئی ہائیکورٹ میں مقدمے کی پیروی کیلئے ابھی تک کسی کو مقرر نہیں کیا ہے لیکن عدالت نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کو لاہور کی ایک لافرم کے ذریعے حکومت پاکستان کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ یاد رہے کہ 2019 میں جرمنی کے پروفیسر ڈاکٹر کلاوس شاس ، بلغاریہ کے الیگزینڈروف سٹیننیمر اور برطانیہ کے لارڈ ہوفمین کی زیر صدارت اکسڈ ٹریبونل نے ریکوڈک میں کانکنی کیلئے ٹیتھیان کو لیز دینے سے انکار پر حکومت پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ اس مقدمے میں پاکستان نے جنوبی کوریا کے جونگی کم، میکسیکو کے بین الاقوامی عدالت انصاف کے سابق جج جسٹس برنارڈو اور فن لینڈ کے کیرٹا ویلگرن لنڈہوم کی زیرصدات اکسڈ بھی کہا جاتا ہے کی ایک کمیٹی کے سامنے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ اکتوبر میں کمیٹی نے فیصلہ دیا کہ ٹیتھیان نصف رقم وصول کرسکتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حکومت پاکستان کے وکلا فیصلے کی رقم کے 25 فیصد رقم کے مساوی بینک کی ناقابل تنسیخ گارنٹی یا لیٹر آف کریڈٹ فراہم نہیں کرسکے۔ ٹیتھیان نے یہ مقدمہ بی وی آئی ہائیکورٹ کی برٹش ورجن آئی لینڈ کے کمرشل ڈویژن میں اسلامی جمہوریہ پاکستان، پی آئی اے، پی آئی اے انوسٹمنٹس، منہال انکارپورٹیڈ کے خلاف اکسڈ پینل کی جانب سے پاکستان کے خلاف دیئے گئے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کیلئے دائر کیا تھا۔ یہ مقدمہ حکومت بلوچستان کی جانب سے 2011 میں ٹی سی سی کو ریکوڈک کے علاقے میں 3.3 بلین ڈالر مالیت کے سونے اور تانبے کی کان کنی کیلئے لیز دینے سے انکار پر دائر کیا گیا تھا۔ اس تنازعے کا کوئی تصفیہ نہ ہوسکنے پر ٹیتھیان کاپر کمپنی نے 2012 میں پاکستان کے خلاف اکسڈ میں مقدمہ دائر کردیا تھا، جس نے جولائی 2019 نے 4.08 بلین ڈالر جرمانہ اور1.87 بلین ڈالر سود سمیت 5.976 ڈالر ادائیگی کا حکم جاری کردیا تھا۔ اٹارنی جنرل پاکستان کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی نے ایوارڈ پر عملدرآمد کیلئے برٹش ورجن آئی لینڈز کے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں پی آئی اے سمیت بعض پاکستانی اداروں کے اثاثے اٹیچ کرنے کی استدعا کی گئی تھی اور اب اس کیس کا فیصلہ پاکستان کے خلاف ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button